دوسرا سبق
حرکات کی مدد سے ہجائے کوتاہ اور بلند کی پہچان
زیر، زبر اور پیش کو حرکت کہتے ہیں جس حرف پر حرکت یعنی زیر، زبر یا پیش ہو اسے متحرک کہتے ہیں اور جس حرف پر حرکت نہ ہو اسے ساکن کہتے ہیں۔
ہجائے کوتاہ
(ایک)
ایسا متحرک حرف جس کے بعد متحرک حرف ہو جیسے غَلَط میں "غ" ہجائے کوتاہ ہے کیوں کہ غ کے بعد ل بھی متحرک ہے اور کتاب میں "ک" کیوں کہ ک متحرک کے بعد ت بھی متحرک ہے۔
(دو)
ایسا ساکن جس سے پہلے ساکن ہو جیسے دور میں ر ہجائے کوتاہ ہے کیوں کہ ر ساکن سے پہلے و بھی ساکن ہے اور کتاب میں ب کیوں کہ ب سے پہلے الف بھی ساکن ہے۔
ہجائے بلند
ایک حرف متحرک کے بعد ایک حرف ساکن ہو تو دونوں مل کر ہجائے بلند بناتے ہیں۔ جیسے غلط میں لَط، دور میں دُو اور کتاب میں تَا ہجائے بلند ہیں۔
حرکات درست تلفظ کرنے میں مددگار ہوتی ہیں۔
عام طور پر ہم حرکات کا استعمال بہت کم کرتے ہیں۔ کسی لفظ کو لغت میں دیکھیں تو لفظ پر موجود حرکات درست تلفظ کی طرف رہنمائی کرتی ہیں۔ لفظ کا درست تلفظ معلوم کر کے اسے پڑھتے ہوئے آوازوں پر غور کریں۔ جتنی آوازیں برآمد ہوں گی لفظ میں اتنے ہجے ہوں گے۔ ایک حرفی آواز کو ہجائے کوتاہ کہیں گے اور دو حرفی آواز کو ہجائے بلند، جیسے لفظ شمار کی آوازوں پر غور کریں تو اس سے تین آوازیں برآمد ہوتی ہیں "شُ ما ر" پہلی اور تیسری آواز ایک حرفی ہے تو اسے ہجائے کوتاہ کہیں گے درمیان والی آواز دو حرفوں(م+ا=ما) سے مل کر بنی ہے تو اسے دوحرفی ہجا یا ہجائے بلند کہیں گے۔
یاد رکھنے کی بات
ہجائے بلند کو "طویل دورانیے کی آواز" اور ہجائے کوتاہ کو "مختصر دورانیے کی آواز" بھی کہتے ہیں۔
۔ ۔
پانچ حرفی الفاظ
لفظ رقابت کو پڑھتے ہوئے غور کریں تو اس سے تین آوازیں برآمد ہو رہی ہیں "ر۔قا۔بت"پہلی آواز ایک حرفی ہے دوسری اور تیسری آوازیں دو حرفی ہیں یعنی ایک ہجائے کوتاہ کے بعد دو ہجائے بلند ہیں علامتوں میں یوں ظاہر کریں گے۔
ا د د
محبت = م حب بت = ا د د، ب پر شَد ہے اس لیے دو بار گنا جائے گا۔
اطاعت = ا۔طا۔عت = ا د د
شگوفہ = ش۔گو۔فہ = ا د د
شمائل = ش۔ما۔ئل = ا د د
اور ان الفاظ کا وزن فعولُن ہے۔
فعولن = ف۔عو۔لن = ا د د
دوسری قسم
جستجو = جُس ت جو = د ا د
سامنا = سا۔م۔نا = د ا د
ٹوکری = ٹو۔ک۔ری = د ا د
فاعلن = فا۔ ع۔ لن = د ا د
عروضی وزن، فاعلن
۔ ۔
چھے حرفی الفاظ
دینیات = دی ۔ن۔ یا ۔ت = د ا د ا
دوربین = دو ۔ر ۔بی ۔ن = د ا د ا
طالبات = طا ۔ل ۔با ۔ت = د ا د ا
فاعلات = فا ۔ع ۔لا ۔ت = د ا د ا
۔ ۔
سات حرفی
چارپائی = چا۔ ر۔ پا۔ ئی = د ا د د
بے وفائی = بے۔ و۔ فا۔ ئی = د ا د د
وزن فاعلاتن
فاعلاتن = فا ۔ع۔ لا۔ تن = د ا د د
۔ ۔
نیا بستہ = ن۔ یا۔ بس۔ تہ = ا ددد
توانائی = ت۔ وا ۔نا۔ ئی = ا ددد
چرایا دل = چ۔ُ را ۔یا۔ دل = ا ددد
مفاعیلن = م۔ فا ۔عی ۔لن = ا ددد
پہلے سبق میں ہم نے تین حرفی الفاظ کی دو قسمیں پڑھی ہیں۔
پہلی قسم جس میں پہلا ہجا کوتاہ اور دوسرا ہجا بلند ہو جیسے وفا، حیا، صفا، گھڑی، کبھی، ابھی، مجھے، اسے، چلو، رکو، کرو
ان الفاظ کا وزن ہے فَعُو
دوسری جس میں ہجائے بلند پہلے اور کوتاہ بعد میں ہو جیسے یار، غار، آر، پار، پان، آج، بیر، خیر، سیر، چیل، جیل، دین، نور، طور، دیکھ
ان الفاظ کا وزن ہے فاع
چار حرفی الفاظ جیسے دلبر، چاہت، باجا، روٹی، چھوٹا، گاڑی، آنگن، گلشن، بولو، دیکھو،
ان الفاظ کا وزن ہے فِعْلن(ع ساکن ہے)
اب تین حرفی الفاظ کی پہلی قسم میں سے ایک لفظ لیں اور چار حرفی الفاظ میں سے ایک لفظ اس کے ساتھ ملا دیں جیسے
"مجھے دیکھو" لفظ "مجھے" تین حرفی الفاظ کی پہلی قسم کی مثالوں میں موجود ہے اور "دیکھو" چار حرفی الفاظ کی مثالوں میں موجود ہے۔
مجھے دیکھو= مُ۔جھے۔دے۔کھو = اددد
یا یوں
مُ۔جھے۔دے۔کھو
ا۔۔۔۔د ۔۔۔۔۔د ۔۔۔۔۔۔د
جیسے مفاعیلن
م۔فا۔عی۔لن
ا۔۔د ۔۔۔د ۔۔۔د
ہم نے دو الفاظ ملا کر "مفاعیلن" کا وزن پورا کر لیا مفاعیلن کا وزن ایک لفظ سے بھی پورا کیا جا سکتا ہے ایسا لفظ جس سے چار آوازیں برآمد ہو رہی ہوں ان میں سے پہلی دو آوازیں تین حرفی الفاظ کی پہلی قسم سے ہوں اور دوسری دو آوازیں چار حرفی الفاظ کی جو قسم ہم نے پڑھی ہے اس سے ہوں جیسے "تماشائی" چار آوازیں "ت۔ما۔شا۔ئی"پہلی دو آوازیں "ت۔ما" لفظ "مجھے" کی طرح ہیں یعنی پہلا ہجا، ہجائے کوتاہ اور دوسرا ہجا، ہجائے بلند ہے اور دوسری دو آوازیں "شا۔ئی" چار حرفی الفاظ کی طرح ہیں یعنی دونوں ہجے ہجائے بلند ہیں پورا لفظ ہو گیا
تماشائی = ت۔ما۔شا۔ئی = اددد
یا
ت۔ما۔شا۔ئی
ا۔۔۔۔ د ۔۔۔د ۔ د
اسی طرح "یار بولو"
لفظ "یار" تین حرفی الفاظ کی دوسری قسم کی مثالوں میں سے لیا ہے اور "بولو" چار حرفی الفاظ کی مثالوں میں سے لیا ہے۔
یار بولو = یا۔ر۔بو۔لو = دادد
اسی طرح فاعلاتن
فا۔ع۔لا۔تن
د ۔ا۔ د ۔ د
تو ہم نے دو الفاظ ملا کر فاعلاتن کا وزن پورا کرلیا یہ وزن ایک لفظ سے بھی پورا کیا جا سکتا ہے ایسا لفظ جسے پڑھنے سے چار آوازیں برآمد ہوں اور پہلی دو آوازیں تین حرفی الفاظ کی دوسری قسم سے ہوں اور دوسری دو آوازیں چار حرفی الفاظ سے برآمد ہونے والی آوازوں جیسی ہوں جیسے "روشنائی" اس لفظ سے آوازیں برآمد ہو رہی ہیں "رو۔ش۔نا۔ئی"پہلی دو آوازیں "رو۔ش" یار کی طرح ہیں اور دوسری دو آوازیں "نا۔ئی" بولو کی طرح ہیں۔
روشنائی = رو۔ش۔نا۔ئی = دادد = فاعلاتن
اسی طرح تین حرفی الفاظ کی پہلی قسم سے دو الفاظ لیتے ہیں جیسے "وفا کرو" اوپر مثالوں میں دیکھ لیں یہ الفاظ ہیں؟ اور اپنے آپ کو یہ بھی بتا دیں کہ یہ وہاں کیوں ہیں کیونکہ وہاں ایسے الفاظ ہیں جن میں پہلا ہجا، ہجائے کوتاہ اور دوسرا ہجائے بلند ہے۔
وفا کرو = و۔فا۔ک۔رو= اداد
مفاعلن = م۔فا۔ع۔لن = اداد
ہم نے دو لفظوں کو ملا کر مفاعلن کا وزن بنایا ہے اب آپ یہ تو سمجھ گئے ہوں گے کہ اگر ایک لفظ مفاعلن کے وزن پر لانا ہے تو وہ کیسا ہونا چاہیے؟
جماعتوں = ج۔ما۔ع۔توں = اداد
۔ ۔ ۔
اسی طرح تین حرفی الفاظ کی دوسری قسم سے دو الفاظ لیتے ہیں "نور دیکھ"
نور دیکھ = نو۔ر۔دے۔کھ = دادا
فاعلات = فا۔علا۔ت = دادا
۔ ۔ ۔
نون غنہ(ں) اور دو آنکھوں والی(ھ) وزن میں شمار نہیں ہوتی۔ کیوں کہ ان کی اپنی مستقل آواز نہیں ہوتی۔
یعنی
زبان = ز۔با۔ن = ادا
زباں = ز۔با = اد
لفظ زبان پڑھنے سے تین آوازیں برآمد ہو رہی تھیں "ز۔با۔ن" لیکن نون کو نون غنّہ بنا دیا تو دو آوازیں رہ گئیں۔
اسی طرح
کاروان = کا۔ر۔وا۔ن = دادا
کارواں = کا۔ر۔وا = داد
نون کو نون غنہ بنایا تو آوازیں چار کے بجائے تین رہ گئیں۔
لفظ کے درمیان میں آنے والا نون غنہ ان صورتوں میں وزن میں شمار نہیں ہو گا۔
(1)نون غنہ سے پہلے الف ہو۔ جیسے چاند، آنکھ، سانس وغیرہ
(2)نون غنہ سے پہلے واؤ ساکن ہو۔ جیسے گوند، چونچ، گونج وغیرہ
(3)نون غنہ سے پہلے ی ساکن ہو۔ جیسے نیند، گیند، بھینچ وغیرہ
ان تین صورتوں سے ہٹ کر بھی بعض الفاظ میں درمیان میں آنے والا نون غنہ وزن میں شمار نہیں ہوتا۔ جیسے کنول، ہنس
۔ ۔
نوٹ
نے، میں، یہ، وہ، کا، کی، کے، کہ، کو، تھا، تھی، تھے، گا، گی، گے، ہے، ہیں، ہوں وغیرہ ایسے الفاظ ہیں جو ہجائے کوتاہ کے مقابل بھی لائے جا سکتے ہیں اور ہجائے بلند کے مقابل بھی۔
مزید وضاحت اگلے سبق میں۔
سبق کو دو تین بار اچھی طرح سمجھ کر پڑھیں اور پھر کام حل کریں۔
پڑھ لینے کے بعد سمجھ لینے کا مرحلہ ہے اور سمجھ لینے کے بعد مشق کرنا یعنی کام حل کرنا ان دونوں سے بڑھ کر ضروری ہے۔
شہزاد احمد کھرل
۔ ۔ ۔
مشق
(الف)
ان اوزان میں سے ہر ایک پر دس دس الفاظ لکھیں۔
فعولن، فاعلن، مفاعیلن، فاعلات
(ب)
ان دس کے ساتھ مزید دس الفاظ اپنی مرضی کے شامل کر لیں اور پھر سب لفظوں کے لغات سے درست تلفظ معلوم کر کے وزن علامتوں میں ظاہر کریں۔ یعنی لفظوں کی تقطیع کریں۔
شمس، نصیب، شجر، سرور، عزم، غنچہ، بسمل، کنول، وصل، تلفظ
کام حل کرتے ہوئے لغت ضرور دیکھیں۔
دوسرے سبق سے متعلق وڈیو لیکچر
https://youtu.be/dv-ZT0xj28U
#ادبی_ذوق
#دوسرا_سبق
#شاعری_کے_اوزان_سیکھیں
#شہزاد_احمد_کھرل
#ہجائے_بلند
#ہجائے_کوتاہ
#آسان_عروض
#adbizaoq
#poetry
#learning_poetry
#urdu_poetry
#shayri_k_aozan
#hijay_boland
#hijay_kotah
حرکات کی مدد سے ہجائے کوتاہ اور بلند کی پہچان
زیر، زبر اور پیش کو حرکت کہتے ہیں جس حرف پر حرکت یعنی زیر، زبر یا پیش ہو اسے متحرک کہتے ہیں اور جس حرف پر حرکت نہ ہو اسے ساکن کہتے ہیں۔
ہجائے کوتاہ
(ایک)
ایسا متحرک حرف جس کے بعد متحرک حرف ہو جیسے غَلَط میں "غ" ہجائے کوتاہ ہے کیوں کہ غ کے بعد ل بھی متحرک ہے اور کتاب میں "ک" کیوں کہ ک متحرک کے بعد ت بھی متحرک ہے۔
(دو)
ایسا ساکن جس سے پہلے ساکن ہو جیسے دور میں ر ہجائے کوتاہ ہے کیوں کہ ر ساکن سے پہلے و بھی ساکن ہے اور کتاب میں ب کیوں کہ ب سے پہلے الف بھی ساکن ہے۔
ہجائے بلند
ایک حرف متحرک کے بعد ایک حرف ساکن ہو تو دونوں مل کر ہجائے بلند بناتے ہیں۔ جیسے غلط میں لَط، دور میں دُو اور کتاب میں تَا ہجائے بلند ہیں۔
حرکات درست تلفظ کرنے میں مددگار ہوتی ہیں۔
عام طور پر ہم حرکات کا استعمال بہت کم کرتے ہیں۔ کسی لفظ کو لغت میں دیکھیں تو لفظ پر موجود حرکات درست تلفظ کی طرف رہنمائی کرتی ہیں۔ لفظ کا درست تلفظ معلوم کر کے اسے پڑھتے ہوئے آوازوں پر غور کریں۔ جتنی آوازیں برآمد ہوں گی لفظ میں اتنے ہجے ہوں گے۔ ایک حرفی آواز کو ہجائے کوتاہ کہیں گے اور دو حرفی آواز کو ہجائے بلند، جیسے لفظ شمار کی آوازوں پر غور کریں تو اس سے تین آوازیں برآمد ہوتی ہیں "شُ ما ر" پہلی اور تیسری آواز ایک حرفی ہے تو اسے ہجائے کوتاہ کہیں گے درمیان والی آواز دو حرفوں(م+ا=ما) سے مل کر بنی ہے تو اسے دوحرفی ہجا یا ہجائے بلند کہیں گے۔
یاد رکھنے کی بات
ہجائے بلند کو "طویل دورانیے کی آواز" اور ہجائے کوتاہ کو "مختصر دورانیے کی آواز" بھی کہتے ہیں۔
۔ ۔
پانچ حرفی الفاظ
لفظ رقابت کو پڑھتے ہوئے غور کریں تو اس سے تین آوازیں برآمد ہو رہی ہیں "ر۔قا۔بت"پہلی آواز ایک حرفی ہے دوسری اور تیسری آوازیں دو حرفی ہیں یعنی ایک ہجائے کوتاہ کے بعد دو ہجائے بلند ہیں علامتوں میں یوں ظاہر کریں گے۔
ا د د
محبت = م حب بت = ا د د، ب پر شَد ہے اس لیے دو بار گنا جائے گا۔
اطاعت = ا۔طا۔عت = ا د د
شگوفہ = ش۔گو۔فہ = ا د د
شمائل = ش۔ما۔ئل = ا د د
اور ان الفاظ کا وزن فعولُن ہے۔
فعولن = ف۔عو۔لن = ا د د
دوسری قسم
جستجو = جُس ت جو = د ا د
سامنا = سا۔م۔نا = د ا د
ٹوکری = ٹو۔ک۔ری = د ا د
فاعلن = فا۔ ع۔ لن = د ا د
عروضی وزن، فاعلن
۔ ۔
چھے حرفی الفاظ
دینیات = دی ۔ن۔ یا ۔ت = د ا د ا
دوربین = دو ۔ر ۔بی ۔ن = د ا د ا
طالبات = طا ۔ل ۔با ۔ت = د ا د ا
فاعلات = فا ۔ع ۔لا ۔ت = د ا د ا
۔ ۔
سات حرفی
چارپائی = چا۔ ر۔ پا۔ ئی = د ا د د
بے وفائی = بے۔ و۔ فا۔ ئی = د ا د د
وزن فاعلاتن
فاعلاتن = فا ۔ع۔ لا۔ تن = د ا د د
۔ ۔
نیا بستہ = ن۔ یا۔ بس۔ تہ = ا ددد
توانائی = ت۔ وا ۔نا۔ ئی = ا ددد
چرایا دل = چ۔ُ را ۔یا۔ دل = ا ددد
مفاعیلن = م۔ فا ۔عی ۔لن = ا ددد
پہلے سبق میں ہم نے تین حرفی الفاظ کی دو قسمیں پڑھی ہیں۔
پہلی قسم جس میں پہلا ہجا کوتاہ اور دوسرا ہجا بلند ہو جیسے وفا، حیا، صفا، گھڑی، کبھی، ابھی، مجھے، اسے، چلو، رکو، کرو
ان الفاظ کا وزن ہے فَعُو
دوسری جس میں ہجائے بلند پہلے اور کوتاہ بعد میں ہو جیسے یار، غار، آر، پار، پان، آج، بیر، خیر، سیر، چیل، جیل، دین، نور، طور، دیکھ
ان الفاظ کا وزن ہے فاع
چار حرفی الفاظ جیسے دلبر، چاہت، باجا، روٹی، چھوٹا، گاڑی، آنگن، گلشن، بولو، دیکھو،
ان الفاظ کا وزن ہے فِعْلن(ع ساکن ہے)
اب تین حرفی الفاظ کی پہلی قسم میں سے ایک لفظ لیں اور چار حرفی الفاظ میں سے ایک لفظ اس کے ساتھ ملا دیں جیسے
"مجھے دیکھو" لفظ "مجھے" تین حرفی الفاظ کی پہلی قسم کی مثالوں میں موجود ہے اور "دیکھو" چار حرفی الفاظ کی مثالوں میں موجود ہے۔
مجھے دیکھو= مُ۔جھے۔دے۔کھو = اددد
یا یوں
مُ۔جھے۔دے۔کھو
ا۔۔۔۔د ۔۔۔۔۔د ۔۔۔۔۔۔د
جیسے مفاعیلن
م۔فا۔عی۔لن
ا۔۔د ۔۔۔د ۔۔۔د
ہم نے دو الفاظ ملا کر "مفاعیلن" کا وزن پورا کر لیا مفاعیلن کا وزن ایک لفظ سے بھی پورا کیا جا سکتا ہے ایسا لفظ جس سے چار آوازیں برآمد ہو رہی ہوں ان میں سے پہلی دو آوازیں تین حرفی الفاظ کی پہلی قسم سے ہوں اور دوسری دو آوازیں چار حرفی الفاظ کی جو قسم ہم نے پڑھی ہے اس سے ہوں جیسے "تماشائی" چار آوازیں "ت۔ما۔شا۔ئی"پہلی دو آوازیں "ت۔ما" لفظ "مجھے" کی طرح ہیں یعنی پہلا ہجا، ہجائے کوتاہ اور دوسرا ہجا، ہجائے بلند ہے اور دوسری دو آوازیں "شا۔ئی" چار حرفی الفاظ کی طرح ہیں یعنی دونوں ہجے ہجائے بلند ہیں پورا لفظ ہو گیا
تماشائی = ت۔ما۔شا۔ئی = اددد
یا
ت۔ما۔شا۔ئی
ا۔۔۔۔ د ۔۔۔د ۔ د
اسی طرح "یار بولو"
لفظ "یار" تین حرفی الفاظ کی دوسری قسم کی مثالوں میں سے لیا ہے اور "بولو" چار حرفی الفاظ کی مثالوں میں سے لیا ہے۔
یار بولو = یا۔ر۔بو۔لو = دادد
اسی طرح فاعلاتن
فا۔ع۔لا۔تن
د ۔ا۔ د ۔ د
تو ہم نے دو الفاظ ملا کر فاعلاتن کا وزن پورا کرلیا یہ وزن ایک لفظ سے بھی پورا کیا جا سکتا ہے ایسا لفظ جسے پڑھنے سے چار آوازیں برآمد ہوں اور پہلی دو آوازیں تین حرفی الفاظ کی دوسری قسم سے ہوں اور دوسری دو آوازیں چار حرفی الفاظ سے برآمد ہونے والی آوازوں جیسی ہوں جیسے "روشنائی" اس لفظ سے آوازیں برآمد ہو رہی ہیں "رو۔ش۔نا۔ئی"پہلی دو آوازیں "رو۔ش" یار کی طرح ہیں اور دوسری دو آوازیں "نا۔ئی" بولو کی طرح ہیں۔
روشنائی = رو۔ش۔نا۔ئی = دادد = فاعلاتن
اسی طرح تین حرفی الفاظ کی پہلی قسم سے دو الفاظ لیتے ہیں جیسے "وفا کرو" اوپر مثالوں میں دیکھ لیں یہ الفاظ ہیں؟ اور اپنے آپ کو یہ بھی بتا دیں کہ یہ وہاں کیوں ہیں کیونکہ وہاں ایسے الفاظ ہیں جن میں پہلا ہجا، ہجائے کوتاہ اور دوسرا ہجائے بلند ہے۔
وفا کرو = و۔فا۔ک۔رو= اداد
مفاعلن = م۔فا۔ع۔لن = اداد
ہم نے دو لفظوں کو ملا کر مفاعلن کا وزن بنایا ہے اب آپ یہ تو سمجھ گئے ہوں گے کہ اگر ایک لفظ مفاعلن کے وزن پر لانا ہے تو وہ کیسا ہونا چاہیے؟
جماعتوں = ج۔ما۔ع۔توں = اداد
۔ ۔ ۔
اسی طرح تین حرفی الفاظ کی دوسری قسم سے دو الفاظ لیتے ہیں "نور دیکھ"
نور دیکھ = نو۔ر۔دے۔کھ = دادا
فاعلات = فا۔علا۔ت = دادا
۔ ۔ ۔
نون غنہ(ں) اور دو آنکھوں والی(ھ) وزن میں شمار نہیں ہوتی۔ کیوں کہ ان کی اپنی مستقل آواز نہیں ہوتی۔
یعنی
زبان = ز۔با۔ن = ادا
زباں = ز۔با = اد
لفظ زبان پڑھنے سے تین آوازیں برآمد ہو رہی تھیں "ز۔با۔ن" لیکن نون کو نون غنّہ بنا دیا تو دو آوازیں رہ گئیں۔
اسی طرح
کاروان = کا۔ر۔وا۔ن = دادا
کارواں = کا۔ر۔وا = داد
نون کو نون غنہ بنایا تو آوازیں چار کے بجائے تین رہ گئیں۔
لفظ کے درمیان میں آنے والا نون غنہ ان صورتوں میں وزن میں شمار نہیں ہو گا۔
(1)نون غنہ سے پہلے الف ہو۔ جیسے چاند، آنکھ، سانس وغیرہ
(2)نون غنہ سے پہلے واؤ ساکن ہو۔ جیسے گوند، چونچ، گونج وغیرہ
(3)نون غنہ سے پہلے ی ساکن ہو۔ جیسے نیند، گیند، بھینچ وغیرہ
ان تین صورتوں سے ہٹ کر بھی بعض الفاظ میں درمیان میں آنے والا نون غنہ وزن میں شمار نہیں ہوتا۔ جیسے کنول، ہنس
۔ ۔
نوٹ
نے، میں، یہ، وہ، کا، کی، کے، کہ، کو، تھا، تھی، تھے، گا، گی، گے، ہے، ہیں، ہوں وغیرہ ایسے الفاظ ہیں جو ہجائے کوتاہ کے مقابل بھی لائے جا سکتے ہیں اور ہجائے بلند کے مقابل بھی۔
مزید وضاحت اگلے سبق میں۔
سبق کو دو تین بار اچھی طرح سمجھ کر پڑھیں اور پھر کام حل کریں۔
پڑھ لینے کے بعد سمجھ لینے کا مرحلہ ہے اور سمجھ لینے کے بعد مشق کرنا یعنی کام حل کرنا ان دونوں سے بڑھ کر ضروری ہے۔
شہزاد احمد کھرل
۔ ۔ ۔
مشق
(الف)
ان اوزان میں سے ہر ایک پر دس دس الفاظ لکھیں۔
فعولن، فاعلن، مفاعیلن، فاعلات
(ب)
ان دس کے ساتھ مزید دس الفاظ اپنی مرضی کے شامل کر لیں اور پھر سب لفظوں کے لغات سے درست تلفظ معلوم کر کے وزن علامتوں میں ظاہر کریں۔ یعنی لفظوں کی تقطیع کریں۔
شمس، نصیب، شجر، سرور، عزم، غنچہ، بسمل، کنول، وصل، تلفظ
کام حل کرتے ہوئے لغت ضرور دیکھیں۔
دوسرے سبق سے متعلق وڈیو لیکچر
https://youtu.be/dv-ZT0xj28U
#ادبی_ذوق
#دوسرا_سبق
#شاعری_کے_اوزان_سیکھیں
#شہزاد_احمد_کھرل
#ہجائے_بلند
#ہجائے_کوتاہ
#آسان_عروض
#adbizaoq
#poetry
#learning_poetry
#urdu_poetry
#shayri_k_aozan
#hijay_boland
#hijay_kotah
No comments:
Post a Comment