پانچواں سبق
گزشتہ اسباق ایک بار دہرا لیں اس سبق کے بعد آپ ایک نظم لکھنے والے ہیں۔
بحر
بحر اس فرضی پیمانے کو کہتے ہیں جس پر ہم اپنی ایک کاوش کے تمام مصرعے لکھتے ہیں اور انہیں جانچتے ہیں۔ یہ فرضی پیمانہ مقرر کرتے ہوئے سُر اور ردھم کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ جن بحروں میں سر اور آہنگ نہیں ہوتا وہ متروک ہو جاتی ہیں۔ کیونکہ وزن کا مقصد مصرعے میں آہنگ پیدا کرنا ہوتا ہے۔ اگر مصرع سر، ردھم یا ترنم میں نہ پڑھا جا سکے تو وہ شعر ہونے کے باوجود نثر جیسا ہوتا ہے۔ متروک بحروں کو غیر مستعمل بحریں کہتے ہیں۔
بنیادی ارکان یا افاعیل کی تعداد آٹھ ہے۔ تمام بحریں انہی بنیادی افاعیل سے بنائی گئی ہیں۔ افاعیل یہ ہیں۔
فَاعِلاتُن، فاعِلُن، مَفاعِیلُن، مُستَفعِلُن، فَعُولُن، مُتَفاعِلُن، مَفاعِلَتُن، مَفعُولات
نوٹ: بحروں کی بناوٹ اور زحافات سے متعلق بحث سے شاعر کا کوئی تعلق نہیں۔ یہ عروضیوں کا کام ہے۔ شاعر کو بس اتنا علم ہونا چاہیے کہ کسی بحر میں اسے شعر کہنے کے لیے کون سی سہولتیں دستیاب ہیں۔
پانچ مشہور بحریں؛
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
فعولن فعولن فعولن فعولن
فاعلاتن فعِلاتن فعِلاتن فعلن
فاعلاتن مفاعلن فعلن
قافیه
کسی غزل وغیرہ کے ہر شعر کے دوسرے مصرعے میں تقریبا آخر میں آنے والے ہم آواز الفاظ کو قافیے کہتے ہیں۔
قافیوں میں آنے والا ایسا حرف جو خود تو ہر قافیے میں بار بار آ رہا ہو لیکن اس سے پہلا حرف مختلف قافیوں میں مختلف آ رہا ہو ایسے حرف کو "حرفِ روی" کہتے ہیں جیسے یار کار دار بار کے آخر میں "ر" بار بار آ رہی ہے لیکن اس سے پہلا حرف الف بھی تو ہر ایک میں آ رہا ہے۔ اس لیے "ر" حرف روی نہیں بلکہ الف جو کہ خود تو ہر قافیے میں بار بار آ رہا ہے لیکن اس سے پہلا حرف مختلف قافیوں میں مختلف آ رہا ہے۔ اس لیے الف کو حرف روی یا "حرف قافیہ" کہیں گے۔
قافیے کے قوانین:
اگر حرفِ روی ساکن ہو تو اس سے پہلے حرف کی حرکت ہر قافیے میں ایک سی ہونی چاہئے یعنی اگر ہم نے ایسا قافیہ اختیار کیا ہے جس میں حرفِ روی ساکن ہے اور اس سے پہلے حرف پر زبر ہے تو ہم اس کے ساتھ ایسے الفاظ کو قافیہ نہیں لا سکتے جن میں حرف روی ساکن ہو اور اس سے پہلے والے حرف پر پیش یا زیر ہو۔
یعنی جَبْر صبر اور قَبْر کے ساتھ کِبر وغیرہ قافیے نہیں لائے جا سکتے اسی طرح ہیر کھیر چیر وغیرہ کے ساتھ سیر، خیر وغیرہ قافیے نہیں آ سکتے۔
یوں بھی سمجھ لیں کہ اگر حرف روی واؤ معروف یا یائے معروف ہو تو اس کے ساتھ واؤ اور یائے مجہول یا واؤ اور یائے لین رکھنے والے الفاظ قافیے نہیں آ سکتے جیسے چِیل نِیل اور کِیل کے ساتھ بیل ذیل ریل پھیل وغیرہ قافیے نہیں آ سکتے۔
نوٹ: روایتی علمِ عروض میں قافیہ ایک پیچیدہ اور تفصیل طلب موضوع ہے۔ حرفِ روی کو پہچاننے کے لیے بہت سی اصطلاحات کا جاننا ضروری قرار دیا جاتا ہے۔ بہرحال میں نے نئے دوستوں کے لیے حرفِ روی کی پہچان اور قافیے کے قواعد کو بہت آسان کر کے پیش کیا ہے البتہ کوئی اس سے اختلاف کرنا چاہے تو اس کا حق بنتا ہے۔
ردیف
وہ الفاظ جو قافیہ کے بعد اشعار میں بار بار دہرائے جاتے ہیں ردیف کہلاتے ہیں۔
ردیف کے الفاظ میں پائے جانے والے واؤ اور یائے معروف کو واؤ اور یائے مجہول یا لین کے ساتھ نہیں بدلا جا سکتا۔ جیسے
تم جس کو کل میں ڈھونڈتے تھے وہ آج "میں" تھا
تم جس کے پاؤں کی جوتی تھے اس کا تاج "میں" تھا
شعر صرف مثال کے لیے گھڑا ہے۔
پہلے مصرعے کی ردیف میں "میں" ظرفیہ ہے اور اس میں یاۓ مجہول ہے جبکہ دوسرے مصرعے کی ردیف میں "مَیں" برائے متکلم ہے جس میں ی یائے لین ہے۔ اس لئے اس شعر میں ردیف کی غلطی ہے۔
نظم کی اقسام
پابند نظم
ایسی نظم جو پوری نظم ایک بحر میں کہی گئی ہو اور اس میں قافیے اور ردیف کی پابندی بھی کی گئی ہو۔
چند مشہور نظمیں
علامہ محمد اقبال کی مکڑی اور مکھی، پرندہ اور جگنو، ماں کا خواب،لا الہ الا اللہ
الطاف حسین حالی کی مٹی کا دیا، مناجات بیوہ
نظیر اکبرآبادی کی آدمی نامہ، روٹیاں
نظم مُعَرّٰی
ایسی نظم جس میں بحر کی پابندی کی گئی ہو یعنی تمام مصرعے ایک ہی بحر میں ہوں لیکن قافیہ و ردیف کی پابندی نہ کی گئی ہو۔ البتہ کسی کسی شعر میں قافیہ ردیف لائے بھی جا سکتے ہیں۔
نظم معری کی مثال:
رات اک لڑکھڑاتے جھونکے سے
ناگہاں سنگ سرخ کی سل پر
آئینہ گر کے پاش پاش ہوا
اور ننھی نکیلی کرچوں کی
ایک بوجھاڑ دل کو چیر گئی
شکیب جلالی
وزن : فاعلاتن مفاعلن فعلن
اس بحر میں پہلے ہجائے بلند کے مقابل ہجائے کوتاہ کو بھی لایا جا سکتا ہے اور آخری "فِعْلن" کو فَعِلُن بھی باندھا جا سکتا ہے( تفصیلات آئندہ)
آزاد نظم
ایسی نظم جس میں بحر کی پابندی نہ ہو۔ البتہ رکن کی پابندی کی گئی ہو۔ یعنی رکن کی پابندی ہو لیکن تمام مصرعوں میں ارکان کی تعداد ایک جتنی نہ ہو بلکہ جس رکن کا انتخاب کیا گیا ہے وہ کسی مصرعے میں ایک بار کسی میں دو بار کسی میں تین بار اور کسی میں اس سے بھی زیادہ بار لایا گیا ہو۔ مصرعے میں ارکان کی تعداد کی حد مقرر نہیں۔ اس میں قافیہ اور ردیف کی پابندی نہیں ہوتی لیکن لایا بھی جا سکتا ہے۔
موم کی طرح جلتے رہے ہم شہیدوں کے تن
رات بھر جھلملاتی رہی شمع صبح وطن
رات بھر یوں چمکتا رہا چاند تاروں کا بن
تشنگی میں بھی سرشار تھے
پیاسی آنکھوں کے خالی کٹورے لئے
منتظر مرد و زن
(مخدوم محی الدین )
مزکورہ بالا آزاد نظم میں "فاعلن" کی پابندی کی گئی ہے اور پہلے تین مصرعوں میں پانچ بار اور چوتھے مصرعے میں تین بار اور پانچویں مصرعے میں چار بار اور آخری مصرعے میں دوبار "فاعلن" لایا گیا ہے۔
۔ ۔ ۔
نثری نظم
ایسی نظم جس میں وزن کی یا رکن کی بالکل پابندی نہ کی جائے اسے "نثری نظم" کہتے ہیں۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ اسے نثری نظم نہیں بلکہ نظمی نثر کہنا چاہیے کیونکہ یہ حقیقت میں نثر ہے نظم نہیں۔ بہرحال مثال دیکھیں۔
کبوتر بھی
آسمان میں منڈلاتے ہوئے
گہرے سرخ بادلوں کو دیکھ کر
اپنے پر باندھ لیتے ہیں
اور کابک میں بیٹھے ہوئے
غٹرغوں ، غٹرغوں …
خیر جانے دو
تم بھی عجیب پرندے ہو
کسی بھی موسم میں
پانی پر
اپنے پر مارنے سے باز نہیں آتے
(پروفیسر غیاث متین)
نوٹ: نظم چاہے مذکورہ بالا اقسام میں سے کسی بھی قسم سے تعلق رکھتی ہو نظم میں موضوع یعنی مرکزی خیال ایک ہونا چاہیے اور بہتر ہے کہ یہ مرکزی نکتہ آخری سطور میں ذکر کیا جائے۔ موضوع کوئی بھی ہو سکتا ہے چاند، تارے، یار، سورج، پھول، شبنم، ہوا، خدا، پیغمبر، انسان، دیو، گھر، روٹی، نیند وغیرہ
شہزاد احمد کھرل
۔ ۔ ۔ ۔
سبق سے متعلق ویڈیو لیکچر
https://youtu.be/b0i_uz-QZkg
مشق
(الف)
فاعلن کی پابندی کرتے ہوئے ایک معری یا آزاد نظم لکھیں۔
سب سے پہلے مذکورہ بالا موضوعات میں سے یا اپنے پاس سے عمدہ موضوع کا انتخاب کریں۔ آپ اس موضوع سے متعلق کیا کہنا چاہتے ہیں یہ اچھی طرح سے ذہن میں پکا کر لیں۔ اس کے بعد آزاد نظم کی مثال میں جو نظم دی گئی ہے اسے پڑھتے رہیں اور جب ردھم بن جائے تو اپنی نظم لکھنا شروع کریں۔ نظم چند منٹوں میں ہو جاتی ہے لیکن اس کے موضوع اور مواد کا انتخاب کرنے میں کئی گھنٹے یا دن بھی لگ سکتے ہیں۔
اگر آپ فاعلن پر نظم نہیں لکھ پا رہے تو ان تین اوزان میں سے کسی پر لکھ لیں۔
فعولن
مفاعیلن
مفاعلاتن
(ب)
ان الفاظ کے دس دس یا جتنے آسانی سے ممکن ہوں قافیے لکھیں۔ دو دو قافیے میں نے لکھ دیے ہیں تاکہ آپ آسانی سے پہچان پائیں۔
آنگن، روشن،
دُور ، نور
جان، زبان
گول، ڈھول
الفت، محبت
غور، اَور
(ج)
اس نظم میں سے دس مشکل الفاظ کا انتخاب کر کے ان کے معنی لکھیں اور تقطیع کریں۔
چشمِ نم، جانِ شوریدہ کافی نہیں
تہمتِ عشق پوشیدہ کافی نہیں
آج بازار میں پا بہ جولاں چلو
دست اَفشاں چلو، مست و رقصاں چلو
خاک برسر چلو، خوں بہ داماں چلو
راہ تَکتا ہے سب شہرِ جاناں چلو
حاکمِ شہر بھی، مجمعِ عام بھی
تیرِ الزام بھی، سنگِ دشنام بھی
صبحِ ناشاد بھی، روزِ ناکام بھی
ان کا دم ساز اپنے سوا کون ہے؟
شہرِ جاناں میں اب باصفا کون ہے؟
دستِ قاتل کے شایاں رہا کون ہے؟
رختِ دل باندھ لو دل فگارو چلو
پھر ہمیں قتل ہو آئیں یارو چلو
فیض احمد فیض
بحر
متدارک مثمن سالم
فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن
#ادبی_ذوق
#پانچواں_سبق
#شاعری_کے_اوزان_سیکھیں
#شہزاد_احمد_کھرل
#تیسرا_ساکن
#ہجائے_کوتاہ
#آسان_عروض
#واؤ_معدولہ
#آزاد_نظم
#نظم_معری
#پابند_نظم
#نثری_نظم
#adbizaoq
#poetry
#learning_poetry
#urdu_poetry
#shayri_k_aozan
#hijay_boland
#hijay_kotah
#azad_nazm
#nazm e morra
گزشتہ اسباق ایک بار دہرا لیں اس سبق کے بعد آپ ایک نظم لکھنے والے ہیں۔
بحر
بحر اس فرضی پیمانے کو کہتے ہیں جس پر ہم اپنی ایک کاوش کے تمام مصرعے لکھتے ہیں اور انہیں جانچتے ہیں۔ یہ فرضی پیمانہ مقرر کرتے ہوئے سُر اور ردھم کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ جن بحروں میں سر اور آہنگ نہیں ہوتا وہ متروک ہو جاتی ہیں۔ کیونکہ وزن کا مقصد مصرعے میں آہنگ پیدا کرنا ہوتا ہے۔ اگر مصرع سر، ردھم یا ترنم میں نہ پڑھا جا سکے تو وہ شعر ہونے کے باوجود نثر جیسا ہوتا ہے۔ متروک بحروں کو غیر مستعمل بحریں کہتے ہیں۔
بنیادی ارکان یا افاعیل کی تعداد آٹھ ہے۔ تمام بحریں انہی بنیادی افاعیل سے بنائی گئی ہیں۔ افاعیل یہ ہیں۔
فَاعِلاتُن، فاعِلُن، مَفاعِیلُن، مُستَفعِلُن، فَعُولُن، مُتَفاعِلُن، مَفاعِلَتُن، مَفعُولات
نوٹ: بحروں کی بناوٹ اور زحافات سے متعلق بحث سے شاعر کا کوئی تعلق نہیں۔ یہ عروضیوں کا کام ہے۔ شاعر کو بس اتنا علم ہونا چاہیے کہ کسی بحر میں اسے شعر کہنے کے لیے کون سی سہولتیں دستیاب ہیں۔
پانچ مشہور بحریں؛
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
فعولن فعولن فعولن فعولن
فاعلاتن فعِلاتن فعِلاتن فعلن
فاعلاتن مفاعلن فعلن
قافیه
کسی غزل وغیرہ کے ہر شعر کے دوسرے مصرعے میں تقریبا آخر میں آنے والے ہم آواز الفاظ کو قافیے کہتے ہیں۔
قافیوں میں آنے والا ایسا حرف جو خود تو ہر قافیے میں بار بار آ رہا ہو لیکن اس سے پہلا حرف مختلف قافیوں میں مختلف آ رہا ہو ایسے حرف کو "حرفِ روی" کہتے ہیں جیسے یار کار دار بار کے آخر میں "ر" بار بار آ رہی ہے لیکن اس سے پہلا حرف الف بھی تو ہر ایک میں آ رہا ہے۔ اس لیے "ر" حرف روی نہیں بلکہ الف جو کہ خود تو ہر قافیے میں بار بار آ رہا ہے لیکن اس سے پہلا حرف مختلف قافیوں میں مختلف آ رہا ہے۔ اس لیے الف کو حرف روی یا "حرف قافیہ" کہیں گے۔
قافیے کے قوانین:
اگر حرفِ روی ساکن ہو تو اس سے پہلے حرف کی حرکت ہر قافیے میں ایک سی ہونی چاہئے یعنی اگر ہم نے ایسا قافیہ اختیار کیا ہے جس میں حرفِ روی ساکن ہے اور اس سے پہلے حرف پر زبر ہے تو ہم اس کے ساتھ ایسے الفاظ کو قافیہ نہیں لا سکتے جن میں حرف روی ساکن ہو اور اس سے پہلے والے حرف پر پیش یا زیر ہو۔
یعنی جَبْر صبر اور قَبْر کے ساتھ کِبر وغیرہ قافیے نہیں لائے جا سکتے اسی طرح ہیر کھیر چیر وغیرہ کے ساتھ سیر، خیر وغیرہ قافیے نہیں آ سکتے۔
یوں بھی سمجھ لیں کہ اگر حرف روی واؤ معروف یا یائے معروف ہو تو اس کے ساتھ واؤ اور یائے مجہول یا واؤ اور یائے لین رکھنے والے الفاظ قافیے نہیں آ سکتے جیسے چِیل نِیل اور کِیل کے ساتھ بیل ذیل ریل پھیل وغیرہ قافیے نہیں آ سکتے۔
نوٹ: روایتی علمِ عروض میں قافیہ ایک پیچیدہ اور تفصیل طلب موضوع ہے۔ حرفِ روی کو پہچاننے کے لیے بہت سی اصطلاحات کا جاننا ضروری قرار دیا جاتا ہے۔ بہرحال میں نے نئے دوستوں کے لیے حرفِ روی کی پہچان اور قافیے کے قواعد کو بہت آسان کر کے پیش کیا ہے البتہ کوئی اس سے اختلاف کرنا چاہے تو اس کا حق بنتا ہے۔
ردیف
وہ الفاظ جو قافیہ کے بعد اشعار میں بار بار دہرائے جاتے ہیں ردیف کہلاتے ہیں۔
ردیف کے الفاظ میں پائے جانے والے واؤ اور یائے معروف کو واؤ اور یائے مجہول یا لین کے ساتھ نہیں بدلا جا سکتا۔ جیسے
تم جس کو کل میں ڈھونڈتے تھے وہ آج "میں" تھا
تم جس کے پاؤں کی جوتی تھے اس کا تاج "میں" تھا
شعر صرف مثال کے لیے گھڑا ہے۔
پہلے مصرعے کی ردیف میں "میں" ظرفیہ ہے اور اس میں یاۓ مجہول ہے جبکہ دوسرے مصرعے کی ردیف میں "مَیں" برائے متکلم ہے جس میں ی یائے لین ہے۔ اس لئے اس شعر میں ردیف کی غلطی ہے۔
نظم کی اقسام
پابند نظم
ایسی نظم جو پوری نظم ایک بحر میں کہی گئی ہو اور اس میں قافیے اور ردیف کی پابندی بھی کی گئی ہو۔
چند مشہور نظمیں
علامہ محمد اقبال کی مکڑی اور مکھی، پرندہ اور جگنو، ماں کا خواب،لا الہ الا اللہ
الطاف حسین حالی کی مٹی کا دیا، مناجات بیوہ
نظیر اکبرآبادی کی آدمی نامہ، روٹیاں
نظم مُعَرّٰی
ایسی نظم جس میں بحر کی پابندی کی گئی ہو یعنی تمام مصرعے ایک ہی بحر میں ہوں لیکن قافیہ و ردیف کی پابندی نہ کی گئی ہو۔ البتہ کسی کسی شعر میں قافیہ ردیف لائے بھی جا سکتے ہیں۔
نظم معری کی مثال:
رات اک لڑکھڑاتے جھونکے سے
ناگہاں سنگ سرخ کی سل پر
آئینہ گر کے پاش پاش ہوا
اور ننھی نکیلی کرچوں کی
ایک بوجھاڑ دل کو چیر گئی
شکیب جلالی
وزن : فاعلاتن مفاعلن فعلن
اس بحر میں پہلے ہجائے بلند کے مقابل ہجائے کوتاہ کو بھی لایا جا سکتا ہے اور آخری "فِعْلن" کو فَعِلُن بھی باندھا جا سکتا ہے( تفصیلات آئندہ)
آزاد نظم
ایسی نظم جس میں بحر کی پابندی نہ ہو۔ البتہ رکن کی پابندی کی گئی ہو۔ یعنی رکن کی پابندی ہو لیکن تمام مصرعوں میں ارکان کی تعداد ایک جتنی نہ ہو بلکہ جس رکن کا انتخاب کیا گیا ہے وہ کسی مصرعے میں ایک بار کسی میں دو بار کسی میں تین بار اور کسی میں اس سے بھی زیادہ بار لایا گیا ہو۔ مصرعے میں ارکان کی تعداد کی حد مقرر نہیں۔ اس میں قافیہ اور ردیف کی پابندی نہیں ہوتی لیکن لایا بھی جا سکتا ہے۔
موم کی طرح جلتے رہے ہم شہیدوں کے تن
رات بھر جھلملاتی رہی شمع صبح وطن
رات بھر یوں چمکتا رہا چاند تاروں کا بن
تشنگی میں بھی سرشار تھے
پیاسی آنکھوں کے خالی کٹورے لئے
منتظر مرد و زن
(مخدوم محی الدین )
مزکورہ بالا آزاد نظم میں "فاعلن" کی پابندی کی گئی ہے اور پہلے تین مصرعوں میں پانچ بار اور چوتھے مصرعے میں تین بار اور پانچویں مصرعے میں چار بار اور آخری مصرعے میں دوبار "فاعلن" لایا گیا ہے۔
۔ ۔ ۔
نثری نظم
ایسی نظم جس میں وزن کی یا رکن کی بالکل پابندی نہ کی جائے اسے "نثری نظم" کہتے ہیں۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ اسے نثری نظم نہیں بلکہ نظمی نثر کہنا چاہیے کیونکہ یہ حقیقت میں نثر ہے نظم نہیں۔ بہرحال مثال دیکھیں۔
کبوتر بھی
آسمان میں منڈلاتے ہوئے
گہرے سرخ بادلوں کو دیکھ کر
اپنے پر باندھ لیتے ہیں
اور کابک میں بیٹھے ہوئے
غٹرغوں ، غٹرغوں …
خیر جانے دو
تم بھی عجیب پرندے ہو
کسی بھی موسم میں
پانی پر
اپنے پر مارنے سے باز نہیں آتے
(پروفیسر غیاث متین)
نوٹ: نظم چاہے مذکورہ بالا اقسام میں سے کسی بھی قسم سے تعلق رکھتی ہو نظم میں موضوع یعنی مرکزی خیال ایک ہونا چاہیے اور بہتر ہے کہ یہ مرکزی نکتہ آخری سطور میں ذکر کیا جائے۔ موضوع کوئی بھی ہو سکتا ہے چاند، تارے، یار، سورج، پھول، شبنم، ہوا، خدا، پیغمبر، انسان، دیو، گھر، روٹی، نیند وغیرہ
شہزاد احمد کھرل
۔ ۔ ۔ ۔
سبق سے متعلق ویڈیو لیکچر
https://youtu.be/b0i_uz-QZkg
مشق
(الف)
فاعلن کی پابندی کرتے ہوئے ایک معری یا آزاد نظم لکھیں۔
سب سے پہلے مذکورہ بالا موضوعات میں سے یا اپنے پاس سے عمدہ موضوع کا انتخاب کریں۔ آپ اس موضوع سے متعلق کیا کہنا چاہتے ہیں یہ اچھی طرح سے ذہن میں پکا کر لیں۔ اس کے بعد آزاد نظم کی مثال میں جو نظم دی گئی ہے اسے پڑھتے رہیں اور جب ردھم بن جائے تو اپنی نظم لکھنا شروع کریں۔ نظم چند منٹوں میں ہو جاتی ہے لیکن اس کے موضوع اور مواد کا انتخاب کرنے میں کئی گھنٹے یا دن بھی لگ سکتے ہیں۔
اگر آپ فاعلن پر نظم نہیں لکھ پا رہے تو ان تین اوزان میں سے کسی پر لکھ لیں۔
فعولن
مفاعیلن
مفاعلاتن
(ب)
ان الفاظ کے دس دس یا جتنے آسانی سے ممکن ہوں قافیے لکھیں۔ دو دو قافیے میں نے لکھ دیے ہیں تاکہ آپ آسانی سے پہچان پائیں۔
آنگن، روشن،
دُور ، نور
جان، زبان
گول، ڈھول
الفت، محبت
غور، اَور
(ج)
اس نظم میں سے دس مشکل الفاظ کا انتخاب کر کے ان کے معنی لکھیں اور تقطیع کریں۔
چشمِ نم، جانِ شوریدہ کافی نہیں
تہمتِ عشق پوشیدہ کافی نہیں
آج بازار میں پا بہ جولاں چلو
دست اَفشاں چلو، مست و رقصاں چلو
خاک برسر چلو، خوں بہ داماں چلو
راہ تَکتا ہے سب شہرِ جاناں چلو
حاکمِ شہر بھی، مجمعِ عام بھی
تیرِ الزام بھی، سنگِ دشنام بھی
صبحِ ناشاد بھی، روزِ ناکام بھی
ان کا دم ساز اپنے سوا کون ہے؟
شہرِ جاناں میں اب باصفا کون ہے؟
دستِ قاتل کے شایاں رہا کون ہے؟
رختِ دل باندھ لو دل فگارو چلو
پھر ہمیں قتل ہو آئیں یارو چلو
فیض احمد فیض
بحر
متدارک مثمن سالم
فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن
#ادبی_ذوق
#پانچواں_سبق
#شاعری_کے_اوزان_سیکھیں
#شہزاد_احمد_کھرل
#تیسرا_ساکن
#ہجائے_کوتاہ
#آسان_عروض
#واؤ_معدولہ
#آزاد_نظم
#نظم_معری
#پابند_نظم
#نثری_نظم
#adbizaoq
#poetry
#learning_poetry
#urdu_poetry
#shayri_k_aozan
#hijay_boland
#hijay_kotah
#azad_nazm
#nazm e morra
No comments:
Post a Comment