پہلا سبق
ہجائے بلند اور ہجائے کوتاہ کی پہچان
الف سے ے تک حروف، حروفِ تہجی کہلاتے ہیں انھیں حروف کے ہجے کر کے الفاظ بنائے جاتے ہیں جیسے
ب الف با
ج الف جا
بن گیا باجا۔
اس لفظ کو پڑھیں اور غور کریں تو اسے پڑھتے ہوئے منہ سے دو آوازیں نکلتی ہیں یعنی با اور جا۔
دو آوازیں برآمد ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں دو ہجے ہیں۔ پہلی آواز یا پہلا ہجا دو حرفوں (ب اور الف) سے مل کر بنا ہے تو اسے دو حرفی ہجا یا "ہجائے بلند" کہیں گے۔ اسی طرح "باجا" کا دوسرا ہجا بھی دو حرفوں (ج اور الف) سے بنا ہے سو یہ بھی دو حرفی ہجا یا ہجائے بلند کہلائے گا گویا لفظ باجا میں دو ہجائے بلند ہیں۔
لفظ "نور" کو پڑھتے ہوئے دو آوازیں برآمد ہوتی ہیں۔ یعنی نو ۔۔۔ر
ن و= نُو
ر ساکن
بن گیا نور
اس لفظ میں پہلا ہجا دو حرفوں (ن اور و) سے بنا ہے اسے دو حرفی ہجا یا ہجائے بلند کہیں گے جب کہ "نور" کا دوسرا ہجا ایک حرف (ر) پر مشتمل ہے تو اسے ایک حرفی ہجا یا ہجائے کوتاہ کہیں گے۔
انحراف
علامتی طور پر ہجائے کوتاہ کو 1 سے اور ہجائے بلند کو 2 سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ یعنی "باجا" میں دونوں ہجے بلند ہیں تو اس کا وزن علامتوں میں 22 سے ظاہر کیا جاتا ہے اور "نور" میں پہلا ہجا، بلند اور دوسرا کوتاہ ہے تو اسے علامتوں میں 12 سے ظاہر کیا جاتا ہے۔
لیکن ہم علامت کے لیے ہندسوں کی بجائے اردو کے حروف استعمال کریں گے "ہجائے کوتاہ" ایک حرفی ہجّا ہوتا ہے تو اسے لفظ "ایک" کے پہلے حرف "ا" سے اور "ہجائے بلند" دو حرفی ہجا ہے تو اسے لفظ "دو" کے پہلے حرف "د" سے ظاہر کریں گے۔ (اس طرح موبائل اور کمپیوٹر پر لفظوں اور مصرعوں کو علامات میں ظاہر کرنا آسان ہو جائے گا)
باجا = د د
نور = د ا
غلط فہمی سے بچیں۔
بچوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ ہجے کرتے ہوئے بعض اوقات غلطی کرتے ہیں جیسے لفظ "اسم" میں پہلا ہجا دو حرفوں (ا اور س) سے بنا ہے اور دوسرا ہجا ایک حرف (م) پر مشتمل ہے لیکن چونکہ دیکھنے میں الف اکیلا نظر آ رہا ہے تو بچے اسے ایک حرفی ہجا اور سم میں دو حرف ملے ہوئے ہیں تو اسے دو حرفی ہجا سمجھ لیتے ہیں جس سے "اسم" کا تلفظ اِسَم ظاہر ہوتا ہے جب کہ اس کا درست تلفظ اِسْم ہے۔ اسی طرح ایسے الفاظ جن میں دو سے زیادہ ہجے ہوتے ہیں وہاں بھی ایسی غلطیاں سرزد ہوتی ہیں۔ لیکن ہم بچے نہیں ہیں اور نہ ہم لکھے ہوئے الفاظ سامنے رکھ کر جوڑ توڑ کریں گے بلکہ ایک آسان طریقے سے ہجے معلوم کریں۔
آسان طریقہ
لفظ کو درست تلفظ کے ساتھ ادا کرتے ہوئے لفظ سے برآمد ہونے والی آوازوں پر غور کریں۔ ایک لفظ جتنی آوازوں پر مشتمل ہو گا اس لفظ میں اتنے ہی ہجے شمار ہوں گے۔ برآمد ہونے والی آوازوں میں سے دو حرفی آوازوں کو ہجائے بلند اور ایک حرفی آواز کو ہجائے کوتاہ کہیں گے۔
مثال کے طور پر لفظ "گفتگو" بولتے ہوئے تین آوازیں برآمد ہوتی ہیں یعنی "گُف۔ت۔گو" ان میں سے پہلی اور تیسری آواز دو حرفی ہے اور درمیان والی ایک حرفی ہے گویا اس میں ایک ہجائے کوتاہ اور دو ہجائے بلند ہیں علامت کے طور پر اسے "د ا د" سے ظاہر کریں گے اور عروض میں اس کا وزن فاعلن ہے۔
اسی طرح
الفاظ👇۔ ۔آوازیں👇۔ ۔ علامتی اظہار👇
جستجو = جُس۔ ت ۔جو = د ا د
سامنا = سا ۔م ۔نا = د ا د
ٹوکری = ٹو۔ ک۔ ری = د ا د
فاعلن = فا ۔ع۔ لن = د ا د
یعنی گفتگو جستجو سامنا ٹوکری یہ سب الفاظ ہم وزن ہیں۔ اور ان کا وزن فاعلن ہے۔
اس طرح مصرعوں یا لفظوں کو آوازوں کے لحاظ سے توڑنے اور انھیں علامتوں میں ظاہر کرنے کو تقطیع کرنا کہتے ہیں۔ یعنی اوپر ہم نے لفظوں کی تقطیع کی ہے۔
۔ ۔
تین حرفی الفاظ ( تین حرفی الفاظ میں دو ہجے ہوتے ہیں ایک بلند اور ایک کوتاہ)
تین حرفی الفاظ کی دو قسمیں ہیں۔
(اول)
ایسے الفاظ جن میں پہلا ہجا، ہجائے کوتاہ اور دوسرا ہجائے بلند ہو جیسے وفا، حیا، صفا، گھڑی، کبھی، ابھی، مجھے، اسے، چلو، رکو، کرو
ان الفاظ کا وزن ہے فَعُو
مجھے = مُ۔جھے = اد
فعو = ف۔عو = اد
(دوم)
تین حرفی الفاظ کی دوسری قسم ایسے الفاظ جن میں پہلا ہجا، ہجائے بلند ہو اور دوسرا ہجا، ہجائے کوتاہ ہو جیسے یار، غار، آر، پار، پان، آج، بیر، خیر، سیر، چیل، جیل، دین، نور، طور، دیکھ
ان الفاظ کا وزن ہے فاع
پان = پا۔ن= دا
فاع = فا۔ع = دا
۔ ۔ ۔
چار حرفی الفاظ
پہلی قسم
ایسے الفاظ جنہیں پڑھتے ہوئے دو آوازیں برآمد ہوں اور وہ دونوں آوازیں دو حرفی ہوں گی یعنی دونوں ہجائے بلند ہوں گے جیسے دلبر، چاہت، باجا، روٹی، چھوٹا، گاڑی، آنگن، گلشن، بولو، دیکھو،
ان الفاظ کا وزن ہے فِعْلن(ع ساکن ہے)
گلشن = گل۔شن= دد
فعلن = فع۔لُن = دد
چار حرفی الفاظ کی دوسری قسم
جنھیں پڑھتے ہوئے تین آوازیں برآمد ہوں ان میں سے پہلی اور تیسری ہجائے کوتاہ ہو گی اور درمیان والی ہجائے بلند ۔
لفظ "گمان" کو پڑھتے ہوئے آوازوں پر غور کریں تو اس سے تین آوازیں برآمد ہو رہی ہیں "گ،ُ ما، ن" ان میں پہلی اور تیسری آواز ایک حرفی ہے اور درمیان والی آواز دو حرفی ہے گویا اس میں دو ہجائے کوتاہ اور ایک ہجائے بلند ہے علامتوں میں ادا لکھیں گے۔ مزید الفاظ سوار، خمار، نماز، شعور، تمیز وغیرہ۔ مذکور الفاظ کا وزن فعول ہے کیونکہ فعول بھی ادا ہے۔
تمیز = ت می ز = ا د ا
فعول = ف عو ل = ا د ا
نوٹ: نون غنہ اور دو آنکھوں والی (ھ) وزن میں شمار نہیں ہوتے(تفصیل آئندہ)
نوٹ: شد والا حرف دو بار گنا جاتا ہے۔
نوٹ: الف مدہ(آ) دو الف کے برابر ہوتا ہے۔ جن میں پہلا الف متحرک اور دوسرا ساکن ہوتا ہے۔
آ = اَا = د
سوال: فعو، فاع، فعلن، فاعلن، فعولن وغیرہ کیا ہیں؟
جواب: یہ ارکان محض فرضی الفاظ ہیں اور وزن بتانے کے لئے ہیں جیسے کوئی آپ سے یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ لفظ محبت جو ہے یہ عقیدت کے وزن پر ہے اور کوئی دوسرا شخص یوں بھی کہہ سکتا ہے کہ لفظ محبت، سفارش کے وزن پر ہے لیکن ماہرین علم عروض نے طے کر دیا ہے کہ آپ یوں کہیں کہ لفظ محبت "فعولن" کے وزن پر ہے حالانکہ محبت، عقیدت، سفارش اور فعولن سب کا وزن ایک ہے یعنی "ادد"
لیکن جب ہم شاعری کی زبان میں بتائیں گے تو ہم کہیں گے کہ محبت، ضرورت یا برابر وغیرہ کا وزن فعولن ہے اور جب ہم کسی سے کہیں گے کہ فعولن کے وزن پر الفاظ بناؤ تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ہمیں "ادد" کے وزن پر الفاظ مطلوب ہیں اور بس
۔ ۔
مشق
(الف)
اس سبق میں جتنی مثالیں دی گئی ہیں وہ تمام الفاظ باآواز بلند پڑھیں اور لفظوں سے برآمد ہونے والی آوازوں کی تعداد اور نوعیت پر غور کر کے تصدیق کریں کیا مثالیں اپنی اپنی جگہ پر درست دی گئی ہیں؟
پھر ان اوزان پر دس دس الفاظ لکھیں۔
فعو، فاع، فعلن، فعول
جو الفاظ آپ لکھ کر پیش کریں گے انہیں پہلے لغت میں دیکھ لیں کہ ان کا درست تلفظ کرتے ہوئے اسی طرح کی آوازیں برآمد ہوتی ہیں جس وزن کے تحت آپ مثال پیش کر رہے ہیں یا لغت میں تلفظ مختلف ہے؟۔
جیسے لفظ "وصل" کا درست تلفظ وَصْل ہےیعنی "وص۔ل" = فاع=دا ہے۔
لیکن بعض لوگ اسے وَصَل "و۔صل = اد" پڑھتے ہیں تو وہ اسے فعو کی مثالوں میں لکھ دیں گے اس لیے درست تلفظ کے لیے لغت ضرور دیکھیں۔
(ب) ان الفاظ کے ساتھ دس الفاظ اپنی طرف سے ملا لیں اور ان کی تقطیع کریں۔(لغت سے درست تلفظ دیکھ کر)
قمر، ظلم، سطوت، شبنم، کرم، حاجت، آخر، رحم، بیچ، غلط
وڈیو لیکچر
https://youtu.be/j1_gXuZsO3M
#ادبی_ذوق
#پہلا_سبق
#شاعری_کے_اوزان_سیکھیں
#شہزاد_احمد_کھرل
#ہجائے_بلند
#ہجائے_کوتاہ
#آسان_عروض
#adbizaoq
#poetry
#learning_poetry
#urdu_poetry
#shayri_k_aozan
#hijay_boland
#hijay_kotah
ہجائے بلند اور ہجائے کوتاہ کی پہچان
الف سے ے تک حروف، حروفِ تہجی کہلاتے ہیں انھیں حروف کے ہجے کر کے الفاظ بنائے جاتے ہیں جیسے
ب الف با
ج الف جا
بن گیا باجا۔
اس لفظ کو پڑھیں اور غور کریں تو اسے پڑھتے ہوئے منہ سے دو آوازیں نکلتی ہیں یعنی با اور جا۔
دو آوازیں برآمد ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں دو ہجے ہیں۔ پہلی آواز یا پہلا ہجا دو حرفوں (ب اور الف) سے مل کر بنا ہے تو اسے دو حرفی ہجا یا "ہجائے بلند" کہیں گے۔ اسی طرح "باجا" کا دوسرا ہجا بھی دو حرفوں (ج اور الف) سے بنا ہے سو یہ بھی دو حرفی ہجا یا ہجائے بلند کہلائے گا گویا لفظ باجا میں دو ہجائے بلند ہیں۔
لفظ "نور" کو پڑھتے ہوئے دو آوازیں برآمد ہوتی ہیں۔ یعنی نو ۔۔۔ر
ن و= نُو
ر ساکن
بن گیا نور
اس لفظ میں پہلا ہجا دو حرفوں (ن اور و) سے بنا ہے اسے دو حرفی ہجا یا ہجائے بلند کہیں گے جب کہ "نور" کا دوسرا ہجا ایک حرف (ر) پر مشتمل ہے تو اسے ایک حرفی ہجا یا ہجائے کوتاہ کہیں گے۔
انحراف
علامتی طور پر ہجائے کوتاہ کو 1 سے اور ہجائے بلند کو 2 سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ یعنی "باجا" میں دونوں ہجے بلند ہیں تو اس کا وزن علامتوں میں 22 سے ظاہر کیا جاتا ہے اور "نور" میں پہلا ہجا، بلند اور دوسرا کوتاہ ہے تو اسے علامتوں میں 12 سے ظاہر کیا جاتا ہے۔
لیکن ہم علامت کے لیے ہندسوں کی بجائے اردو کے حروف استعمال کریں گے "ہجائے کوتاہ" ایک حرفی ہجّا ہوتا ہے تو اسے لفظ "ایک" کے پہلے حرف "ا" سے اور "ہجائے بلند" دو حرفی ہجا ہے تو اسے لفظ "دو" کے پہلے حرف "د" سے ظاہر کریں گے۔ (اس طرح موبائل اور کمپیوٹر پر لفظوں اور مصرعوں کو علامات میں ظاہر کرنا آسان ہو جائے گا)
باجا = د د
نور = د ا
غلط فہمی سے بچیں۔
بچوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ ہجے کرتے ہوئے بعض اوقات غلطی کرتے ہیں جیسے لفظ "اسم" میں پہلا ہجا دو حرفوں (ا اور س) سے بنا ہے اور دوسرا ہجا ایک حرف (م) پر مشتمل ہے لیکن چونکہ دیکھنے میں الف اکیلا نظر آ رہا ہے تو بچے اسے ایک حرفی ہجا اور سم میں دو حرف ملے ہوئے ہیں تو اسے دو حرفی ہجا سمجھ لیتے ہیں جس سے "اسم" کا تلفظ اِسَم ظاہر ہوتا ہے جب کہ اس کا درست تلفظ اِسْم ہے۔ اسی طرح ایسے الفاظ جن میں دو سے زیادہ ہجے ہوتے ہیں وہاں بھی ایسی غلطیاں سرزد ہوتی ہیں۔ لیکن ہم بچے نہیں ہیں اور نہ ہم لکھے ہوئے الفاظ سامنے رکھ کر جوڑ توڑ کریں گے بلکہ ایک آسان طریقے سے ہجے معلوم کریں۔
آسان طریقہ
لفظ کو درست تلفظ کے ساتھ ادا کرتے ہوئے لفظ سے برآمد ہونے والی آوازوں پر غور کریں۔ ایک لفظ جتنی آوازوں پر مشتمل ہو گا اس لفظ میں اتنے ہی ہجے شمار ہوں گے۔ برآمد ہونے والی آوازوں میں سے دو حرفی آوازوں کو ہجائے بلند اور ایک حرفی آواز کو ہجائے کوتاہ کہیں گے۔
مثال کے طور پر لفظ "گفتگو" بولتے ہوئے تین آوازیں برآمد ہوتی ہیں یعنی "گُف۔ت۔گو" ان میں سے پہلی اور تیسری آواز دو حرفی ہے اور درمیان والی ایک حرفی ہے گویا اس میں ایک ہجائے کوتاہ اور دو ہجائے بلند ہیں علامت کے طور پر اسے "د ا د" سے ظاہر کریں گے اور عروض میں اس کا وزن فاعلن ہے۔
اسی طرح
الفاظ👇۔ ۔آوازیں👇۔ ۔ علامتی اظہار👇
جستجو = جُس۔ ت ۔جو = د ا د
سامنا = سا ۔م ۔نا = د ا د
ٹوکری = ٹو۔ ک۔ ری = د ا د
فاعلن = فا ۔ع۔ لن = د ا د
یعنی گفتگو جستجو سامنا ٹوکری یہ سب الفاظ ہم وزن ہیں۔ اور ان کا وزن فاعلن ہے۔
اس طرح مصرعوں یا لفظوں کو آوازوں کے لحاظ سے توڑنے اور انھیں علامتوں میں ظاہر کرنے کو تقطیع کرنا کہتے ہیں۔ یعنی اوپر ہم نے لفظوں کی تقطیع کی ہے۔
۔ ۔
تین حرفی الفاظ ( تین حرفی الفاظ میں دو ہجے ہوتے ہیں ایک بلند اور ایک کوتاہ)
تین حرفی الفاظ کی دو قسمیں ہیں۔
(اول)
ایسے الفاظ جن میں پہلا ہجا، ہجائے کوتاہ اور دوسرا ہجائے بلند ہو جیسے وفا، حیا، صفا، گھڑی، کبھی، ابھی، مجھے، اسے، چلو، رکو، کرو
ان الفاظ کا وزن ہے فَعُو
مجھے = مُ۔جھے = اد
فعو = ف۔عو = اد
(دوم)
تین حرفی الفاظ کی دوسری قسم ایسے الفاظ جن میں پہلا ہجا، ہجائے بلند ہو اور دوسرا ہجا، ہجائے کوتاہ ہو جیسے یار، غار، آر، پار، پان، آج، بیر، خیر، سیر، چیل، جیل، دین، نور، طور، دیکھ
ان الفاظ کا وزن ہے فاع
پان = پا۔ن= دا
فاع = فا۔ع = دا
۔ ۔ ۔
چار حرفی الفاظ
پہلی قسم
ایسے الفاظ جنہیں پڑھتے ہوئے دو آوازیں برآمد ہوں اور وہ دونوں آوازیں دو حرفی ہوں گی یعنی دونوں ہجائے بلند ہوں گے جیسے دلبر، چاہت، باجا، روٹی، چھوٹا، گاڑی، آنگن، گلشن، بولو، دیکھو،
ان الفاظ کا وزن ہے فِعْلن(ع ساکن ہے)
گلشن = گل۔شن= دد
فعلن = فع۔لُن = دد
چار حرفی الفاظ کی دوسری قسم
جنھیں پڑھتے ہوئے تین آوازیں برآمد ہوں ان میں سے پہلی اور تیسری ہجائے کوتاہ ہو گی اور درمیان والی ہجائے بلند ۔
لفظ "گمان" کو پڑھتے ہوئے آوازوں پر غور کریں تو اس سے تین آوازیں برآمد ہو رہی ہیں "گ،ُ ما، ن" ان میں پہلی اور تیسری آواز ایک حرفی ہے اور درمیان والی آواز دو حرفی ہے گویا اس میں دو ہجائے کوتاہ اور ایک ہجائے بلند ہے علامتوں میں ادا لکھیں گے۔ مزید الفاظ سوار، خمار، نماز، شعور، تمیز وغیرہ۔ مذکور الفاظ کا وزن فعول ہے کیونکہ فعول بھی ادا ہے۔
تمیز = ت می ز = ا د ا
فعول = ف عو ل = ا د ا
نوٹ: نون غنہ اور دو آنکھوں والی (ھ) وزن میں شمار نہیں ہوتے(تفصیل آئندہ)
نوٹ: شد والا حرف دو بار گنا جاتا ہے۔
نوٹ: الف مدہ(آ) دو الف کے برابر ہوتا ہے۔ جن میں پہلا الف متحرک اور دوسرا ساکن ہوتا ہے۔
آ = اَا = د
سوال: فعو، فاع، فعلن، فاعلن، فعولن وغیرہ کیا ہیں؟
جواب: یہ ارکان محض فرضی الفاظ ہیں اور وزن بتانے کے لئے ہیں جیسے کوئی آپ سے یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ لفظ محبت جو ہے یہ عقیدت کے وزن پر ہے اور کوئی دوسرا شخص یوں بھی کہہ سکتا ہے کہ لفظ محبت، سفارش کے وزن پر ہے لیکن ماہرین علم عروض نے طے کر دیا ہے کہ آپ یوں کہیں کہ لفظ محبت "فعولن" کے وزن پر ہے حالانکہ محبت، عقیدت، سفارش اور فعولن سب کا وزن ایک ہے یعنی "ادد"
لیکن جب ہم شاعری کی زبان میں بتائیں گے تو ہم کہیں گے کہ محبت، ضرورت یا برابر وغیرہ کا وزن فعولن ہے اور جب ہم کسی سے کہیں گے کہ فعولن کے وزن پر الفاظ بناؤ تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ہمیں "ادد" کے وزن پر الفاظ مطلوب ہیں اور بس
۔ ۔
مشق
(الف)
اس سبق میں جتنی مثالیں دی گئی ہیں وہ تمام الفاظ باآواز بلند پڑھیں اور لفظوں سے برآمد ہونے والی آوازوں کی تعداد اور نوعیت پر غور کر کے تصدیق کریں کیا مثالیں اپنی اپنی جگہ پر درست دی گئی ہیں؟
پھر ان اوزان پر دس دس الفاظ لکھیں۔
فعو، فاع، فعلن، فعول
جو الفاظ آپ لکھ کر پیش کریں گے انہیں پہلے لغت میں دیکھ لیں کہ ان کا درست تلفظ کرتے ہوئے اسی طرح کی آوازیں برآمد ہوتی ہیں جس وزن کے تحت آپ مثال پیش کر رہے ہیں یا لغت میں تلفظ مختلف ہے؟۔
جیسے لفظ "وصل" کا درست تلفظ وَصْل ہےیعنی "وص۔ل" = فاع=دا ہے۔
لیکن بعض لوگ اسے وَصَل "و۔صل = اد" پڑھتے ہیں تو وہ اسے فعو کی مثالوں میں لکھ دیں گے اس لیے درست تلفظ کے لیے لغت ضرور دیکھیں۔
(ب) ان الفاظ کے ساتھ دس الفاظ اپنی طرف سے ملا لیں اور ان کی تقطیع کریں۔(لغت سے درست تلفظ دیکھ کر)
قمر، ظلم، سطوت، شبنم، کرم، حاجت، آخر، رحم، بیچ، غلط
وڈیو لیکچر
https://youtu.be/j1_gXuZsO3M
#ادبی_ذوق
#پہلا_سبق
#شاعری_کے_اوزان_سیکھیں
#شہزاد_احمد_کھرل
#ہجائے_بلند
#ہجائے_کوتاہ
#آسان_عروض
#adbizaoq
#poetry
#learning_poetry
#urdu_poetry
#shayri_k_aozan
#hijay_boland
#hijay_kotah
No comments:
Post a Comment