Wednesday, May 27, 2020

ساتواں سبق شاعری کے اوزان سیکھیں

ساتواں سبق

ایک سہولت
کسی بھی بحر پر مشق کرتے ہوئے ایک کلام کے کسی بھی مصرعے کے آخر میں ایک حرف ساکن(یا ہجائے کوتاہ) کا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
جیسے
حزر اے دل کہ اس جہاں کا فریب
بحر: فاعلاتن مفاعلن فعِلن
تقطیع کر کے دیکھیں۔
حز۔ ر ۔اے۔ دل۔ کِ۔ اس ۔جَ۔ ہاں۔ کَ۔ ف۔ رے۔ب
فا۔ ع ِ۔ لا ۔ تن ۔ م ۔ فا ۔ ع ۔ لن ۔ فَ۔ عِ ۔ لن۔
اگر آپ تقطیع پر غور کریں تو حرف "ب" بحر سے باہر ہے بحر لفظ فریب کے "فرے" تک پوری ہوگئی ایسا ایک حرف ساکن کا اضافہ بلا تردد جائز ہے۔

دوسری صورت یہ ہے کہ آخر میں ایک ایسا ہجائے کوتاہ زائد ہو جسے حرف علت کو گرا کر ہجائے کوتاہ بنایا گیا ہو جیسے
اپنے بسمل کو روز ڈھونڈنا تیرا
تقطیع کریں
اپ۔نِ۔ بس۔مل۔کُ۔رو۔ ز۔ ڈھو۔ ڈ ۔ نَ ۔تے۔را
فا۔ ع ۔ لا ۔ تن ۔ م ۔ فا ۔عِ ۔ لن ۔ فَ۔ عِ ۔لن

تقطیع پر غور کریں تو تیرا کی "را" بحر سے زائد ہے اور اس کے آخر سے الف گرا کر اسے ہجائے کوتاہ بنایا جا سکتا ہے یعنی تےرَ، ایسی صورت میں جو اضافہ کیا گیا ہے وہ حرف ساکن نہیں لیکن ہجائے کوتاہ ہے۔
اس طرح متحرک حرف بحر پر زاید لانا درست نہیں۔ البتہ ہمزہ متحرک بحر پر زاید لانے کی کچھ مثالیں ملتی ہیں۔ ہمزہ متحرک زاید لانے کی مثال دیکھیں۔

سر کھجاتا ہے جہاں زخمِ سر اچھا ہو جائے
لذّتِ سنگ بہ اندازۂ تقریر نہیں
غالب

تیسری صورت
مست نظروں سے مجھ کو دیکھنا ان کا
تقطیع کریں
مس۔ت۔نظ۔رو۔سِ۔ مج۔کُ۔دے۔ک۔نَ۔ان۔کا
فا ۔ عِ ۔ لا ۔ تن ۔م ۔ فا ۔عِ ۔ لن ۔فَ۔عِ۔لن
اس صورت میں لفظ "کا" بحر پر زائد ہے۔ اس کی الف گرا کر اسے ہجائے کوتاہ بنایا جا سکتا ہے لیکن پہلی دو صورتوں کے برعکس لفظ "کا" کسی ایسے لفظ کا جُز نہیں ہے جس کا اکثر حصہ بحر میں سما گیا ہو اور صرف ایک حرف زائد بچا ہو بلکہ "کا" ایک مستقل لفظ ہے ایسا اضافہ درست نہیں۔

شعر جتنا نثر کے قریب ہو بہتر ہے۔
جملوں میں الفاظ کی درست ترتیب وہی ہوتی ہے جو نحوی اعتبار سے درست ہو۔ جس ترتیب کا لحاظ معیاری نثر میں رکھا جاتا ہے۔ لیکن اشعار میں چونکہ وزن کا لحاظ رکھنا پڑتا ہے اور ہجائے کوتاہ اور ہجائے بلند کو ایک خاص ترتیب سے لانا ضروری ہوتا ہے اس وجہ سے شعر میں نثری ترتیب کی پابندی کرنا ایک مشکل امر ہوتا ہے۔ اس لیے نثر کے مقابلے میں شعر کے مصرعوں میں نحوی قواعد کی پابندی ایسی ضروری نہیں ہوتی۔ بلکہ شعری ضرورت کے تحت الفاظ کو نثری ترتیب سے ہٹانے کی اجازت ہوتی ہے۔ البتہ جہاں تک ممکن ہو شعر میں الفاظ کی ترتیب نثری ترتیب کے قریب تر ہو اور ضرورت کے وقت ترتیب میں جو ردوبدل کریں وہ ردوبدل ایسی نہ ہو کہ اس سے شعر کا مفہوم سمجھنا مشکل ہو جائے۔ ورنہ شعر معیوب ہو جائے گا۔
ایک بات یہ بھی یاد رکھنی چاہیے کہ اگر مصرع نثری ترتیب کے عین مطابق ہوتے ہوئے وزن میں ہو تو اسے شعر کا مصرع باور کرانے کے لئے نرسری ترتیب سے ہٹا کر لکھنا ضروری نہیں ہے۔ بلکہ اس کا وزن میں ہونا ہی شعر کا مصرع ہونے کی دلیل ہے۔ مصرعوں کا نثری ترتیب کے قریب تر ہونا شعر کی ایک اضافی خوبی ہے بشرطیکہ اس کوشش میں کسی دوسری خوبی سے ہاتھ دھونے نہ پڑے ہوں۔

تعقید لفظی
مصرعوں میں الفاظ کی نشست نثری ترتیب سے ایسی ہٹی ہوئی ہو کہ شعر کا مفہوم سمجھنا مشکل ہو جائے اسے تعقید لفظی کہتے ہیں
جیسے "نینوں پر گھٹا چھائی ہے برسات ابھی باقی ہے" کو شعری ضرورت کے تحت ہم نے یوں کر لیا
"گھٹا چھائی ہے نینوں پر، ابھی برسات باقی ہے" یہاں مفہوم بھی سمجھ آ رہا ہے اور مصرع بھی وزن میں ہو گیا ہے لیکن اگر ہم اسے نثری ترتیب سے زیادہ دور لے جائیں اور یوں کہیں
"ابھی برسات نینوں پر گھٹا چھائی ہے باقی ہے"
مصرع اب بھی وزن میں ہے لیکن اس کا مفہوم سمجھنا مشکل ہو گیا ہے یہ پتا نہیں چل رہا کہ نینوں پر برسات ہو رہی ہے یا گھٹا چھائی ہے اور "باقی ہے" کا تعلق برسات کے ساتھ ہے یا گھٹا چھانے کے ساتھ ہے الفاظ کی ایسی ردوبدل تعقید لفظی کہلاتی ہے۔ الفاظ کی ترتیب کو بہتر کر کے اس تعقید کو دور کیا جا سکتا ہے۔

تعقید معنوی
تعقید معنوی کی صورت میں بھی شعر کے مفہوم کو سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے لیکن یہاں الفاظ کی ترتیب بدل کر بھی معنے تک نہیں پہنچا جا سکتا کیوں کہ یہاں شاعر نے الفاظ کی ترتیب سے نہیں بلکہ الفاظ کا چناؤ کرتے ہوئے شعر کو مشکل اور ناموافق الفاظ کے ساتھ ایسا پیچیدہ کر دیا ہوتا ہے کہ اس کے مفہوم تک پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے۔

رموزِ اوقاف
رموزِ اوقاف کے استعمال کرنے کا رواج ہمارے نئے نثر نگاروں میں بھی نہیں ہے اور شاعر احباب تو بالکل بھی رموزِ اوقاف استعمال کرنے کا تکلف نہیں کرتے۔ رموز اوقاف کا استعمال ابلاغ میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اس لیے اس کی عادت اپنانی چاہیے۔
شاعری میں عام طور پر جو رموزِ اوقاف استعمال ہوتے ہیں۔

خطابیہ (!)
جب آپ کسی کو مخاطب کرتے ہیں تو مخاطب کے لئے جو لفظ استعمال ہوتا ہے اس کے بعد خطابیہ کا نشان لگانا چاہیے۔ جیسے
کل کی اُتری نہیں ہے کم ظرفو!
کہہ رہے تھے "حضور! تھوڑی ہے"

سوالیہ نشان (؟)
جب شعر میں کسی چیز سے متعلق استفسار کیا جا رہا ہو تو سوالیہ نشان کا استعمال کرنا چاہیے اگر مصرعے میں حروف استفہام (کیا، کیوں، کب، کون وغیرہ) میں سے کوئی شامل ہو تو سمجھنا آسان ہوتا ہے لیکن بعض صورتوں میں ایسا نہیں ہوتا۔ جیسے

جو ترے ہجر سے نہیں گزرا
اس کو غم کا شعور تھوڑی ہے؟

خطابیہ کی مثال میں پیش کیے گئے شعر میں "تھوڑی ہے" کم ہے، کے معنی میں ہے جبکہ اس شعر میں "تھوڑی ہے" بطور استفہامِ انکاری لایا گیا ہے سوالیہ نشان اس بات کی طرف واضح اشارہ کر رہا ہے۔ اور اس نشان کا استعمال قاری کے سمجھنے میں معاون ہو گا۔

واوین (" ")
شعر میں کسی دوسری زبان کا ایسا لفظ جو اردو میں عام مستعمل نہ ہو، لانا ہو تو اسے واوین میں لکھنا چاہیے۔
جب کسی کے مصرعے پر گرہ لگائی جاتی ہے تو پرایا مصرع واوین میں لکھا جاتا ہے۔
یا کچھ ایسے الفاظ جن کے حوالے سے شاعر چاہتا ہو کہ پڑھنے والا ان پر خاص طور پر غور کرے جیسے
ایک بے مہر کسی طور ہمارا نہ ہوا
اور ہم "اپنا بنانے کا ہنر" بھول گئے

کاما یا سکتہ (،)

کاما یا سکتہ لگا کر بتایا جاتا ہے کہ پڑھنے والے کو یہاں پر زرا سا ٹھہر کر آگے پڑھنا چاہیے بعض اوقات کاما یہ بتانے کے لیے بھی لگایا جاتا ہے کہ کامے سے پہلے مذکور الفاظ کا تعلق، مصرعے کے پہلے حصے کے ساتھ ہے دوسرے کے ساتھ نہیں جیسے
گھٹا چھائی ہے نینوں پر، ابھی برسات باقی ہے
اس مصرعے کو اگر کوئی اس طرح پڑھے
گھٹا چھائی ہے۔
نینوں پر ابھی برسات باقی ہے۔
تو شاعر کا مقصود حاصل نہیں ہوتا مصرعے میں لگایا گیا کاما بتا رہا ہے کہ "نینوں پر" کا تعلق مصرعے کے پہلے حصے سے ہے۔

تخلص کی علامت، بُت( ؔ )
شاعر یہ نشان اپنے تخلص پر لگاتا ہے۔ بعض اوقات شاعر کا تخلص مصرعے میں حقیقی معنی کے ساتھ بھی درست بیٹھ رہا ہوتا ہے جو کہ شاعر کی مہارت ظاہر کرتا ہے۔ لیکن بعض اوقات تخلص محض بطور تخلص شامل کیا گیا ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں اگر اس پر بت کا نشان لگا ہو تو قاری کے لیے شعر سمجھنا آسان ہوتا ہے۔

بحر: رمل مثمن محذوف
فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
بحر کا نام رمل ہے اور لفظ "مثمن" ہر اس بحر کے نام میں لکھا جاتا ہے جو چار ارکان پر مشتمل ہو کیوں کہ ایک شعر کے دونوں مصرعوں میں کُل آٹھ رکن دہرائے جاتے ہیں اور مثمن کا معنی ہے "آٹھ والا/والی"
بحر کے نام میں "محذوف" اس لئے لکھا ہے کہ اس کا آخری رکن سالم نہیں ہے بلکہ اس سے ایک ہجائے بلند حذف کیا گیا ہے۔
شہزاد احمد کھرل

مشق

(الف)
شعر کے دو عیوب چھٹے سبق میں بتائے گئے تھے اور دو اس سبق میں بتائے گئے ہیں ان چار عیوب کو آپ اچھی طرح سے سمجھ گئے یا نہیں؟ ان چاروں کے نام اور صرف دو دو جملوں میں تعریف لکھیں۔
۔ ۔

(ب)
اس بحر پر پانچ اشعار لکھیں اشعار کسی بھی موضوع پر ہو سکتے ہیں۔
فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن

(ج)
درج ذیل اشعار میں سے ان مصرعوں کی نشاندہی کریں جن میں ایک حرف ساکن بحر پر زائد لایا گیا ہو۔
مقطعے میں رموزِ اوقاف لگائیں۔

گفتگو اچھی لگی ذوقِ نظر اچھا لگا
مدتوں کے بعد کوئی ہمسفر اچھا لگا

دل کا دکھ جانا تو دل کا مسئلہ ہے پر ہمیں
اُس کا ہنس دینا ہمارے حال پر اچھا لگا

ہر طرح کی بے سر و سامانیوں کے باوجود
آج وہ آیا تو مجھ کو اپنا گھر اچھا لگا

باغباں گلچیں کو چاہے جو کہے ہم کو تو پھول
شاخ سے بڑھ کر کفِ دلدار پر اچھا لگا

کون مقتل میں نہ پہنچا کون ظالم تھا جسے
تیغِ قاتل سے زیادہ اپنا سر اچھا لگا

ہم بھی قائل ہیں وفا میں استواری کے مگر
کوئی پوچھے کون کس کو عمر بھر اچھا لگا

اپنی اپنی چاہتیں ہیں لوگ اب جو بھی کہیں
اک پری پیکر کو اک آشفتہ سر اچھا لگا

میر کے مانند اکثر زیست کرتا تھا فراز
تھا تو وہ دیوانہ سا شاعر مگر اچھا لگا
احمد فراز
۔     ۔   ۔ ۔ ۔

Wednesday, May 6, 2020

میرا تعارف، میری کہانی

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

میری شاعری پڑھنے والے اور دیگر پوسٹوں میں دلچسپی رکھنے والے دوست، گاہے بگاہے ان باکس میں تعارف کے لیے تشریف لاتے رہتے ہیں خاص طور پر جب سے شاعری کا کورس کرا رہا ہوں تو ان سیکھنے والے دوستوں سے استاد شاگرد کا ایک پر خلوص تعلق بھی ہوتا ہے تو یہ سلسلہ بڑھ گیا ہے۔
اگرچہ ایک حادثے کے بعد مجھے اپنے بارے میں بتانے اور نئے دوست بنانے میں ہمیشہ ایک ججھک سی رہی ہے لیکن اب میں نے کوشش کرکے اپنے تعارف پر ایک ویڈیو بنا دی ہے جو دوست کسی بھی تعلق کی وجہ سے میرے بارے میں جاننا چاہتے ہیں یوٹیوب یا گوگل پر اردو میں یا انگریزی میں "شہزاد احمد کھرل" لکھ کر سرچ کریں
جس وڈیو پر یہ تصویر لگی ہو گی وہ دیکھ لیں۔


Tuesday, May 5, 2020

شاید، سو لفظی کہانی

سو لفظی کہانی 2

شاید

 "ماسی جیراں! یہ چاول چھت پر ڈال دو !
سوشل میڈیا پر کسی نے کیا خوب لکھا ہے کہ "جس موسم میں فصلیں کچی ہوتی ہیں پرندوں کو کھیتوں سے پیٹ بھر کر خوراک نہیں ملتی چھت پر کچھ ڈال دینا چاہئے آخر پرندوں کے بھی حقوق ہوتے ہیں "
.
"بیگم صاحبہ تھوڑے چاول میں بھی لے جاؤں؟ بچے بہت دنوں سے فرمائش کر رہے ہیں"
.
"تمہیں تو اپنی پڑی رہتی ہے اس مہینے تنخواہ ملے گی تو چاول خرید لینا"
.

"تو پھر باقی خرچے کیسے پورے ہوں گے؟" (ماسی جیراں بڑبڑائی)
"شاید ! ملازموں کے حقوق پر بھی کوئی لکھے اور شاید بیگم صاحبہ بھی پڑھ لیں"

شہزاد احمد کھرل
13مارچ 2018
#سو_لفظی_کہانی
#شاید
#کہانی_سو_لفظوں_کی

Sunday, May 3, 2020

چھٹا سبق، شاعری کے اوزان سیکھیں

چھٹا سبق

نظم کا ایک موضوع ہوتا ہے۔ جبکہ غزل کا کوئی موضوع نہیں ہوتا۔
غزل کے ہر شعر میں الگ اور مکمل مضمون ہوتا ہے۔
لہذا غزل کے شعر کے لئے جس مضمون کا انتخاب کیا جائے اس مضمون کو دو حصوں میں تقسیم کرنا چاہیے۔ (1)تمہید اور (2)متاثر کن، چونکا دینے والا حصہ
مضمون کا ایک حصہ(تمہید) پہلے  مصرعے میں اس طرح لایا جائے کہ اسے پڑھنے یا سننے والا ایک ابہام اور تشنگی محسوس کرے اور اس میں دوسرے مصرعے کا اشتیاق پیدا ہو۔
اور پھر مضمون کا اہم اور چونکا دینے والا حصہ دوسرے مصرعے میں پیش کیا جائے۔ جس سے پڑھنے والے یا سننے والے کی تشنگی ایک خوشگوار احساس کے ساتھ ختم ہو۔
یہ خوشگوار احساس شعر میں مذکور کسی چیز سے متعلق نیا علم حاصل ہونے یا معلوم شده علم کے، ایک نئی جہت سے معلوم ہونے کا ہو گا۔ اگر آپ شعر میں ایک نیا مضمون لائے ہیں یا استعمال شدہ مضمون کا منفرد طریقے سے اظہار کیا ہے تو قاری کو یہ خوشگوار احساس ضرور ہو گا۔ اور اگر پرانے مضمون کو عامیانہ طریقے سے ہی بیان کیا ہے تو شعر قاری کو متاثر نہیں کر سکے گا۔

دو لخت
اگر شعر کے ایک مصرعے میں الگ مضمون ہو اور دوسرے مصرعے میں الگ مضمون ہو تو یہ عیب گردانا جائے گا۔ اور اس عیب کو "شعر کا دو لخت ہونا" یا "مصرعوں میں ربط کا نہ ہونا" کہا جاتا ہے۔
اس لیے دونوں مصرعوں کا باہم اس طرح مربوط ہونا ضروری ہے کے ایک مصرعے کا سمجھنا دوسرے پر موقوف ہو۔
نوٹ: غزل کے سوا حمد، نعت، منقبت یا نظم وغیرہ کے اشعار میں ایسا ربط ضروری نہیں ہوتا۔

اظہار یا ابلاغ کی کمزوری
اور اگر شاعر کسی شعر میں مضمون کو پوری طرح واضح نہ کر پائے تو اسے اظہار کی کمزوری کہتے ہیں۔ مشق کے دوران خیال کو موزوں کرتے ہوئے بہت سے الفاظ مصرعے میں شامل کیے اور نکالے جاتے ہیں۔
حتمی شکل دینے کے بعد جو الفاظ شعر میں رہ جاتے ہیں ان پر غور و فکر کرنے کے بعد اس بات کی تصدیق کرنی چاہیے کہ اب مطلوبہ مفہوم اس شعر سے برآمد ہو رہا ہے یا نہیں۔ بعض اوقات ہم مشق کے دوران میں کچھ اہم الفاظ کو (وزن درست کرنے کی غرض سے) دیگر الفاظ سے تبدیل کر دیتے ہیں۔ لیکن چونکہ مضمون ہمارے ذہن میں موجود ہوتا ہے اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ باقی رہ جانے والے الفاظ سے مضمون کا درست اظہار ہو رہا ہے۔ جب کہ حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا ایسی صورت حال کو "مضمون کا کچھ حصہ شاعر کے ذہن میں رہ جانا" کہتے ہیں۔
اگر کوئی مضمون زیادہ طویل ہو اور ایک شعر میں نہ سما سکتا ہو تو اسے دو یا دو سے زیادہ اشعار کا قطع بنا کر پیش کرنا چاہیے۔

غزل کا پہلا شعر جس کے دونوں مصرعوں میں قافیہ اور ردیف لائے گئے ہوں غزل کا مطلع کہلاتا ہے مطلع غزل کی بحر قافیہ اور ردیف کا اعلان ہوتا ہے یعنی مطلعے میں شاعر بتاتا ہے کہ اس کلام میں سارے اشعار اس بحر میں کہے گئے ہیں اور اس قافیے اور ردیف کی پابندی کی گئی ہے۔
ضروری نہیں کہ سب سے پہلے مطلع کہا جائے۔
بہرحال شاعر کو مطلعے پر سب سے زیادہ محنت کرنی چاہیے۔ ایک تو اس لئے کہ مطلعے کے دونوں مصرعوں میں قافیہ اور ردیف ہوتے ہیں اور اگر قافیہ مشکل ہو یا ردیف ذرا پیچیدہ ہو تو ایک جاندار مطلع کہنا مشکل امر ہوتا ہے۔ (مضمون "منفرد ردیف کو نبھانے کے تقاضے" کا مطالعہ کر لیں۔)
دوسرا اس لیے کہ غزل پڑھنے والا مطلعے ہی سے غزل کے بارے میں ایک تاثر قائم کرتا ہے اس لیے مطلعے کو تمام اشعار سے بہتر ہونا چاہیے۔
اگر ایک غزل میں ایک سے زیادہ ایسے اشعار ہو جائیں جن کے دونوں مصرعوں میں قافیہ و ردیف ہوں تو ایسے اشعار کو مطعے کے فورا بعد لانا چاہیے غزل کے بیچ بیچ میں لانا مناسب نہیں ایسے شعر کو حسن مطلع کہتے ہیں۔
غزل کا آخری شعر جس میں شاعر اپنا تخلص شامل کرتا ہے اسے مقطع کہتے ہیں۔
غزل میں کم سے کم پانچ اشعار ہونے چاہیں، زیادہ سے زیادہ کوئی حد مقرر نہیں۔

اگرچہ غزل کا ہر شعر مضمون کے لحاظ سے مستقل ہوتا ہے۔ یعنی ہر شعر میں الگ مضمون بیان کیا جاتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود غزل کی مجموعی فضا ایک ہونی چاہیے۔ یعنی سنجیدہ شاعری کرتے ہوئے درمیان میں مزاحیہ اشعار نہیں لانے چاہیں۔ کیونکہ جب سنجیدہ اشعار پڑھتے ہوئے انسان پر سنجیدگی طاری ہوتی ہے تو مزاحیہ شعر اپنی داد وصول نہیں کر پاتا بلکہ بعض اوقات پہلا مزہ بھی خراب ہو جاتا ہے۔
اسی طرح عشقیہ غزل میں حمد، نعت اور منقبت وغیرہ کے اشعار شامل کرنا مناسب نہیں کیونکہ عشقیہ اشعار پڑھتے ہوئے قاری مختلف کیفیت میں ہوتا ہے اور حمدیہ، نعتیہ یا منقبت کا شعر آنے سے قاری کو اچانک احترام و عقیدت والی کیفیت میں منتقل ہونا پڑتا ہے۔
اگر غزل لکھتے ہوئے حمد یا نعت کا شعر ہو جائے تو اسے الگ لکھ لیں اور چند ایک مزید اشعار ملا کر حمد یا نعت مکمل کر لیں۔
اسی طرح لفظوں کا انتخاب کرتے ہوئے غزل کی لسانی فضا کا بھی لحاظ رکھنا چاہیے۔ جہاں تک ممکن ہو غیر زبان کا لفظ استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ غیر مانوس الفاظ اور تراکیب کے استعمال سے بچنا چاہیے۔ ایسے مشکل اور کم استعمال کیے جانے والے الفاظ کا استعمال بھی مناسب نہیں، جن کا معنی سمجھنے کے لیے ادبی ذوق رکھنے والے دوستوں کو بھی لغت کا سہارا لینا پڑے۔

میری پہلی مشق
میں نے اپنی پہلی مشق مفاعیلن پر کی تھی۔
 کہا میں نے
سنا اس نے
رکو ٹھہرو
اسی طرح کے مصرعے بناتے بناتے سب سے پہلے یہ دو شعر کہے

کہا میں نے رکو ٹھہرو ابھی کچھ رات باقی ہے
گھٹا چھائی ہے نینوں پر ابھی برسات باقی ہے

لہو آلود خنجر کو وہ لہراتے ہوئے بولے
تھکے ہم وار کر کر کے ابھی کم ذات باقی ہے

 ان اشعار میں مفاعیلن کو چار بار برتا گیا ہے یعنی ایک مصرعے کا وزن "مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن" ہے  ہر مصرع ہجائے کوتاہ سے شروع ہو گا اور اس کے بعد تین ہجائے بلند ہوں گے اس کے بعد پھر ایک ہجائے کوتاہ اور تین ہجائے بلند، ایک مصرعے میں یہ عمل کُل چار دفعہ دہرایا جائے گا۔
علامتی شکل
اددداددداددداددد
اس بحر کا نام "ہزج مثمن سالم" ہے۔ ابتدائی طور پر غزل کے افاعیل کا علم ہو جائے تو کافی ہے نام یاد رکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
یہ ایک آسان بحر ہے۔ کوئی بھی مضمون آسانی سے اس میں سما سکتا ہے۔ نئے شاعر کو اپنی مشق کا آغاز اسی بحر سے کرنا چاہیے۔
شہزاد احمد کھرل

سبق سے متعلق ویڈیو لیکچر
https://youtu.be/eG2SrDtS08k
مشق

(الف)
اس وزن پر پانچ اشعار لکھ کر پیش کریں۔ قافیہ اور ردیف کا انتخاب خود کر لیں۔
"مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن"

(ب)
غالب کے ان اشعار میں اخفا الف کا قانون کن مقامات پر لاگو کیا گیا ہے نشاندہی کریں اور مقطعے کی تقطیع کریں۔


ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

ہوئی اِس دور میں منسوب مجھ سے بادہ آشامی
پھر آیا وہ زمانہ جو جہاں میں جامِ جم نکلے

محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا
اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے

کہاں مے خانے کا دروازہ غالبؔ! اور کہاں واعظ
پر اتنا جانتے ہیں، کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے
مرزا اسد اللہ خان غالب

(ج)
 اقبال کا یہ کلام کس بحر میں ہے؟
ان اشعار میں سے دس مشکل الفاظ کا انتخاب کریں اور لغت دیکھ کر ان کا معنی اور تقطیع لکھیں۔

متاعِ بے بہا ہے درد و سوزِ آرزو مندی​
مقامِ بندگی دے کر نہ لوں شانِ خداوندی​

​ترے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا ، نہ وہ دنیا​
یہاں مرنے کی پابندی ، وہاں جینے کی پابندی​ ​

حجاب اکسیر ہے آوارۂ کوئے محبت کو​
مری آتش کو بھڑکاتی ہے تیری دیر پیوندی​ ​

گزر اوقات کر لیتا ہے یہ کوہ و بیاباں میں​
کہ شاہیں کے لیے ذلت ہے کارِ آشیاں بندی​ ​

یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی​
سکھائے کس نے اسمعیل کو آدابِ فرزندی​ ​

زیارت گاہِ اہلِ عزم و ہمت ہے لحد میری​
کہ خاکِ راہ کو میں نے بتایا راز الوندی​ ​

مری مشاطگی کی کیا ضرورت حسنِ معنی کو​
کہ فطرت خود بخود کرتی ہے لالے کی حنا بندی​
علامہ محمد اقبال
۔ ۔ ۔ ۔ ۔
#ادبی_ذوق
#چھٹا_سبق

#شاعری_کے_اوزان_سیکھیں

#شہزاد_احمد_کھرل

#تیسرا_ساکن

#ہجائے_کوتاہ

#آسان_عروض

#دولخت
#اظہار_کی_کمزوری
#مشق_کرنے_کا_طریقہ


#adbizaoq

#poetry

#learning_poetry

#urdu_poetry

#shayri_k_aozan

#hijay_boland

#hijay_kotah

#do_lakht
#izhar_ki_kamzoori
#mashq_krny_ka_treeqa

شاعری کے اوزان سیکھیں | آٹھواں سبق

آٹھواں سبق نئی ترتیب کے مطابق تقطیع کرنے کا طریقہ الفاظ کی تقطیع کرنے کا طریقہ ہم پڑھ چکے ہیں۔ اب اشعار کی تقطیع کر کے اشعار کی بحر معل...