Thursday, April 30, 2020

پانچواں سبق، شاعری کے اوزان سیکھیں

پانچواں سبق


گزشتہ اسباق ایک بار دہرا لیں اس سبق کے بعد آپ  ایک نظم لکھنے والے ہیں۔

بحر
بحر اس فرضی پیمانے کو کہتے ہیں جس پر ہم اپنی ایک کاوش کے تمام مصرعے لکھتے ہیں اور انہیں جانچتے ہیں۔ یہ فرضی پیمانہ مقرر کرتے ہوئے سُر اور ردھم کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ جن بحروں میں سر اور آہنگ نہیں ہوتا وہ متروک ہو جاتی ہیں۔ کیونکہ وزن کا مقصد مصرعے میں آہنگ پیدا کرنا ہوتا ہے۔ اگر مصرع سر، ردھم یا ترنم میں نہ پڑھا جا سکے تو وہ شعر ہونے کے باوجود نثر جیسا ہوتا ہے۔ متروک بحروں کو غیر مستعمل بحریں کہتے ہیں۔

 بنیادی ارکان یا افاعیل کی تعداد آٹھ ہے۔ تمام بحریں انہی بنیادی افاعیل سے بنائی گئی ہیں۔ افاعیل یہ ہیں۔
فَاعِلاتُن، فاعِلُن، مَفاعِیلُن، مُستَفعِلُن، فَعُولُن، مُتَفاعِلُن، مَفاعِلَتُن، مَفعُولات
نوٹ: بحروں کی بناوٹ اور زحافات سے متعلق بحث سے شاعر کا کوئی تعلق نہیں۔ یہ عروضیوں کا کام ہے۔ شاعر کو بس اتنا علم ہونا چاہیے کہ کسی بحر میں اسے شعر کہنے کے لیے کون سی سہولتیں دستیاب ہیں۔
پانچ مشہور بحریں؛
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
فعولن فعولن فعولن فعولن
فاعلاتن فعِلاتن فعِلاتن فعلن
فاعلاتن مفاعلن فعلن

قافیه
کسی غزل وغیرہ کے ہر شعر کے دوسرے مصرعے میں تقریبا آخر میں آنے والے ہم آواز الفاظ کو قافیے کہتے ہیں۔
قافیوں میں آنے والا ایسا حرف جو خود تو ہر قافیے میں بار بار آ رہا ہو لیکن اس سے پہلا حرف مختلف قافیوں میں مختلف آ رہا ہو ایسے حرف کو "حرفِ روی" کہتے ہیں جیسے یار کار دار بار کے آخر میں "ر" بار بار آ رہی ہے لیکن اس سے پہلا حرف الف بھی تو ہر ایک میں آ رہا ہے۔ اس لیے "ر" حرف روی نہیں بلکہ الف جو کہ خود تو ہر قافیے میں بار بار آ رہا ہے لیکن اس سے پہلا حرف مختلف قافیوں میں مختلف آ رہا ہے۔ اس لیے الف کو حرف روی یا "حرف قافیہ" کہیں گے۔

قافیے کے قوانین:
اگر حرفِ روی ساکن ہو تو اس سے پہلے حرف کی حرکت ہر قافیے میں ایک سی ہونی چاہئے یعنی اگر ہم نے ایسا قافیہ اختیار کیا ہے جس میں حرفِ روی ساکن ہے اور اس سے پہلے حرف پر زبر ہے تو ہم اس کے ساتھ ایسے الفاظ کو قافیہ نہیں لا سکتے جن میں حرف روی ساکن ہو اور اس سے پہلے والے حرف پر پیش یا زیر ہو۔
یعنی جَبْر صبر اور قَبْر کے ساتھ کِبر وغیرہ قافیے نہیں لائے جا سکتے اسی طرح ہیر کھیر چیر وغیرہ کے ساتھ سیر، خیر وغیرہ قافیے نہیں آ سکتے۔
یوں بھی سمجھ لیں کہ اگر حرف روی واؤ معروف یا یائے معروف ہو تو اس کے ساتھ واؤ اور یائے مجہول یا واؤ اور یائے لین رکھنے والے الفاظ قافیے نہیں آ سکتے جیسے چِیل نِیل اور کِیل کے ساتھ بیل ذیل ریل پھیل وغیرہ قافیے نہیں آ سکتے۔
نوٹ: روایتی علمِ عروض میں قافیہ ایک پیچیدہ اور تفصیل طلب موضوع ہے۔ حرفِ روی کو پہچاننے کے لیے بہت سی اصطلاحات کا جاننا ضروری قرار دیا جاتا ہے۔ بہرحال میں نے نئے دوستوں کے لیے حرفِ روی کی پہچان اور قافیے کے قواعد کو بہت آسان کر کے پیش کیا ہے البتہ کوئی اس سے اختلاف کرنا چاہے تو اس کا حق بنتا ہے۔

ردیف
وہ الفاظ جو قافیہ کے بعد اشعار میں بار بار دہرائے جاتے ہیں ردیف کہلاتے ہیں۔
ردیف کے الفاظ میں پائے جانے والے واؤ اور یائے معروف کو واؤ اور یائے مجہول یا لین کے ساتھ نہیں بدلا جا سکتا۔ جیسے

تم جس کو کل میں ڈھونڈتے تھے وہ آج "میں" تھا
تم جس کے پاؤں کی جوتی تھے اس کا تاج "میں" تھا

شعر صرف مثال کے لیے گھڑا ہے۔
پہلے مصرعے کی ردیف میں "میں" ظرفیہ ہے اور اس میں یاۓ مجہول ہے جبکہ دوسرے مصرعے کی ردیف میں "مَیں" برائے متکلم ہے جس میں ی یائے لین ہے۔ اس لئے اس شعر میں ردیف کی غلطی ہے۔

نظم کی اقسام

پابند نظم
ایسی نظم جو پوری نظم ایک بحر میں کہی گئی ہو اور اس میں قافیے اور ردیف کی پابندی بھی کی گئی ہو۔
چند مشہور نظمیں
علامہ محمد اقبال کی مکڑی اور مکھی، پرندہ اور جگنو، ماں کا خواب،لا الہ الا اللہ
الطاف حسین حالی کی مٹی کا دیا، مناجات بیوہ
نظیر اکبرآبادی کی آدمی نامہ، روٹیاں

نظم مُعَرّٰی
ایسی نظم جس میں بحر کی پابندی کی گئی ہو یعنی تمام مصرعے ایک ہی بحر میں ہوں لیکن قافیہ و ردیف کی پابندی نہ کی گئی ہو۔ البتہ کسی کسی شعر میں قافیہ ردیف لائے بھی جا سکتے ہیں۔
نظم معری کی مثال:

رات اک لڑکھڑاتے جھونکے سے

ناگہاں سنگ سرخ کی سل پر

آئینہ گر کے پاش پاش ہوا

اور ننھی نکیلی کرچوں کی

ایک بوجھاڑ دل کو چیر گئی
شکیب جلالی

وزن : فاعلاتن مفاعلن فعلن
اس بحر میں پہلے ہجائے بلند کے مقابل ہجائے کوتاہ کو بھی لایا جا سکتا ہے اور آخری "فِعْلن" کو فَعِلُن بھی باندھا جا سکتا ہے( تفصیلات آئندہ)

آزاد نظم
ایسی نظم جس میں بحر کی پابندی نہ ہو۔ البتہ رکن کی پابندی کی گئی ہو۔ یعنی رکن کی پابندی ہو لیکن تمام مصرعوں میں ارکان کی تعداد ایک جتنی نہ ہو بلکہ جس رکن کا انتخاب کیا گیا ہے وہ کسی مصرعے میں ایک بار کسی میں دو بار کسی میں تین بار اور کسی میں اس سے بھی زیادہ بار لایا گیا ہو۔ مصرعے میں ارکان کی تعداد کی حد مقرر نہیں۔ اس میں قافیہ اور ردیف کی پابندی نہیں ہوتی لیکن لایا بھی جا سکتا ہے۔

موم کی طرح جلتے رہے ہم شہیدوں کے تن
رات بھر جھلملاتی رہی شمع صبح وطن
رات بھر یوں چمکتا رہا چاند تاروں کا بن
تشنگی میں بھی سرشار تھے
پیاسی آنکھوں کے خالی کٹورے لئے
منتظر مرد و زن
(مخدوم محی الدین )
مزکورہ بالا آزاد نظم میں "فاعلن" کی پابندی کی گئی ہے اور پہلے تین مصرعوں میں پانچ بار اور چوتھے مصرعے میں تین بار اور پانچویں مصرعے میں چار بار اور  آخری مصرعے میں دوبار "فاعلن" لایا گیا ہے۔
۔ ۔ ۔

نثری نظم

ایسی نظم جس میں وزن کی یا رکن کی بالکل پابندی نہ کی جائے اسے "نثری نظم" کہتے ہیں۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ اسے نثری نظم نہیں بلکہ نظمی نثر کہنا چاہیے کیونکہ یہ حقیقت میں نثر ہے نظم نہیں۔ بہرحال مثال دیکھیں۔

کبوتر بھی
آسمان میں منڈلاتے ہوئے
گہرے سرخ بادلوں کو دیکھ کر
اپنے پر باندھ لیتے ہیں
اور کابک میں بیٹھے ہوئے
غٹرغوں ، غٹرغوں …
خیر جانے دو
تم بھی عجیب پرندے ہو
کسی بھی موسم میں
پانی پر
اپنے پر مارنے سے باز نہیں آتے
(پروفیسر غیاث متین)

نوٹ: نظم چاہے مذکورہ بالا اقسام میں سے کسی بھی قسم سے تعلق رکھتی ہو نظم میں موضوع یعنی مرکزی خیال ایک ہونا چاہیے اور بہتر ہے کہ یہ مرکزی نکتہ آخری سطور میں ذکر کیا جائے۔ موضوع کوئی بھی ہو سکتا ہے چاند، تارے، یار، سورج، پھول، شبنم، ہوا، خدا، پیغمبر، انسان، دیو، گھر، روٹی، نیند وغیرہ
شہزاد احمد کھرل
۔ ۔ ۔ ۔
سبق سے متعلق ویڈیو لیکچر
https://youtu.be/b0i_uz-QZkg

مشق

(الف)
فاعلن کی پابندی کرتے ہوئے ایک معری یا آزاد نظم لکھیں۔
سب سے پہلے مذکورہ بالا موضوعات میں سے یا اپنے پاس سے عمدہ موضوع کا انتخاب کریں۔ آپ اس موضوع سے متعلق کیا کہنا چاہتے ہیں یہ اچھی طرح سے ذہن میں پکا کر لیں۔ اس کے بعد آزاد نظم کی مثال میں جو نظم دی گئی ہے اسے پڑھتے رہیں اور جب ردھم بن جائے تو اپنی نظم لکھنا شروع کریں۔ نظم چند منٹوں میں ہو جاتی ہے لیکن اس کے موضوع اور مواد کا انتخاب کرنے میں کئی گھنٹے یا دن بھی لگ سکتے ہیں۔
اگر آپ فاعلن پر نظم نہیں لکھ پا رہے تو ان تین اوزان میں سے کسی پر لکھ لیں۔
فعولن
مفاعیلن
مفاعلاتن

(ب)
ان الفاظ کے دس دس یا جتنے آسانی سے ممکن ہوں قافیے لکھیں۔ دو دو قافیے میں نے لکھ دیے ہیں تاکہ آپ آسانی سے پہچان پائیں۔
آنگن، روشن،
دُور ، نور
جان، زبان
گول، ڈھول
الفت، محبت
غور، اَور

(ج)
اس نظم میں سے دس مشکل الفاظ کا انتخاب کر کے ان کے معنی لکھیں اور تقطیع کریں۔

چشمِ نم، جانِ شوریدہ کافی نہیں
تہمتِ عشق پوشیدہ کافی نہیں
آج بازار میں پا بہ جولاں چلو
دست اَفشاں چلو، مست و رقصاں چلو
خاک برسر چلو، خوں بہ داماں چلو
راہ تَکتا ہے سب شہرِ جاناں چلو
حاکمِ شہر بھی، مجمعِ عام بھی
تیرِ الزام بھی، سنگِ دشنام بھی
صبحِ ناشاد بھی، روزِ ناکام بھی
ان کا دم ساز اپنے سوا کون ہے؟
شہرِ جاناں میں اب باصفا کون ہے؟
دستِ قاتل کے شایاں رہا کون ہے؟
رختِ دل باندھ لو دل فگارو چلو
پھر ہمیں قتل ہو آئیں یارو چلو
فیض احمد فیض
بحر
متدارک مثمن سالم
فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن


#ادبی_ذوق
#پانچواں_سبق
#شاعری_کے_اوزان_سیکھیں
#شہزاد_احمد_کھرل
#تیسرا_ساکن
#ہجائے_کوتاہ
#آسان_عروض
#واؤ_معدولہ
#آزاد_نظم
#نظم_معری
#پابند_نظم
#نثری_نظم

#adbizaoq
#poetry
#learning_poetry
#urdu_poetry
#shayri_k_aozan
#hijay_boland
#hijay_kotah
#azad_nazm
#nazm e morra

Sunday, April 26, 2020

چوتھا سبق، شاعری کے اوزان سیکھیں

چوتھا سبق

فارسی زبان میں ترکیبِ اضافی، توصیفی اور عطفی بناتے ہوئے وزن پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟
نوٹ: فی الحال ہمیں صرف فارسی ترکیبوں سے مطلب ہے انہی کی بات کریں گے۔

ترکیب اضافی
دو چیزوں کے درمیان تعلق یا ملکیت ظاہر کرنے کے لیے ترکیب اضافی بنائی جاتی ہے۔ جیسے غمِ دنیا، چراغِ محفل، راحتِ جاں،

ترکیب توصیفی
کسی کا اچھا یا برا وصف بیان کرنے کے لیے بنائی جاتی ہے۔ جیسے  گنبدِ خضرا، دلِ بے رحم، لبِ شیریں،

ترکیبِ عطفی
کچھ چیزوں کو ایک حکم یا ایک خبر میں شامل کرنے کے لیے واؤ کے ذریعے جوڑا جاتا ہے۔ جیسے دل و جگر ، وہم و گمان، شب و روز
دل کے ل وہم کے م اور شب کی ب پر پیش پڑھیں گے۔

اہم قاعدہ
جب کوئی لفظ ایک ہجائے بلند پر مشتمل ہو (جیسے دل، غم، لب وغیرہ) یا کسی لفظ کا آخری ہجا، ہجائے بلند ہو (جیسے دھڑکن دلبر، شجر، وطن وغیرہ) تو ترکیب توصیفی یا اضافی بناتے ہوئے جب آخری حرف کے نیچے زیر آئےگی یا ترکیب عطفی بناتے ہوئے آخری حرف پر پیش آئے گی تو یہ ہجائے بلند دو حصوں میں تقسیم ہو جائے گا پہلا حرف ہجائے کوتاہ بن جائے گا اور دوسرا حرف(جس کے نیچے زیر یا اوپر پیش آئی ہے) کے بارے میں شاعر کو اختیار ہے کہ اسے ہجائے کوتاہ باندھے یا ہجائے بلند۔
اور جس ہجے کے بارے ميں شاعر کو کوتاہ اور بلند باندھنے میں اختیار ہو اسے ہم "و" سے ظاہر کریں گے۔
جیسے
غمِ دنیا = غَ ۔ مِ۔ دن۔ یا = ا و د د
دلِ بے رحم = دِ ۔ لِ ۔ بے۔ رح ۔ م = ا و د د ا
دل و جگر = دِ ۔ لُ ۔ ج ۔ گر = ا و ا د
۔ ۔ ۔ ۔

جب کسی لفظ کے آخر میں گول "ہ" ہو۔

اگر تو لفظ کے آخر میں آنے والی گول ہ کسی ہجائے بلند کا حصہ ہو تو ترکیبِ اضافی، توصیفی یا عطفی بناتے ہوئے وہ ہمزہ میں بدل جائے گی۔ اور اس صورت میں ہ لکھنے میں آئے گی لیکن شمار نہیں ہو گی اور وزن میں ویسی ہی تبدیلی رونما ہو گی جیسی اوپر ذکر کی گئی یعنی ہ سے پہلا حرف ہجائے کوتاہ میں بدل جائے گا اور ہ کی جگہ آنے والے ء کو کھینچ کر ہجائے بلند بھی کیا جا سکتا ہے اور مختصر پڑھ کر ہجائے کوتاہ بھی لایا جا سکتا ہے۔
جیسے
وعدہءِ فردا = وع۔ د ۔ ءِ ۔ فر۔ دا = د ا و د و
دیدہءِ تر = دی۔دَ ۔ءِ۔ تر = داود
دیدہ و دل = دی۔ د ۔ءُ ۔ دل = داود

اگر لفظ کے آخر میں آنے والی گول ہ کسی ہجے بلند کا حصہ نہ ہو تو وہ اپنی حالت میں موجود رہے گی البتہ اس کے ہجائے بلند یا ہجائے کوتاہ باندھنے میں شاعر کو اختیار حاصل ہو جائے گا۔
نگاہِ یار = ن۔گا۔ہِ۔یا۔ر= ادودا
سپاہِ پرجوش = س۔پا۔ ہِ۔ پر۔ جو۔ ش= ادوددا
اندوہ و غم = ان۔دو۔ہُ ۔ غم = ددود

اگر کسی لفظ کے آخر میں الف یا واؤ ہو تو اس کی ترکیب اضافی اور توصیفی بناتے وقت اس لفظ کے آخر میں "ئے" آئے گا لفظ کے آخر میں آنے والے الف کا وزن شمار ہو گا۔ البتہ واؤ ہونے کی صورت میں واو کو وزن میں شمار کرنے یا نہ کرنے میں شاعر کو اختیار ہو گا اور اسی طرح "ئے" کے بارے میں شاعر کو اختیار ہو گا کہ اسے ہجائے کوتاہ لائے یا ہجائے بلند۔
وفائے یار =و۔فا۔ئے۔یا۔ر = ادودا
ادائے دلکَش = ا۔دا۔ئے۔دل۔کش = ادودد
سوئے قوم = سو ۔ ئے ۔قو۔ م= وودا
روئے روشن = رو۔ ئے۔ رو۔ شن = وودد
مزکورہ بالا مثالوں کی تقطیع میں جہاں "و" لکھی گئی ہے اسے شاعر ضرورت کے وقت ہجائے بلند کے مقابل بھی لا سکتا ہے اور ہجائے کوتاہ کے مقابل بھی۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اخفاۓ الف

کسی مصرعے میں ایک لفظ کا آخری حرف، حرفِ صحیح ساکن ہو اور اس سے اگلے لفظ کا پہلا حرف الف متحرک ہو تو شعری ضرورت کے تحت الف متحرک کا اخفا کر کے اس کی حرکت اس سے پہلے والے حرف ساکن کو دے دی جاتی ہے اسے اخفائے الف کہتے ہیں۔ اس عمل سے الف کی آواز ساکت ہو جاتی ہے۔ جیسے "یار اپنا" یار کی ر حرفِ صحیح ساکن ہے اور اپنا کا پہلا الف متحرک ہے اس الف کی حرکت ر کو مل جائے گی۔
یار اپنا = یا۔ ر ۔اپ۔ نا = د ا د د
اخفائے الف کے بعد
یار اپنا = یا۔ رَپ۔ نا = د د د
آوازیں تین رہ گئیں 👆
اور
ظلم ایسا = ظل۔م۔اے۔سا = دادو
ایفائے الف کے بعد
ظلم ایسا = ظل ۔ مے ۔ سا = ددو

اخفائے الف کے ذریعے جو الف گرایا جاتا ہے وہ الف مصرعے میں لکھا ہوا موجود رہے گا لیکن آواز کھو دے گا۔

اخفاۓ غیر الف
اخفاۓ الف کے طریقے سے ع، ح، یا ہ کا اخفا کرنا عیب سمجھا جاتا ہے۔
جیسے "مفاعلن فعِلاتن مفاعلن فِعْلن" میں لکھے گئے درج ذیل شعر کے پہلے مصرعے میں اخفاۓ عین کیا گیا ہے۔

ہم عکس عکس بکھرتے رہے اسی دُھن میں
کہ زندگی میں کبھی لازوال تھے ہم بھی
پروین شاکر
۔ ۔ ۔

مشق کرنے کا طریقہ

وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
مرادیں غریبوں کی بر لانے والا

مفاسد کا زیر و زبر کرنے والا
قبائل کو شِیر و شکر کرنے والا

اتر کر حِرا سے سوئے قوم آیا
اور اک نسخہءِ کیمیا ساتھ لایا

مس خام کو جس نے کندن بنایا
کھرا اور کھوٹا الگ کر دکھایا

عرب جس پہ قرنوں سے تھا جہل چھایا
پلٹ دی بس اک آن میں اس کی کایا

رہا ڈر نہ بیڑے کو موجِ بلا کا
اِدھر سے اُدھر پھر گیا رخ ہوا کا
(الطاف حسین حالی)

اپنے سامنے قلم اور کاغذ رکھ لیں پھر نعت کے مذکورہ بالا اشعار کو گنگنا کر یا تحت الفظ میں ردھم کے ساتھ بار بار پڑھیں جب ایک سُر یا ردھم  بن جائے تو ایک شعر کا انتخاب کر کے چند منٹ تک اسے دہراتے رہیں پھر دہراتے دہراتے اسی سُر یا ردھم میں اپنے مصرعے لکھنا شروع کر دیں مشق کرتے ہوئے اگر محسوس ہو کہ ردھم ٹوٹ گیا ہے تو دوبارہ نعت کا شعر پڑھنا شروع کر دیں جب دوبارہ ردھم بن جائے تو پھر اپنے مصرعے بنانے شروع کر دیں۔
یہ نعت "فعولن فعولن فعولن فعولن" پر ہے اور آدھا مصرع "فعولن فعولن" ہو گا یعنی
فعولن فعولن فعولن فعولن
وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
 اور
 فعولن فعولن
وہ نبیوں میں رحمت
لقب پانے والا
جس کسی بحر پر مشق کرنا چاہیں مذکورہ بالا طریقے کے مطابق اس بحر میں کسی اچھے شاعر کے لکھے ہوئے چند اشعار کا انتخاب کر لیں۔ پھر انہیں پڑھتے ہوئے ردھم بنا کر اپنے اشعار کہہ لیں۔

مصرعے لکھ لینے کے بعد پرکھنے کا طریقہ

ایک کاغذ پر بڑا سا "فعولن فعولن" یا اس کی علامتیں "ادد ادد" لکھ لیں پھر اس وزن پر نظر کرتے ہوئے اپنا ایک مصرع اس طرح سے دہرائیں کہ زبان سے مصرع پڑھ رہے ہوں اور نظر سے وزن پڑھ رہے ہوں۔
 زبان سے جو ہجا ادا کر رہے ہوں آپ کی نظر وزن پر اس مقام پر ہو جس کے مقابل وہ ہجا آ رہا ہے۔

 مثال کے طور پر اگر اسی نعت کا پہلا مصرع وزن پر پرکھیں تو یوں ہو گا کہ جب منہ سے لفظ "وہ" ادا ہو رہا ہو تو فعولن کی "ف" پر نظر ہو اور دماغ اس چیز کو پرکھ رہا ہو کہ کیا لفظ "وہ" ف (یعنی ہجائے کوتاہ) کے مقابل آ سکتا ہے؟
اسی طرح "نَب" پڑھتے ہوئے "عو" پر نظر ہو اور "یوں" پڑھتے ہوئے "لُن" پر نظر ہو اس کے بعد مصرعے کے "میں" پر پہنچ کر نیا فعولن شروع ہو چکا ہو گا۔ "میں" پڑھتے ہوئے ف کو دیکھیں گے اور "رَح" پڑھتے ہوئے "عو" کو اور "مت" پڑھتے ہوئے یے "لُن" کو۔ اور ذہن سے یہ پرکھتے جائیں گے کہ وزن میں جہاں ہجائے بلند ہے مصرعے میں اس کے مقابل ہجائے کوتاہ تو نہیں آرہا؟
اس پیرے میں ہم نے بغیر لکھے زبان آنکھوں اور دماغ  کے تال میل سے آدھے مصرعے کی تقطیع کی۔
وہ۔نب۔یوں۔میں۔رح۔مت
ف۔عو۔لن۔ ۔ ۔ ۔ ف۔عو۔لن
ا۔ ۔ ۔د۔ ۔ د ۔ ۔  ۔  ۔ ا ۔ ۔د ۔  د
اسی طرح سے سارے مصرعے پرکھ لیں۔
شہزاد احمد کھرل

سبق سے متعلق ویڈیو لیکچر
https://youtu.be/jAFHHtWTYCs
۔ ۔ ۔ ۔ ۔

مشق

(الف)ان اوزان پر دس دس  جملے بنائیں

فعولن فعولن
فعولن فعولن فعولن فعولن
آپ پڑھ چکے ہیں کہ کچھ الفاظ ہجائے کوتاہ کے مقابل بھی لائے جا سکتے ہیں اور ہجائے بلند کے مقابل بھی اور حروف علت کو گرانے سے متعلق بھی پڑھ چکے ہیں تو شاعر کو ملنے والی رعائیتوں کو استعمال کرتے ہوئے جملے بنا لیں اپنے روز مرہ معمول پر بھی بنا سکتے ہیں جیسے
فعولن فعولن
اٹھا صُبْح جب میں
تو یہ میں نے دیکھا
نمازی مساجد
کو جاتے تھے اکثر
۔ ۔ ۔

(ب)لغت دیکھ کر ان الفاظ کے معانی لکھیں اور تقطیع کریں۔ دس الفاظ اپنی طرف سے بھی شامل کر لیں۔

اخفائے الف، حاصلِ کلام، نسخہء کیمیا، وسعتِ قلبی، شاملِ حال، دودِ چراغِ محفل، صبح نو، گل و بلبل، وہم و گماں، دیدہء نمناک

تقطیع اس طور پر کریں کہ جس ہجے سے متعلق آپ سمجھتے ہیں کہ شاعر کو اختیار ہے اس کے مقابل و لکھیں۔

(ج)
 ان الفاظ کی تقطیع اخفائے الف کا قانون لاگو کر کے کریں۔
درداتنا، روز ان کو، گھر آپ کا


#ادبی_ذوق
#تیسرا_سبق
#شاعری_کے_اوزان_سیکھیں
#شہزاد_احمد_کھرل
#تیسرا_ساکن
#ہجائے_کوتاہ
#آسان_عروض
#واؤ_معدولہ
#یائے_مخلوطہ
#واؤ_لین
#واؤ_معروف
#واؤ_مجہول
#adbizaoq
#poetry
#learning_poetry
#urdu_poetry
#shayri_k_aozan
#hijay_boland
#hijay_kotah

Saturday, April 25, 2020

تیسرا سبق، شاعری کے اوزان سیکھیں

تیسرا سبق

ایک حرف متحرک کے بعد ایک حرف ساکن آئے تو دونوں مل کر ہجائے بلند بناتے ہیں جیسے دِل، غَم، دُکھ
ایک حرف متحرک کے بعد دو حروف ساکن آئیں جیسے "دُور" تو پہلا حرف ساکن، متحرک حرف کے ساتھ ملکر ہجائے بلند بناتا ہے جیسے دُور میں "دُو" اور دوسرا ساکن ہجائے کوتاہ ہوتا ہے جیسے دُور میں "ر"
ایک حرف متحرک کے بعد تین ساکن آئیں جیسے "دوست" تو پہلا ساکن، متحرک کے ساتھ مل کر ہجائے بلند بناتا ہے جیسے دوست میں "دو" دوسرا ساکن ہجائے کوتاہ ہوتا ہے جیسے دوست میں "س" اور تیسرا ساکن وزن میں شمار نہیں ہوتا جیسے دوست میں "ت"
اسی طرح گوشت، راست وغیرہ کی ت وزن میں شمار نہیں ہو گی۔
دوست = دو ۔ س = دا
گوشت = گو ۔ ش = دا
راست = را ۔س = دا
۔ ۔ 

درج دیل الفاظ میں شاعر کو اختیار ہے کہ انہیں اپنی ضرورت کے مطابق ہجائے کوتاہ کے مقابل لے آئے یا ہجائے بلند کے مقابل۔ یہ کثیرالاستعمال الفاظ ہیں ان میں حروف علت کو بلاجھجک گرایا جا سکتا ہے۔
کا کی کے کو کہ
میں تو وہ یہ
ہی ہو ہیں ہے ہوں
تھا تھی تھے گا گی گے
میں سے نے سو
ایسے ہجے جو شاعر کی ضرورت کے مطابق بلند بھی ہو سکتے ہیں اور کوتاہ بھی، ایسے ہجوں کو ہم "و" سے ظاہر کریں گے۔ یعنی مزکورہ بالا الفاظ کا وزن و ہے۔

میں (برائے متکلم) اور تُو (برائے مخاطب) کو بہتر ہے کہ ہجائے بلند باندھا جائے۔

"نہ اور پہ" دونوں ہمیشہ ہجائے کوتاہ باندھے جائیں گے۔

"کیوں اور کیا" کا وزن ایک ہجائے بلند کے برابر ہے۔
۔ ۔ ۔
واؤ معدولہ
خواب، خوار، خواں، دستر خوان، خواہش، درخواست، خواجہ، خواندہ، خواہ مخواہ، خویش، خود، خوش، خورشید وغیرہ میں پائی جانے والی واؤ وزن میں شمار نہیں ہوتی۔ اسے واؤ معدولہ کہتے ہیں یہ فارسی زبان کے الفاظ میں پائی جاتی ہے اور عام طور پر اس "و" سے پہلے حرف "خ" ہوتا ہے۔
چنانچہ:
خواب, خوار, خویش = د ا
خواہش, خواجہ = د د
درخواست = د د ا
خواندہ = د ا د
خود, خوش = د
خورشید = د د ا

یائے مخلوطہ
ان الفاظ میں آنے والی "ی" وزن میں شمار نہیں ہوتی پیار، دھیان، گیان، کیا(استفہامیہ)، پیاس، سیانا، بیاہ، کیوں وغیرہ اس ی کو یائے مخلوطہ کہتے ہیں یہ ہندی الفاظ میں پائی جاتی ہے۔
چنانچہ:
کیا, کیوں = د
پیاس, پیار, دھیان, بیاہ = دا
سیا نا = دد
میری رائے میں لفظ دھیان کے بارے میں شاعر کو اختیار ہے کہ اس کی ی کو شمار کرے یا نہ کرے۔ (قاعدے کی رو سے ی شمار نہیں ہونی چاہیے لیکن ہمارے ہاں جس طرح یہ لفظ ادا کیا جاتا ہے اس کی ی کی آواز خلط نہیں ہوتی۔ اس بات کو مدنظر رکھیں تو شمار ہونی چاہیے۔)

کرنا مصدر سے ماضی کے صیغے "کِیا" میں ی شمار ہو گی۔
۔ ۔

(ا، و، ی حروفِ علت ہیں اور ان تین کے سوا تمام حروف تہجی، حروفِ صحیح کہلاتے ہیں)

حروف علت کو گرانا
(گرانے سے مراد "وزن میں شمار نہ کرنا" ہے)
حروف علت تین ہیں الف، و، ی
حروف علت میں سے کوئی حرف کسی لفظ کے آخر میں آ جائے تو شعری ضرورت کے تحت اسے گرانا جائز ہے۔ جیسے
اصلی وزن
سامنا = سا م نا = د ا د
آخر سے الف گرانے کے بعد
سامنا = سا م نَ = د ا ا
گویا ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ سامنا کا وزن"د ا و" ہے کیوں کہ آخری ہجائے بلند کو حرف علت گرا کر ہجائے کوتاہ لانا بھی شاعر کا اختیار ہے اور جس ہجے میں شاعر کو اختیار ہو اس ہجے کو ہم "و" سے ظاہر کرتے ہیں۔
دیکھو= دے۔کھو= دد
و گرانے کے بعد
دیکھو= دے۔کُ= دا
یعنی دیکھو= دو
نوٹ: آخر سے حرف علت گرانے کے بعد اس سے پہلا حرف ساکن نہیں بن جائے گا بلکہ اس کی حرکت برقرار رہے گی۔ لہذا جب ہم "روشنی" کی ی گرا کر اسے روشنِ پڑھتے ہیں تو اس کی آواز روشن سے نہیں ملتی۔

نوٹ : حرف علت کو اسی صورت گرایا جانا چاہیے جب حرف علت گرانے سے لفظ نہ بگڑتا ہو اور سننے والے کو حرف علت کے بغیر پڑھنے کے باوجود ٹھیک ٹھیک سمجھ آئے۔ جیسے ان الفاظ کے آخر سے حرف علت گرانا درست نہیں خدا، جدا، کی(کرنا مصدر سے فعل ماضی جیسے "میں نے دل کی بات کی") وغیرہ
 بعض جگہ یہ تفریق پڑھی ہے کہ عربی اور فارسی الفاظ کے آخر سے حروف علت نہ گرایا جائے جبکہ ہندی الفاظ کے آخر سے گرایا جا سکتا ہے اس تفریق کو بھی ذہن نشین کر لیں لیکن میرا خیال ہے کہ آواز پر غور کر کے اگر یہ تصدیق کر لی جائے کہ حرف علت گرانے سے لفظ کا وقار مجروح نہیں ہو رہا تو پھر گرانا جائز ہے ورنہ نہیں۔

لفظ کے آخر میں آنے والی گول ہ بھی الف کی ہم آواز ہوتی ہے لہذا اسے گرانا بھی درست ہے۔ اور الف کے ساتھ ہم قافیہ لانا بھی درست ہے۔(تفصیلات آئندہ)
راستہ  = را س تہ = د ا د
آخر سے ہ گرانے کے بعد
راستہ = را س تَ = د ا ا
گویا لفظ راستہ کو ہم "د ا و "سے ظاہر کریں گے کیوں کہ آخری ہجے سے متعلق شاعر کو اختیار حاصل ہے.
راستہ = را۔ س ۔ تہ = د ا و

یہ بات یاد رکھیں کہ حرف علت، لفظ کے درمیان میں آ رہا ہو تو اسے نہیں گرایا جا سکتا سوائے چند کثیرالاستعمال الفاظ کے۔ جیسے
تیرا، میرا کی ی گرائی جا سکتی حالانکہ درمیان میں ہے۔
کوئی کی و گرائی جا سکتی ہے۔
لفظ "کوئی" میں دو ہجے ہیں دونوں کے متعلق شاعر کو اختیار حاصل ہے کہ وہ انہیں ہجاۓ بلند باندھے یا ہجائے کوتاہ۔
کوئی = کو ۔ ئی = وو

ہوئی ہُوا، ہوئے، ہوئیں کی "و" وزن میں شمار نہیں ہوتی ان کا وزن "او" ہے یعنی پہلا ہجا کوتاہ اور دوسرے میں شاعر کو اختیار ہے۔

لفظ "اور" کا بیان

لفظ "اور" بطور حرف عطف استعمال ہوا ہو تو اس کی "و"  گرا کر اسے ایک ہجائے بلند کے برابر باندھا جا سکتا ہے۔(کثیرالاستعمال ہونے کی وجہ سے)
اور= او۔ر= دا
اور= ار = د
جیسے
وفا اور جفا = اددااد/ ادداد

اگر لفظ "اور" مزید کے معنی میں ہو تو "و" نہیں گرا سکتے۔ جیسے اور سنائیں، آپ اور کچھ لیں گے؟
اور سنائیں= داادد

اسی طرح اگر لفظ "اور" مختلف یا منفرد کے معنی میں ہو تو بھی و نہیں گرا سکتے۔ جیسے "آپ کی بات ہی اور ہے۔" یہاں لفظ "اور" منفرد کے معنی میں ہے یعنی آپ کی بات ہی الگ ہے۔ اس صورت میں اور کی واؤ نہیں گرا سکتے۔

ایسے الفاظ جن کا متبادل املا موجود ہے جب ان کے درمیان سے حرف علت گرایا جائے تو ان کا متبادل املا لکھا جائے گا۔ جیسے
میرا، میری، میرے، تیرا، تیری، تیرے، نگاہ، راستہ، ماہ، سپاہ، دیوانہ وغیرہ
کے درمیان سے حرف علت گرانے کے بعد
مرا، مری، مرے، ترا، تری، ترے، نگہ، رستہ، مہ، سپہ، دِوانہ
لکھیں گے۔
۔ ۔ ۔

واؤ معروف
واؤ ساکن سے پہلے حرف پر پیش ہو اور یہ پیش خوب ظاہر کر کے پڑھی جائے جیسے نور طُور حضور دُور پھول وغیرہ

واؤمجہول
واؤ ساکن سے پہلے حرف پر پیش ہو اور یہ پیش خوب ظاہر نہ ہو رہی ہو جیسے شور مور بول وغیرہ

یائے معروف
ی ساکن سے پہلے حرف کے نیچے زیر ہو اور وہ خوب ظاہر کر کے پڑھی جا رہی ہو جیسے چِیل جِھیل بِیج وغیرہ

یائے مجہول
ی ساکن سے پہلے حرف کے نیچے زیر ہو لیکن زیر خوب ظاہر کر کے نہ پڑھی جائے جیسے کھیل ریل پیل جیل دیر

واؤ، یائے لِین
واؤ اور ی ساکن ہوں اور ان سے پہلے حرف پر زبر ہو تو انہیں "واؤ لِین" اور "یائے لین" کہا جاتا ہے۔ جیسے دَور قوم مابَین خَیر ضَو وغیرہ میں و اور ی

شہزاد احمد کھرل
۔ ۔   ۔ ۔

کام
سبق کو کم از کم تین دفعہ پڑھیں ویڈیو لیکچر سنیں اور لغت کی مدد سے کام حل کریں۔
(الف)
مفاعیلن اور فاعلاتن کے وزن پر دس دس ایسے الفاظ لکھیں جو دو دو لفظوں سے مل کر بنے ہوں جیسے
مرا۔دلبر
مفا۔عیلن
اور
آج۔آیا
فاعِ۔لاتن
نوٹ: بنائے گئے الفاظ بامعنی ہوں۔ اور اگر جملوں میں تسلسل ہو تو اور بھی بہتر ہے جیسے مرے دلبر، کہاں ہے تو، مجھے سن لے، اکیلا ہوں،

(ب)لغت دیکھ کر ان الفاظ پر اعراب لگائیں ان کے معانی لکھیں اور تقطیع کریں۔ دس الفاظ اپنی طرف سے بھی شامل کر لیں۔

راست، لطافت، پیاس، درماندگی، مژگاں، خواجہ، صحبت، درخواست، پیارا، گوشت،

(ج) واؤ اور ی کی تمام اقسام کو الگ الگ کریں۔
 کیل، بَیل، چور، دَور، دُور، بول، کھول، جون، خون، طُور، فضول، طفیل، دِین، کھیر، ریل، سیر، شیر، گول، پھیل، ایک، نیک، دِین، جھیل
واؤ معروف
واؤ مجہول
واؤ لِین
یائے معروف
یائے مجہول
یائے لین
۔ ۔     ۔ ۔
شہزاد احمد کھرل

تیسرے سبق سے متعلق ویڈیو لیکچر
https://youtu.be/31xLYTG4Zew
#ادبی_ذوق
#تیسرا_سبق
#شاعری_کے_اوزان_سیکھیں
#شہزاد_احمد_کھرل
#تیسرا_ساکن
#ہجائے_کوتاہ
#آسان_عروض
#واؤ_معدولہ
#یائے_مخلوطہ
#واؤ_لین
#واؤ_معروف
#واؤ_مجہول
#adbizaoq
#poetry
#learning_poetry
#urdu_poetry
#shayri_k_aozan
#hijay_boland
#hijay_kotah

Friday, April 24, 2020

دوسرا سبق، شاعری کے اوزان سیکھیں

دوسرا سبق
حرکات کی مدد سے ہجائے کوتاہ اور بلند کی پہچان

زیر، زبر اور پیش کو حرکت کہتے ہیں جس حرف پر حرکت یعنی زیر، زبر یا پیش ہو اسے متحرک کہتے ہیں اور جس حرف پر حرکت نہ ہو اسے ساکن کہتے ہیں۔

ہجائے کوتاہ
(ایک)
ایسا متحرک حرف جس کے بعد متحرک حرف ہو  جیسے غَلَط میں "غ" ہجائے کوتاہ ہے کیوں کہ غ کے بعد ل بھی متحرک ہے اور کتاب میں "ک" کیوں کہ ک متحرک کے بعد ت بھی متحرک ہے۔
(دو)
ایسا ساکن جس سے پہلے ساکن ہو جیسے دور میں ر ہجائے کوتاہ ہے کیوں کہ ر ساکن سے پہلے و بھی ساکن ہے اور کتاب میں ب کیوں کہ ب سے پہلے الف بھی ساکن ہے۔

ہجائے بلند
ایک حرف متحرک کے بعد ایک حرف ساکن ہو تو دونوں مل کر ہجائے بلند بناتے ہیں۔ جیسے غلط میں لَط، دور میں دُو اور کتاب میں تَا ہجائے بلند ہیں۔

حرکات درست تلفظ کرنے میں مددگار ہوتی ہیں۔
عام طور پر ہم حرکات کا استعمال بہت کم کرتے ہیں۔ کسی لفظ کو لغت میں دیکھیں تو لفظ پر موجود حرکات درست تلفظ کی طرف رہنمائی کرتی ہیں۔ لفظ کا درست تلفظ معلوم کر کے اسے پڑھتے ہوئے آوازوں پر غور کریں۔ جتنی آوازیں برآمد ہوں گی لفظ میں اتنے ہجے ہوں گے۔ ایک حرفی آواز کو ہجائے کوتاہ کہیں گے اور دو حرفی آواز کو ہجائے بلند، جیسے لفظ شمار کی آوازوں پر غور کریں تو اس سے تین آوازیں برآمد ہوتی ہیں "شُ ما ر" پہلی اور تیسری آواز ایک حرفی ہے تو اسے ہجائے کوتاہ کہیں گے درمیان والی آواز دو حرفوں(م+ا=ما) سے مل کر بنی ہے تو اسے دوحرفی ہجا یا ہجائے بلند کہیں گے۔

یاد رکھنے کی بات
ہجائے بلند کو "طویل دورانیے کی آواز" اور ہجائے کوتاہ کو "مختصر دورانیے کی آواز" بھی کہتے ہیں۔
۔ ۔
پانچ حرفی الفاظ
لفظ رقابت کو پڑھتے ہوئے غور کریں تو اس سے تین آوازیں برآمد ہو رہی ہیں "ر۔قا۔بت"پہلی آواز ایک حرفی ہے دوسری اور تیسری آوازیں دو حرفی ہیں یعنی ایک ہجائے کوتاہ کے بعد دو ہجائے بلند ہیں علامتوں میں یوں ظاہر کریں گے۔
 ا د د
محبت = م حب بت = ا د د، ب پر شَد ہے اس لیے دو بار گنا جائے گا۔
اطاعت = ا۔طا۔عت = ا د د
شگوفہ = ش۔گو۔فہ = ا د د
شمائل = ش۔ما۔ئل = ا د د
اور ان الفاظ کا وزن فعولُن ہے۔
فعولن = ف۔عو۔لن = ا د د

دوسری قسم
جستجو = جُس ت جو = د ا د
سامنا = سا۔م۔نا = د ا د
ٹوکری = ٹو۔ک۔ری = د ا د
فاعلن = فا۔ ع۔ لن = د ا د
عروضی وزن، فاعلن
۔ ۔
چھے حرفی الفاظ
دینیات = دی ۔ن۔ یا ۔ت = د ا د ا
دوربین = دو ۔ر ۔بی ۔ن = د ا د ا
طالبات = طا ۔ل ۔با ۔ت = د ا د ا
فاعلات = فا ۔ع ۔لا ۔ت = د ا د ا
۔ ۔
سات حرفی
چارپائی = چا۔ ر۔ پا۔ ئی = د ا د د
بے وفائی = بے۔ و۔ فا۔ ئی = د ا د د
وزن فاعلاتن
فاعلاتن = فا ۔ع۔ لا۔ تن = د ا د د
۔ ۔
نیا بستہ = ن۔ یا۔ بس۔ تہ = ا ددد
توانائی = ت۔ وا ۔نا۔ ئی = ا ددد
چرایا دل = چ۔ُ را ۔یا۔ دل = ا ددد
مفاعیلن = م۔ فا ۔عی ۔لن = ا ددد

پہلے سبق میں ہم نے تین حرفی الفاظ کی دو قسمیں پڑھی ہیں۔
پہلی قسم جس میں پہلا ہجا کوتاہ اور دوسرا ہجا بلند ہو جیسے وفا، حیا، صفا، گھڑی، کبھی، ابھی، مجھے، اسے، چلو، رکو، کرو
ان الفاظ کا وزن ہے فَعُو

دوسری جس میں ہجائے بلند پہلے اور کوتاہ بعد میں ہو جیسے یار، غار، آر، پار، پان، آج، بیر، خیر، سیر، چیل، جیل، دین، نور، طور، دیکھ
ان الفاظ کا وزن ہے فاع

چار حرفی الفاظ جیسے دلبر، چاہت، باجا، روٹی، چھوٹا، گاڑی، آنگن، گلشن، بولو، دیکھو،
ان الفاظ کا وزن ہے فِعْلن(ع ساکن ہے)

اب تین حرفی الفاظ کی پہلی قسم میں سے ایک لفظ لیں اور چار حرفی الفاظ میں سے ایک لفظ اس کے ساتھ ملا دیں جیسے
"مجھے دیکھو" لفظ "مجھے" تین حرفی الفاظ کی پہلی قسم کی مثالوں میں موجود ہے اور "دیکھو" چار حرفی الفاظ کی مثالوں میں موجود ہے۔
مجھے دیکھو= مُ۔جھے۔دے۔کھو = اددد
یا یوں
مُ۔جھے۔دے۔کھو
ا۔۔۔۔د ۔۔۔۔۔د ۔۔۔۔۔۔د
جیسے مفاعیلن
م۔فا۔عی۔لن
ا۔۔د ۔۔۔د ۔۔۔د

ہم نے دو الفاظ ملا کر "مفاعیلن" کا وزن پورا کر لیا مفاعیلن کا وزن ایک لفظ سے بھی پورا کیا جا سکتا ہے ایسا لفظ جس سے چار آوازیں برآمد ہو رہی ہوں ان میں سے پہلی دو آوازیں تین حرفی الفاظ کی پہلی قسم سے ہوں اور دوسری دو آوازیں چار حرفی الفاظ کی جو قسم ہم نے پڑھی ہے اس سے ہوں جیسے "تماشائی" چار آوازیں "ت۔ما۔شا۔ئی"پہلی دو آوازیں "ت۔ما" لفظ "مجھے" کی طرح ہیں یعنی پہلا ہجا، ہجائے کوتاہ اور دوسرا ہجا، ہجائے بلند ہے اور دوسری دو آوازیں "شا۔ئی" چار حرفی الفاظ کی طرح ہیں یعنی دونوں ہجے ہجائے بلند ہیں پورا لفظ ہو گیا
تماشائی = ت۔ما۔شا۔ئی = اددد
یا
ت۔ما۔شا۔ئی
ا۔۔۔۔ د ۔۔۔د ۔ د

اسی طرح "یار بولو"
لفظ "یار" تین حرفی الفاظ کی دوسری قسم کی مثالوں میں سے لیا ہے اور "بولو" چار حرفی الفاظ کی مثالوں میں سے لیا ہے۔
یار بولو = یا۔ر۔بو۔لو = دادد
اسی طرح فاعلاتن
فا۔ع۔لا۔تن
د ۔ا۔ د ۔ د

تو ہم نے دو الفاظ ملا کر فاعلاتن کا وزن پورا کرلیا یہ وزن ایک لفظ سے بھی پورا کیا جا سکتا ہے ایسا لفظ جسے پڑھنے سے چار آوازیں برآمد ہوں اور پہلی دو آوازیں تین حرفی الفاظ کی دوسری قسم سے ہوں اور دوسری دو آوازیں چار حرفی الفاظ سے برآمد ہونے والی آوازوں جیسی ہوں جیسے "روشنائی" اس لفظ سے آوازیں برآمد ہو رہی ہیں "رو۔ش۔نا۔ئی"پہلی دو آوازیں "رو۔ش" یار کی طرح ہیں اور دوسری دو آوازیں "نا۔ئی" بولو کی طرح ہیں۔
روشنائی = رو۔ش۔نا۔ئی = دادد = فاعلاتن

اسی طرح تین حرفی الفاظ کی پہلی قسم سے دو الفاظ لیتے ہیں جیسے "وفا کرو" اوپر مثالوں میں دیکھ لیں یہ الفاظ ہیں؟ اور اپنے آپ کو یہ بھی بتا دیں کہ یہ وہاں کیوں ہیں کیونکہ وہاں ایسے الفاظ ہیں جن میں پہلا ہجا، ہجائے کوتاہ اور دوسرا ہجائے بلند ہے۔
وفا کرو = و۔فا۔ک۔رو= اداد
مفاعلن = م۔فا۔ع۔لن = اداد

ہم نے دو لفظوں کو ملا کر مفاعلن کا وزن بنایا ہے اب آپ یہ تو سمجھ گئے ہوں گے کہ اگر ایک لفظ مفاعلن کے وزن پر لانا ہے تو وہ کیسا ہونا چاہیے؟
جماعتوں = ج۔ما۔ع۔توں = اداد
۔ ۔ ۔

اسی طرح تین حرفی الفاظ کی دوسری قسم سے دو الفاظ لیتے ہیں "نور دیکھ"
نور دیکھ = نو۔ر۔دے۔کھ = دادا
فاعلات = فا۔علا۔ت = دادا
۔ ۔  ۔

نون غنہ(ں) اور دو آنکھوں والی(ھ) وزن میں شمار نہیں ہوتی۔ کیوں کہ ان کی اپنی مستقل آواز نہیں ہوتی۔
یعنی
زبان = ز۔با۔ن = ادا
زباں = ز۔با = اد
لفظ زبان پڑھنے سے تین آوازیں برآمد ہو رہی تھیں "ز۔با۔ن" لیکن نون کو نون غنّہ بنا دیا تو دو آوازیں رہ گئیں۔
اسی طرح
کاروان = کا۔ر۔وا۔ن = دادا
کارواں = کا۔ر۔وا = داد
نون کو نون غنہ بنایا تو آوازیں چار کے بجائے تین رہ گئیں۔
لفظ کے درمیان میں آنے والا نون غنہ ان صورتوں میں وزن میں شمار نہیں ہو گا۔
(1)نون غنہ سے پہلے الف ہو۔ جیسے چاند، آنکھ، سانس وغیرہ
(2)نون غنہ سے پہلے واؤ ساکن ہو۔ جیسے گوند، چونچ، گونج وغیرہ
(3)نون غنہ سے پہلے ی ساکن ہو۔ جیسے نیند، گیند، بھینچ وغیرہ
ان تین صورتوں سے ہٹ کر بھی بعض الفاظ میں درمیان میں آنے والا نون غنہ وزن میں شمار نہیں ہوتا۔ جیسے کنول، ہنس
۔ ۔


نوٹ
نے، میں، یہ، وہ، کا، کی، کے، کہ، کو، تھا، تھی، تھے، گا، گی، گے، ہے، ہیں، ہوں وغیرہ ایسے الفاظ ہیں جو ہجائے کوتاہ کے مقابل بھی لائے جا سکتے ہیں اور ہجائے بلند کے مقابل بھی۔
مزید وضاحت اگلے سبق میں۔

سبق کو دو تین بار اچھی طرح سمجھ کر پڑھیں اور پھر کام حل کریں۔
پڑھ لینے کے بعد سمجھ لینے کا مرحلہ ہے اور سمجھ لینے کے بعد مشق کرنا یعنی کام حل کرنا ان دونوں سے بڑھ کر ضروری ہے۔
شہزاد احمد کھرل
۔ ۔ ۔

مشق
(الف)
ان اوزان میں سے ہر ایک پر دس دس الفاظ لکھیں۔
فعولن، فاعلن، مفاعیلن، فاعلات

(ب)
ان دس کے ساتھ مزید دس الفاظ اپنی مرضی کے شامل کر لیں اور پھر سب لفظوں کے لغات سے درست تلفظ معلوم کر کے وزن علامتوں میں ظاہر کریں۔ یعنی لفظوں کی تقطیع کریں۔

شمس، نصیب، شجر، سرور، عزم، غنچہ، بسمل، کنول، وصل، تلفظ

کام حل کرتے ہوئے لغت ضرور دیکھیں۔
دوسرے سبق سے متعلق وڈیو لیکچر
https://youtu.be/dv-ZT0xj28U

#ادبی_ذوق
#دوسرا_سبق
#شاعری_کے_اوزان_سیکھیں
#شہزاد_احمد_کھرل
#ہجائے_بلند
#ہجائے_کوتاہ
#آسان_عروض
#adbizaoq
#poetry
#learning_poetry
#urdu_poetry
#shayri_k_aozan
#hijay_boland
#hijay_kotah

پہلا سبق، شاعری کے اوزان سیکھیں

پہلا سبق
ہجائے بلند اور ہجائے کوتاہ کی پہچان

الف سے ے تک حروف، حروفِ تہجی کہلاتے ہیں انھیں حروف کے ہجے کر کے الفاظ بنائے جاتے ہیں جیسے
ب الف با
ج الف جا
بن گیا باجا۔
اس لفظ کو پڑھیں اور غور کریں تو اسے پڑھتے ہوئے منہ سے دو آوازیں نکلتی ہیں یعنی با اور جا۔
دو آوازیں برآمد ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں دو ہجے ہیں۔ پہلی آواز یا پہلا ہجا دو حرفوں (ب اور الف) سے مل کر بنا ہے تو اسے دو حرفی ہجا یا "ہجائے بلند" کہیں گے۔ اسی طرح "باجا" کا دوسرا ہجا بھی دو حرفوں (ج اور الف) سے بنا ہے سو یہ بھی دو حرفی ہجا یا ہجائے بلند کہلائے گا گویا لفظ باجا میں دو ہجائے بلند ہیں۔

لفظ "نور" کو پڑھتے ہوئے دو آوازیں برآمد ہوتی ہیں۔ یعنی نو ۔۔۔ر
ن و= نُو
 ر ساکن
 بن گیا نور
اس لفظ میں پہلا ہجا دو حرفوں (ن اور و) سے بنا ہے اسے دو حرفی ہجا یا ہجائے بلند کہیں گے جب کہ "نور" کا دوسرا ہجا ایک حرف (ر) پر مشتمل ہے تو اسے ایک حرفی ہجا یا ہجائے کوتاہ کہیں گے۔

انحراف
 علامتی طور پر ہجائے کوتاہ کو 1 سے اور ہجائے بلند کو 2 سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ یعنی "باجا" میں دونوں ہجے بلند ہیں تو اس کا وزن علامتوں میں 22 سے ظاہر کیا جاتا ہے اور "نور" میں پہلا ہجا، بلند اور دوسرا کوتاہ ہے تو اسے علامتوں میں 12 سے ظاہر کیا جاتا ہے۔
لیکن ہم علامت کے لیے ہندسوں کی بجائے اردو کے حروف استعمال کریں گے "ہجائے کوتاہ" ایک حرفی ہجّا ہوتا ہے تو اسے لفظ "ایک" کے پہلے حرف "ا" سے اور "ہجائے بلند" دو حرفی ہجا ہے تو اسے لفظ "دو" کے پہلے حرف "د" سے ظاہر کریں گے۔ (اس طرح موبائل اور کمپیوٹر پر لفظوں اور مصرعوں کو علامات میں ظاہر کرنا آسان ہو جائے گا)
باجا = د د
نور = د ا

غلط فہمی سے بچیں۔

بچوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ ہجے کرتے ہوئے بعض اوقات غلطی کرتے ہیں جیسے لفظ "اسم" میں پہلا ہجا دو حرفوں (ا اور س) سے بنا ہے اور دوسرا ہجا ایک حرف (م) پر مشتمل ہے لیکن چونکہ دیکھنے میں الف اکیلا نظر آ رہا ہے تو بچے اسے ایک حرفی ہجا اور سم میں دو حرف ملے ہوئے ہیں تو اسے دو حرفی ہجا سمجھ لیتے ہیں جس سے "اسم" کا تلفظ اِسَم ظاہر ہوتا ہے جب کہ اس کا درست تلفظ اِسْم ہے۔ اسی طرح ایسے الفاظ جن میں دو سے زیادہ ہجے ہوتے ہیں وہاں بھی ایسی غلطیاں سرزد ہوتی ہیں۔ لیکن ہم بچے نہیں ہیں اور نہ ہم لکھے ہوئے الفاظ سامنے رکھ کر جوڑ توڑ کریں گے بلکہ ایک آسان طریقے سے ہجے معلوم کریں۔

آسان طریقہ
لفظ کو درست تلفظ کے ساتھ ادا کرتے ہوئے لفظ سے برآمد ہونے والی آوازوں پر غور کریں۔ ایک لفظ جتنی آوازوں پر مشتمل ہو گا اس لفظ میں اتنے ہی ہجے شمار ہوں گے۔ برآمد ہونے والی آوازوں میں سے دو حرفی آوازوں کو ہجائے بلند اور ایک حرفی آواز کو ہجائے کوتاہ کہیں گے۔
مثال کے طور پر لفظ "گفتگو" بولتے ہوئے تین آوازیں برآمد ہوتی ہیں یعنی "گُف۔ت۔گو" ان میں سے پہلی اور تیسری آواز دو حرفی ہے اور درمیان والی ایک حرفی ہے گویا اس میں ایک ہجائے کوتاہ اور دو ہجائے بلند ہیں  علامت کے طور پر اسے "د ا د" سے ظاہر کریں گے اور عروض میں اس کا وزن فاعلن ہے۔
اسی طرح
الفاظ👇۔ ۔آوازیں👇۔ ۔ علامتی اظہار👇
جستجو = جُس۔ ت ۔جو = د ا د
سامنا = سا ۔م ۔نا = د ا د
ٹوکری = ٹو۔ ک۔ ری = د ا د
فاعلن = فا ۔ع۔ لن = د ا د
یعنی گفتگو جستجو سامنا ٹوکری یہ سب الفاظ ہم وزن ہیں۔ اور ان کا وزن فاعلن ہے۔


اس طرح مصرعوں یا لفظوں کو آوازوں کے لحاظ سے توڑنے اور انھیں علامتوں میں ظاہر کرنے کو تقطیع کرنا کہتے ہیں۔ یعنی اوپر ہم نے لفظوں کی تقطیع کی ہے۔
۔ ۔
تین حرفی الفاظ ( تین حرفی الفاظ میں دو ہجے ہوتے ہیں ایک بلند اور ایک کوتاہ)

تین حرفی الفاظ کی دو قسمیں ہیں۔
(اول)
ایسے الفاظ جن میں پہلا ہجا، ہجائے کوتاہ اور دوسرا ہجائے بلند ہو جیسے وفا، حیا، صفا، گھڑی، کبھی، ابھی، مجھے، اسے، چلو، رکو، کرو
ان الفاظ کا وزن ہے فَعُو
مجھے = مُ۔جھے = اد
فعو = ف۔عو = اد

(دوم)
تین حرفی الفاظ کی دوسری قسم ایسے الفاظ جن میں پہلا ہجا، ہجائے بلند ہو اور دوسرا ہجا، ہجائے کوتاہ ہو جیسے یار، غار، آر، پار، پان، آج، بیر، خیر، سیر، چیل، جیل، دین، نور، طور، دیکھ
ان الفاظ کا وزن ہے فاع
پان = پا۔ن= دا
فاع = فا۔ع = دا
۔ ۔ ۔

چار حرفی الفاظ

پہلی قسم
ایسے الفاظ جنہیں پڑھتے ہوئے دو آوازیں برآمد ہوں اور وہ دونوں آوازیں دو حرفی ہوں گی یعنی دونوں ہجائے بلند ہوں گے جیسے دلبر، چاہت، باجا، روٹی، چھوٹا، گاڑی، آنگن، گلشن، بولو، دیکھو،
ان الفاظ کا وزن ہے فِعْلن(ع ساکن ہے)
گلشن = گل۔شن= دد
فعلن = فع۔لُن = دد

چار حرفی الفاظ کی دوسری قسم

جنھیں پڑھتے ہوئے تین آوازیں برآمد ہوں ان میں سے پہلی اور تیسری ہجائے کوتاہ ہو گی اور درمیان والی ہجائے بلند ۔
لفظ "گمان" کو پڑھتے ہوئے آوازوں پر غور کریں تو اس سے تین آوازیں برآمد ہو رہی ہیں "گ،ُ ما، ن" ان میں پہلی اور تیسری آواز ایک حرفی ہے اور درمیان والی آواز دو حرفی ہے گویا اس میں دو ہجائے کوتاہ اور ایک ہجائے بلند ہے علامتوں میں ادا لکھیں گے۔ مزید الفاظ سوار، خمار، نماز، شعور، تمیز وغیرہ۔ مذکور الفاظ کا وزن فعول ہے کیونکہ فعول بھی ادا ہے۔
تمیز = ت می ز = ا د ا
فعول = ف عو ل = ا د ا


نوٹ: نون غنہ اور دو آنکھوں والی (ھ) وزن میں شمار نہیں ہوتے(تفصیل آئندہ)
نوٹ: شد والا حرف دو بار گنا جاتا ہے۔
نوٹ: الف مدہ(آ) دو الف کے برابر ہوتا ہے۔ جن میں پہلا الف متحرک اور دوسرا ساکن ہوتا ہے۔
آ = اَا = د

سوال: فعو، فاع، فعلن، فاعلن، فعولن وغیرہ کیا ہیں؟
جواب: یہ ارکان محض فرضی الفاظ ہیں اور وزن بتانے کے لئے ہیں جیسے کوئی آپ سے یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ لفظ محبت جو ہے یہ عقیدت کے وزن پر ہے اور کوئی دوسرا شخص یوں بھی کہہ سکتا ہے کہ لفظ محبت، سفارش کے وزن پر ہے لیکن ماہرین علم عروض نے طے کر دیا ہے کہ آپ یوں کہیں کہ لفظ محبت "فعولن" کے وزن پر ہے حالانکہ محبت، عقیدت، سفارش اور فعولن سب کا وزن ایک ہے یعنی "ادد"
لیکن جب ہم شاعری کی زبان میں بتائیں گے تو ہم کہیں گے کہ محبت، ضرورت یا برابر وغیرہ کا وزن فعولن ہے اور جب ہم کسی سے کہیں گے کہ فعولن کے وزن پر الفاظ بناؤ تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ہمیں "ادد" کے وزن پر الفاظ مطلوب ہیں اور بس
۔ ۔
مشق

(الف)
اس سبق میں جتنی مثالیں دی گئی ہیں وہ تمام الفاظ باآواز بلند پڑھیں اور لفظوں سے برآمد ہونے والی آوازوں کی تعداد اور نوعیت پر غور کر کے تصدیق کریں کیا مثالیں اپنی اپنی جگہ پر درست دی گئی ہیں؟
پھر ان اوزان پر دس دس الفاظ لکھیں۔
فعو، فاع، فعلن، فعول

جو الفاظ آپ لکھ کر پیش کریں گے انہیں پہلے لغت میں دیکھ لیں کہ ان کا درست تلفظ کرتے ہوئے اسی طرح کی آوازیں برآمد ہوتی ہیں جس وزن کے تحت آپ مثال پیش کر رہے ہیں یا لغت میں تلفظ مختلف ہے؟۔
جیسے لفظ "وصل" کا درست تلفظ وَصْل ہےیعنی "وص۔ل" = فاع=دا ہے۔
لیکن بعض لوگ اسے وَصَل "و۔صل = اد" پڑھتے ہیں تو وہ اسے فعو کی مثالوں میں لکھ دیں گے اس لیے درست تلفظ کے لیے لغت ضرور دیکھیں۔

(ب) ان الفاظ کے ساتھ دس الفاظ اپنی طرف سے ملا لیں اور ان کی تقطیع کریں۔(لغت سے درست تلفظ دیکھ کر)

قمر، ظلم، سطوت، شبنم، کرم، حاجت، آخر، رحم، بیچ، غلط

وڈیو لیکچر
https://youtu.be/j1_gXuZsO3M

#ادبی_ذوق
#پہلا_سبق
#شاعری_کے_اوزان_سیکھیں
#شہزاد_احمد_کھرل
#ہجائے_بلند
#ہجائے_کوتاہ
#آسان_عروض
#adbizaoq
#poetry
#learning_poetry
#urdu_poetry
#shayri_k_aozan
#hijay_boland
#hijay_kotah

شاعری کے اوزان سیکھیں | آٹھواں سبق

آٹھواں سبق نئی ترتیب کے مطابق تقطیع کرنے کا طریقہ الفاظ کی تقطیع کرنے کا طریقہ ہم پڑھ چکے ہیں۔ اب اشعار کی تقطیع کر کے اشعار کی بحر معل...