تیسرا سبق
ایک حرف متحرک کے بعد ایک حرف ساکن آئے تو دونوں مل کر ہجائے بلند بناتے ہیں جیسے دِل، غَم، دُکھ
ایک حرف متحرک کے بعد دو حروف ساکن آئیں جیسے "دُور" تو پہلا حرف ساکن، متحرک حرف کے ساتھ ملکر ہجائے بلند بناتا ہے جیسے دُور میں "دُو" اور دوسرا ساکن ہجائے کوتاہ ہوتا ہے جیسے دُور میں "ر"
ایک حرف متحرک کے بعد تین ساکن آئیں جیسے "دوست" تو پہلا ساکن، متحرک کے ساتھ مل کر ہجائے بلند بناتا ہے جیسے دوست میں "دو" دوسرا ساکن ہجائے کوتاہ ہوتا ہے جیسے دوست میں "س" اور تیسرا ساکن وزن میں شمار نہیں ہوتا جیسے دوست میں "ت"
اسی طرح گوشت، راست وغیرہ کی ت وزن میں شمار نہیں ہو گی۔
دوست = دو ۔ س = دا
گوشت = گو ۔ ش = دا
راست = را ۔س = دا
۔ ۔
درج دیل الفاظ میں شاعر کو اختیار ہے کہ انہیں اپنی ضرورت کے مطابق ہجائے کوتاہ کے مقابل لے آئے یا ہجائے بلند کے مقابل۔ یہ کثیرالاستعمال الفاظ ہیں ان میں حروف علت کو بلاجھجک گرایا جا سکتا ہے۔
کا کی کے کو کہ
میں تو وہ یہ
ہی ہو ہیں ہے ہوں
تھا تھی تھے گا گی گے
میں سے نے سو
ایسے ہجے جو شاعر کی ضرورت کے مطابق بلند بھی ہو سکتے ہیں اور کوتاہ بھی، ایسے ہجوں کو ہم "و" سے ظاہر کریں گے۔ یعنی مزکورہ بالا الفاظ کا وزن و ہے۔
میں (برائے متکلم) اور تُو (برائے مخاطب) کو بہتر ہے کہ ہجائے بلند باندھا جائے۔
"نہ اور پہ" دونوں ہمیشہ ہجائے کوتاہ باندھے جائیں گے۔
"کیوں اور کیا" کا وزن ایک ہجائے بلند کے برابر ہے۔
۔ ۔ ۔
واؤ معدولہ
خواب، خوار، خواں، دستر خوان، خواہش، درخواست، خواجہ، خواندہ، خواہ مخواہ، خویش، خود، خوش، خورشید وغیرہ میں پائی جانے والی واؤ وزن میں شمار نہیں ہوتی۔ اسے واؤ معدولہ کہتے ہیں یہ فارسی زبان کے الفاظ میں پائی جاتی ہے اور عام طور پر اس "و" سے پہلے حرف "خ" ہوتا ہے۔
چنانچہ:
خواب, خوار, خویش = د ا
خواہش, خواجہ = د د
درخواست = د د ا
خواندہ = د ا د
خود, خوش = د
خورشید = د د ا
یائے مخلوطہ
ان الفاظ میں آنے والی "ی" وزن میں شمار نہیں ہوتی پیار، دھیان، گیان، کیا(استفہامیہ)، پیاس، سیانا، بیاہ، کیوں وغیرہ اس ی کو یائے مخلوطہ کہتے ہیں یہ ہندی الفاظ میں پائی جاتی ہے۔
چنانچہ:
کیا, کیوں = د
پیاس, پیار, دھیان, بیاہ = دا
سیا نا = دد
میری رائے میں لفظ دھیان کے بارے میں شاعر کو اختیار ہے کہ اس کی ی کو شمار کرے یا نہ کرے۔ (قاعدے کی رو سے ی شمار نہیں ہونی چاہیے لیکن ہمارے ہاں جس طرح یہ لفظ ادا کیا جاتا ہے اس کی ی کی آواز خلط نہیں ہوتی۔ اس بات کو مدنظر رکھیں تو شمار ہونی چاہیے۔)
کرنا مصدر سے ماضی کے صیغے "کِیا" میں ی شمار ہو گی۔
۔ ۔
(ا، و، ی حروفِ علت ہیں اور ان تین کے سوا تمام حروف تہجی، حروفِ صحیح کہلاتے ہیں)
حروف علت کو گرانا
(گرانے سے مراد "وزن میں شمار نہ کرنا" ہے)
حروف علت تین ہیں الف، و، ی
حروف علت میں سے کوئی حرف کسی لفظ کے آخر میں آ جائے تو شعری ضرورت کے تحت اسے گرانا جائز ہے۔ جیسے
اصلی وزن
سامنا = سا م نا = د ا د
آخر سے الف گرانے کے بعد
سامنا = سا م نَ = د ا ا
گویا ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ سامنا کا وزن"د ا و" ہے کیوں کہ آخری ہجائے بلند کو حرف علت گرا کر ہجائے کوتاہ لانا بھی شاعر کا اختیار ہے اور جس ہجے میں شاعر کو اختیار ہو اس ہجے کو ہم "و" سے ظاہر کرتے ہیں۔
دیکھو= دے۔کھو= دد
و گرانے کے بعد
دیکھو= دے۔کُ= دا
یعنی دیکھو= دو
نوٹ: آخر سے حرف علت گرانے کے بعد اس سے پہلا حرف ساکن نہیں بن جائے گا بلکہ اس کی حرکت برقرار رہے گی۔ لہذا جب ہم "روشنی" کی ی گرا کر اسے روشنِ پڑھتے ہیں تو اس کی آواز روشن سے نہیں ملتی۔
نوٹ : حرف علت کو اسی صورت گرایا جانا چاہیے جب حرف علت گرانے سے لفظ نہ بگڑتا ہو اور سننے والے کو حرف علت کے بغیر پڑھنے کے باوجود ٹھیک ٹھیک سمجھ آئے۔ جیسے ان الفاظ کے آخر سے حرف علت گرانا درست نہیں خدا، جدا، کی(کرنا مصدر سے فعل ماضی جیسے "میں نے دل کی بات کی") وغیرہ
بعض جگہ یہ تفریق پڑھی ہے کہ عربی اور فارسی الفاظ کے آخر سے حروف علت نہ گرایا جائے جبکہ ہندی الفاظ کے آخر سے گرایا جا سکتا ہے اس تفریق کو بھی ذہن نشین کر لیں لیکن میرا خیال ہے کہ آواز پر غور کر کے اگر یہ تصدیق کر لی جائے کہ حرف علت گرانے سے لفظ کا وقار مجروح نہیں ہو رہا تو پھر گرانا جائز ہے ورنہ نہیں۔
لفظ کے آخر میں آنے والی گول ہ بھی الف کی ہم آواز ہوتی ہے لہذا اسے گرانا بھی درست ہے۔ اور الف کے ساتھ ہم قافیہ لانا بھی درست ہے۔(تفصیلات آئندہ)
راستہ = را س تہ = د ا د
آخر سے ہ گرانے کے بعد
راستہ = را س تَ = د ا ا
گویا لفظ راستہ کو ہم "د ا و "سے ظاہر کریں گے کیوں کہ آخری ہجے سے متعلق شاعر کو اختیار حاصل ہے.
راستہ = را۔ س ۔ تہ = د ا و
یہ بات یاد رکھیں کہ حرف علت، لفظ کے درمیان میں آ رہا ہو تو اسے نہیں گرایا جا سکتا سوائے چند کثیرالاستعمال الفاظ کے۔ جیسے
تیرا، میرا کی ی گرائی جا سکتی حالانکہ درمیان میں ہے۔
کوئی کی و گرائی جا سکتی ہے۔
لفظ "کوئی" میں دو ہجے ہیں دونوں کے متعلق شاعر کو اختیار حاصل ہے کہ وہ انہیں ہجاۓ بلند باندھے یا ہجائے کوتاہ۔
کوئی = کو ۔ ئی = وو
ہوئی ہُوا، ہوئے، ہوئیں کی "و" وزن میں شمار نہیں ہوتی ان کا وزن "او" ہے یعنی پہلا ہجا کوتاہ اور دوسرے میں شاعر کو اختیار ہے۔
لفظ "اور" کا بیان
لفظ "اور" بطور حرف عطف استعمال ہوا ہو تو اس کی "و" گرا کر اسے ایک ہجائے بلند کے برابر باندھا جا سکتا ہے۔(کثیرالاستعمال ہونے کی وجہ سے)
اور= او۔ر= دا
اور= ار = د
جیسے
وفا اور جفا = اددااد/ ادداد
اگر لفظ "اور" مزید کے معنی میں ہو تو "و" نہیں گرا سکتے۔ جیسے اور سنائیں، آپ اور کچھ لیں گے؟
اور سنائیں= داادد
اسی طرح اگر لفظ "اور" مختلف یا منفرد کے معنی میں ہو تو بھی و نہیں گرا سکتے۔ جیسے "آپ کی بات ہی اور ہے۔" یہاں لفظ "اور" منفرد کے معنی میں ہے یعنی آپ کی بات ہی الگ ہے۔ اس صورت میں اور کی واؤ نہیں گرا سکتے۔
ایسے الفاظ جن کا متبادل املا موجود ہے جب ان کے درمیان سے حرف علت گرایا جائے تو ان کا متبادل املا لکھا جائے گا۔ جیسے
میرا، میری، میرے، تیرا، تیری، تیرے، نگاہ، راستہ، ماہ، سپاہ، دیوانہ وغیرہ
کے درمیان سے حرف علت گرانے کے بعد
مرا، مری، مرے، ترا، تری، ترے، نگہ، رستہ، مہ، سپہ، دِوانہ
لکھیں گے۔
۔ ۔ ۔
واؤ معروف
واؤ ساکن سے پہلے حرف پر پیش ہو اور یہ پیش خوب ظاہر کر کے پڑھی جائے جیسے نور طُور حضور دُور پھول وغیرہ
واؤمجہول
واؤ ساکن سے پہلے حرف پر پیش ہو اور یہ پیش خوب ظاہر نہ ہو رہی ہو جیسے شور مور بول وغیرہ
یائے معروف
ی ساکن سے پہلے حرف کے نیچے زیر ہو اور وہ خوب ظاہر کر کے پڑھی جا رہی ہو جیسے چِیل جِھیل بِیج وغیرہ
یائے مجہول
ی ساکن سے پہلے حرف کے نیچے زیر ہو لیکن زیر خوب ظاہر کر کے نہ پڑھی جائے جیسے کھیل ریل پیل جیل دیر
واؤ، یائے لِین
واؤ اور ی ساکن ہوں اور ان سے پہلے حرف پر زبر ہو تو انہیں "واؤ لِین" اور "یائے لین" کہا جاتا ہے۔ جیسے دَور قوم مابَین خَیر ضَو وغیرہ میں و اور ی
شہزاد احمد کھرل
۔ ۔ ۔ ۔
کام
سبق کو کم از کم تین دفعہ پڑھیں ویڈیو لیکچر سنیں اور لغت کی مدد سے کام حل کریں۔
(الف)
مفاعیلن اور فاعلاتن کے وزن پر دس دس ایسے الفاظ لکھیں جو دو دو لفظوں سے مل کر بنے ہوں جیسے
مرا۔دلبر
مفا۔عیلن
اور
آج۔آیا
فاعِ۔لاتن
نوٹ: بنائے گئے الفاظ بامعنی ہوں۔ اور اگر جملوں میں تسلسل ہو تو اور بھی بہتر ہے جیسے مرے دلبر، کہاں ہے تو، مجھے سن لے، اکیلا ہوں،
(ب)لغت دیکھ کر ان الفاظ پر اعراب لگائیں ان کے معانی لکھیں اور تقطیع کریں۔ دس الفاظ اپنی طرف سے بھی شامل کر لیں۔
راست، لطافت، پیاس، درماندگی، مژگاں، خواجہ، صحبت، درخواست، پیارا، گوشت،
(ج) واؤ اور ی کی تمام اقسام کو الگ الگ کریں۔
کیل، بَیل، چور، دَور، دُور، بول، کھول، جون، خون، طُور، فضول، طفیل، دِین، کھیر، ریل، سیر، شیر، گول، پھیل، ایک، نیک، دِین، جھیل
واؤ معروف
واؤ مجہول
واؤ لِین
یائے معروف
یائے مجہول
یائے لین
۔ ۔ ۔ ۔
شہزاد احمد کھرل
تیسرے سبق سے متعلق ویڈیو لیکچر
https://youtu.be/31xLYTG4Zew
#ادبی_ذوق
#تیسرا_سبق
#شاعری_کے_اوزان_سیکھیں
#شہزاد_احمد_کھرل
#تیسرا_ساکن
#ہجائے_کوتاہ
#آسان_عروض
#واؤ_معدولہ
#یائے_مخلوطہ
#واؤ_لین
#واؤ_معروف
#واؤ_مجہول
#adbizaoq
#poetry
#learning_poetry
#urdu_poetry
#shayri_k_aozan
#hijay_boland
#hijay_kotah
ایک حرف متحرک کے بعد ایک حرف ساکن آئے تو دونوں مل کر ہجائے بلند بناتے ہیں جیسے دِل، غَم، دُکھ
ایک حرف متحرک کے بعد دو حروف ساکن آئیں جیسے "دُور" تو پہلا حرف ساکن، متحرک حرف کے ساتھ ملکر ہجائے بلند بناتا ہے جیسے دُور میں "دُو" اور دوسرا ساکن ہجائے کوتاہ ہوتا ہے جیسے دُور میں "ر"
ایک حرف متحرک کے بعد تین ساکن آئیں جیسے "دوست" تو پہلا ساکن، متحرک کے ساتھ مل کر ہجائے بلند بناتا ہے جیسے دوست میں "دو" دوسرا ساکن ہجائے کوتاہ ہوتا ہے جیسے دوست میں "س" اور تیسرا ساکن وزن میں شمار نہیں ہوتا جیسے دوست میں "ت"
اسی طرح گوشت، راست وغیرہ کی ت وزن میں شمار نہیں ہو گی۔
دوست = دو ۔ س = دا
گوشت = گو ۔ ش = دا
راست = را ۔س = دا
۔ ۔
درج دیل الفاظ میں شاعر کو اختیار ہے کہ انہیں اپنی ضرورت کے مطابق ہجائے کوتاہ کے مقابل لے آئے یا ہجائے بلند کے مقابل۔ یہ کثیرالاستعمال الفاظ ہیں ان میں حروف علت کو بلاجھجک گرایا جا سکتا ہے۔
کا کی کے کو کہ
میں تو وہ یہ
ہی ہو ہیں ہے ہوں
تھا تھی تھے گا گی گے
میں سے نے سو
ایسے ہجے جو شاعر کی ضرورت کے مطابق بلند بھی ہو سکتے ہیں اور کوتاہ بھی، ایسے ہجوں کو ہم "و" سے ظاہر کریں گے۔ یعنی مزکورہ بالا الفاظ کا وزن و ہے۔
میں (برائے متکلم) اور تُو (برائے مخاطب) کو بہتر ہے کہ ہجائے بلند باندھا جائے۔
"نہ اور پہ" دونوں ہمیشہ ہجائے کوتاہ باندھے جائیں گے۔
"کیوں اور کیا" کا وزن ایک ہجائے بلند کے برابر ہے۔
۔ ۔ ۔
واؤ معدولہ
خواب، خوار، خواں، دستر خوان، خواہش، درخواست، خواجہ، خواندہ، خواہ مخواہ، خویش، خود، خوش، خورشید وغیرہ میں پائی جانے والی واؤ وزن میں شمار نہیں ہوتی۔ اسے واؤ معدولہ کہتے ہیں یہ فارسی زبان کے الفاظ میں پائی جاتی ہے اور عام طور پر اس "و" سے پہلے حرف "خ" ہوتا ہے۔
چنانچہ:
خواب, خوار, خویش = د ا
خواہش, خواجہ = د د
درخواست = د د ا
خواندہ = د ا د
خود, خوش = د
خورشید = د د ا
یائے مخلوطہ
ان الفاظ میں آنے والی "ی" وزن میں شمار نہیں ہوتی پیار، دھیان، گیان، کیا(استفہامیہ)، پیاس، سیانا، بیاہ، کیوں وغیرہ اس ی کو یائے مخلوطہ کہتے ہیں یہ ہندی الفاظ میں پائی جاتی ہے۔
چنانچہ:
کیا, کیوں = د
پیاس, پیار, دھیان, بیاہ = دا
سیا نا = دد
میری رائے میں لفظ دھیان کے بارے میں شاعر کو اختیار ہے کہ اس کی ی کو شمار کرے یا نہ کرے۔ (قاعدے کی رو سے ی شمار نہیں ہونی چاہیے لیکن ہمارے ہاں جس طرح یہ لفظ ادا کیا جاتا ہے اس کی ی کی آواز خلط نہیں ہوتی۔ اس بات کو مدنظر رکھیں تو شمار ہونی چاہیے۔)
کرنا مصدر سے ماضی کے صیغے "کِیا" میں ی شمار ہو گی۔
۔ ۔
(ا، و، ی حروفِ علت ہیں اور ان تین کے سوا تمام حروف تہجی، حروفِ صحیح کہلاتے ہیں)
حروف علت کو گرانا
(گرانے سے مراد "وزن میں شمار نہ کرنا" ہے)
حروف علت تین ہیں الف، و، ی
حروف علت میں سے کوئی حرف کسی لفظ کے آخر میں آ جائے تو شعری ضرورت کے تحت اسے گرانا جائز ہے۔ جیسے
اصلی وزن
سامنا = سا م نا = د ا د
آخر سے الف گرانے کے بعد
سامنا = سا م نَ = د ا ا
گویا ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ سامنا کا وزن"د ا و" ہے کیوں کہ آخری ہجائے بلند کو حرف علت گرا کر ہجائے کوتاہ لانا بھی شاعر کا اختیار ہے اور جس ہجے میں شاعر کو اختیار ہو اس ہجے کو ہم "و" سے ظاہر کرتے ہیں۔
دیکھو= دے۔کھو= دد
و گرانے کے بعد
دیکھو= دے۔کُ= دا
یعنی دیکھو= دو
نوٹ: آخر سے حرف علت گرانے کے بعد اس سے پہلا حرف ساکن نہیں بن جائے گا بلکہ اس کی حرکت برقرار رہے گی۔ لہذا جب ہم "روشنی" کی ی گرا کر اسے روشنِ پڑھتے ہیں تو اس کی آواز روشن سے نہیں ملتی۔
نوٹ : حرف علت کو اسی صورت گرایا جانا چاہیے جب حرف علت گرانے سے لفظ نہ بگڑتا ہو اور سننے والے کو حرف علت کے بغیر پڑھنے کے باوجود ٹھیک ٹھیک سمجھ آئے۔ جیسے ان الفاظ کے آخر سے حرف علت گرانا درست نہیں خدا، جدا، کی(کرنا مصدر سے فعل ماضی جیسے "میں نے دل کی بات کی") وغیرہ
بعض جگہ یہ تفریق پڑھی ہے کہ عربی اور فارسی الفاظ کے آخر سے حروف علت نہ گرایا جائے جبکہ ہندی الفاظ کے آخر سے گرایا جا سکتا ہے اس تفریق کو بھی ذہن نشین کر لیں لیکن میرا خیال ہے کہ آواز پر غور کر کے اگر یہ تصدیق کر لی جائے کہ حرف علت گرانے سے لفظ کا وقار مجروح نہیں ہو رہا تو پھر گرانا جائز ہے ورنہ نہیں۔
لفظ کے آخر میں آنے والی گول ہ بھی الف کی ہم آواز ہوتی ہے لہذا اسے گرانا بھی درست ہے۔ اور الف کے ساتھ ہم قافیہ لانا بھی درست ہے۔(تفصیلات آئندہ)
راستہ = را س تہ = د ا د
آخر سے ہ گرانے کے بعد
راستہ = را س تَ = د ا ا
گویا لفظ راستہ کو ہم "د ا و "سے ظاہر کریں گے کیوں کہ آخری ہجے سے متعلق شاعر کو اختیار حاصل ہے.
راستہ = را۔ س ۔ تہ = د ا و
یہ بات یاد رکھیں کہ حرف علت، لفظ کے درمیان میں آ رہا ہو تو اسے نہیں گرایا جا سکتا سوائے چند کثیرالاستعمال الفاظ کے۔ جیسے
تیرا، میرا کی ی گرائی جا سکتی حالانکہ درمیان میں ہے۔
کوئی کی و گرائی جا سکتی ہے۔
لفظ "کوئی" میں دو ہجے ہیں دونوں کے متعلق شاعر کو اختیار حاصل ہے کہ وہ انہیں ہجاۓ بلند باندھے یا ہجائے کوتاہ۔
کوئی = کو ۔ ئی = وو
ہوئی ہُوا، ہوئے، ہوئیں کی "و" وزن میں شمار نہیں ہوتی ان کا وزن "او" ہے یعنی پہلا ہجا کوتاہ اور دوسرے میں شاعر کو اختیار ہے۔
لفظ "اور" کا بیان
لفظ "اور" بطور حرف عطف استعمال ہوا ہو تو اس کی "و" گرا کر اسے ایک ہجائے بلند کے برابر باندھا جا سکتا ہے۔(کثیرالاستعمال ہونے کی وجہ سے)
اور= او۔ر= دا
اور= ار = د
جیسے
وفا اور جفا = اددااد/ ادداد
اگر لفظ "اور" مزید کے معنی میں ہو تو "و" نہیں گرا سکتے۔ جیسے اور سنائیں، آپ اور کچھ لیں گے؟
اور سنائیں= داادد
اسی طرح اگر لفظ "اور" مختلف یا منفرد کے معنی میں ہو تو بھی و نہیں گرا سکتے۔ جیسے "آپ کی بات ہی اور ہے۔" یہاں لفظ "اور" منفرد کے معنی میں ہے یعنی آپ کی بات ہی الگ ہے۔ اس صورت میں اور کی واؤ نہیں گرا سکتے۔
ایسے الفاظ جن کا متبادل املا موجود ہے جب ان کے درمیان سے حرف علت گرایا جائے تو ان کا متبادل املا لکھا جائے گا۔ جیسے
میرا، میری، میرے، تیرا، تیری، تیرے، نگاہ، راستہ، ماہ، سپاہ، دیوانہ وغیرہ
کے درمیان سے حرف علت گرانے کے بعد
مرا، مری، مرے، ترا، تری، ترے، نگہ، رستہ، مہ، سپہ، دِوانہ
لکھیں گے۔
۔ ۔ ۔
واؤ معروف
واؤ ساکن سے پہلے حرف پر پیش ہو اور یہ پیش خوب ظاہر کر کے پڑھی جائے جیسے نور طُور حضور دُور پھول وغیرہ
واؤمجہول
واؤ ساکن سے پہلے حرف پر پیش ہو اور یہ پیش خوب ظاہر نہ ہو رہی ہو جیسے شور مور بول وغیرہ
یائے معروف
ی ساکن سے پہلے حرف کے نیچے زیر ہو اور وہ خوب ظاہر کر کے پڑھی جا رہی ہو جیسے چِیل جِھیل بِیج وغیرہ
یائے مجہول
ی ساکن سے پہلے حرف کے نیچے زیر ہو لیکن زیر خوب ظاہر کر کے نہ پڑھی جائے جیسے کھیل ریل پیل جیل دیر
واؤ، یائے لِین
واؤ اور ی ساکن ہوں اور ان سے پہلے حرف پر زبر ہو تو انہیں "واؤ لِین" اور "یائے لین" کہا جاتا ہے۔ جیسے دَور قوم مابَین خَیر ضَو وغیرہ میں و اور ی
شہزاد احمد کھرل
۔ ۔ ۔ ۔
کام
سبق کو کم از کم تین دفعہ پڑھیں ویڈیو لیکچر سنیں اور لغت کی مدد سے کام حل کریں۔
(الف)
مفاعیلن اور فاعلاتن کے وزن پر دس دس ایسے الفاظ لکھیں جو دو دو لفظوں سے مل کر بنے ہوں جیسے
مرا۔دلبر
مفا۔عیلن
اور
آج۔آیا
فاعِ۔لاتن
نوٹ: بنائے گئے الفاظ بامعنی ہوں۔ اور اگر جملوں میں تسلسل ہو تو اور بھی بہتر ہے جیسے مرے دلبر، کہاں ہے تو، مجھے سن لے، اکیلا ہوں،
(ب)لغت دیکھ کر ان الفاظ پر اعراب لگائیں ان کے معانی لکھیں اور تقطیع کریں۔ دس الفاظ اپنی طرف سے بھی شامل کر لیں۔
راست، لطافت، پیاس، درماندگی، مژگاں، خواجہ، صحبت، درخواست، پیارا، گوشت،
(ج) واؤ اور ی کی تمام اقسام کو الگ الگ کریں۔
کیل، بَیل، چور، دَور، دُور، بول، کھول، جون، خون، طُور، فضول، طفیل، دِین، کھیر، ریل، سیر، شیر، گول، پھیل، ایک، نیک، دِین، جھیل
واؤ معروف
واؤ مجہول
واؤ لِین
یائے معروف
یائے مجہول
یائے لین
۔ ۔ ۔ ۔
شہزاد احمد کھرل
تیسرے سبق سے متعلق ویڈیو لیکچر
https://youtu.be/31xLYTG4Zew
#ادبی_ذوق
#تیسرا_سبق
#شاعری_کے_اوزان_سیکھیں
#شہزاد_احمد_کھرل
#تیسرا_ساکن
#ہجائے_کوتاہ
#آسان_عروض
#واؤ_معدولہ
#یائے_مخلوطہ
#واؤ_لین
#واؤ_معروف
#واؤ_مجہول
#adbizaoq
#poetry
#learning_poetry
#urdu_poetry
#shayri_k_aozan
#hijay_boland
#hijay_kotah
No comments:
Post a Comment