چوتھا سبق
فارسی زبان میں ترکیبِ اضافی، توصیفی اور عطفی بناتے ہوئے وزن پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟
نوٹ: فی الحال ہمیں صرف فارسی ترکیبوں سے مطلب ہے انہی کی بات کریں گے۔
ترکیب اضافی
دو چیزوں کے درمیان تعلق یا ملکیت ظاہر کرنے کے لیے ترکیب اضافی بنائی جاتی ہے۔ جیسے غمِ دنیا، چراغِ محفل، راحتِ جاں،
ترکیب توصیفی
کسی کا اچھا یا برا وصف بیان کرنے کے لیے بنائی جاتی ہے۔ جیسے گنبدِ خضرا، دلِ بے رحم، لبِ شیریں،
ترکیبِ عطفی
کچھ چیزوں کو ایک حکم یا ایک خبر میں شامل کرنے کے لیے واؤ کے ذریعے جوڑا جاتا ہے۔ جیسے دل و جگر ، وہم و گمان، شب و روز
دل کے ل وہم کے م اور شب کی ب پر پیش پڑھیں گے۔
اہم قاعدہ
جب کوئی لفظ ایک ہجائے بلند پر مشتمل ہو (جیسے دل، غم، لب وغیرہ) یا کسی لفظ کا آخری ہجا، ہجائے بلند ہو (جیسے دھڑکن دلبر، شجر، وطن وغیرہ) تو ترکیب توصیفی یا اضافی بناتے ہوئے جب آخری حرف کے نیچے زیر آئےگی یا ترکیب عطفی بناتے ہوئے آخری حرف پر پیش آئے گی تو یہ ہجائے بلند دو حصوں میں تقسیم ہو جائے گا پہلا حرف ہجائے کوتاہ بن جائے گا اور دوسرا حرف(جس کے نیچے زیر یا اوپر پیش آئی ہے) کے بارے میں شاعر کو اختیار ہے کہ اسے ہجائے کوتاہ باندھے یا ہجائے بلند۔
اور جس ہجے کے بارے ميں شاعر کو کوتاہ اور بلند باندھنے میں اختیار ہو اسے ہم "و" سے ظاہر کریں گے۔
جیسے
غمِ دنیا = غَ ۔ مِ۔ دن۔ یا = ا و د د
دلِ بے رحم = دِ ۔ لِ ۔ بے۔ رح ۔ م = ا و د د ا
دل و جگر = دِ ۔ لُ ۔ ج ۔ گر = ا و ا د
۔ ۔ ۔ ۔
جب کسی لفظ کے آخر میں گول "ہ" ہو۔
اگر تو لفظ کے آخر میں آنے والی گول ہ کسی ہجائے بلند کا حصہ ہو تو ترکیبِ اضافی، توصیفی یا عطفی بناتے ہوئے وہ ہمزہ میں بدل جائے گی۔ اور اس صورت میں ہ لکھنے میں آئے گی لیکن شمار نہیں ہو گی اور وزن میں ویسی ہی تبدیلی رونما ہو گی جیسی اوپر ذکر کی گئی یعنی ہ سے پہلا حرف ہجائے کوتاہ میں بدل جائے گا اور ہ کی جگہ آنے والے ء کو کھینچ کر ہجائے بلند بھی کیا جا سکتا ہے اور مختصر پڑھ کر ہجائے کوتاہ بھی لایا جا سکتا ہے۔
جیسے
وعدہءِ فردا = وع۔ د ۔ ءِ ۔ فر۔ دا = د ا و د و
دیدہءِ تر = دی۔دَ ۔ءِ۔ تر = داود
دیدہ و دل = دی۔ د ۔ءُ ۔ دل = داود
اگر لفظ کے آخر میں آنے والی گول ہ کسی ہجے بلند کا حصہ نہ ہو تو وہ اپنی حالت میں موجود رہے گی البتہ اس کے ہجائے بلند یا ہجائے کوتاہ باندھنے میں شاعر کو اختیار حاصل ہو جائے گا۔
نگاہِ یار = ن۔گا۔ہِ۔یا۔ر= ادودا
سپاہِ پرجوش = س۔پا۔ ہِ۔ پر۔ جو۔ ش= ادوددا
اندوہ و غم = ان۔دو۔ہُ ۔ غم = ددود
اگر کسی لفظ کے آخر میں الف یا واؤ ہو تو اس کی ترکیب اضافی اور توصیفی بناتے وقت اس لفظ کے آخر میں "ئے" آئے گا لفظ کے آخر میں آنے والے الف کا وزن شمار ہو گا۔ البتہ واؤ ہونے کی صورت میں واو کو وزن میں شمار کرنے یا نہ کرنے میں شاعر کو اختیار ہو گا اور اسی طرح "ئے" کے بارے میں شاعر کو اختیار ہو گا کہ اسے ہجائے کوتاہ لائے یا ہجائے بلند۔
وفائے یار =و۔فا۔ئے۔یا۔ر = ادودا
ادائے دلکَش = ا۔دا۔ئے۔دل۔کش = ادودد
سوئے قوم = سو ۔ ئے ۔قو۔ م= وودا
روئے روشن = رو۔ ئے۔ رو۔ شن = وودد
مزکورہ بالا مثالوں کی تقطیع میں جہاں "و" لکھی گئی ہے اسے شاعر ضرورت کے وقت ہجائے بلند کے مقابل بھی لا سکتا ہے اور ہجائے کوتاہ کے مقابل بھی۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اخفاۓ الف
کسی مصرعے میں ایک لفظ کا آخری حرف، حرفِ صحیح ساکن ہو اور اس سے اگلے لفظ کا پہلا حرف الف متحرک ہو تو شعری ضرورت کے تحت الف متحرک کا اخفا کر کے اس کی حرکت اس سے پہلے والے حرف ساکن کو دے دی جاتی ہے اسے اخفائے الف کہتے ہیں۔ اس عمل سے الف کی آواز ساکت ہو جاتی ہے۔ جیسے "یار اپنا" یار کی ر حرفِ صحیح ساکن ہے اور اپنا کا پہلا الف متحرک ہے اس الف کی حرکت ر کو مل جائے گی۔
یار اپنا = یا۔ ر ۔اپ۔ نا = د ا د د
اخفائے الف کے بعد
یار اپنا = یا۔ رَپ۔ نا = د د د
آوازیں تین رہ گئیں 👆
اور
ظلم ایسا = ظل۔م۔اے۔سا = دادو
ایفائے الف کے بعد
ظلم ایسا = ظل ۔ مے ۔ سا = ددو
اخفائے الف کے ذریعے جو الف گرایا جاتا ہے وہ الف مصرعے میں لکھا ہوا موجود رہے گا لیکن آواز کھو دے گا۔
اخفاۓ غیر الف
اخفاۓ الف کے طریقے سے ع، ح، یا ہ کا اخفا کرنا عیب سمجھا جاتا ہے۔
جیسے "مفاعلن فعِلاتن مفاعلن فِعْلن" میں لکھے گئے درج ذیل شعر کے پہلے مصرعے میں اخفاۓ عین کیا گیا ہے۔
ہم عکس عکس بکھرتے رہے اسی دُھن میں
کہ زندگی میں کبھی لازوال تھے ہم بھی
پروین شاکر
۔ ۔ ۔
مشق کرنے کا طریقہ
وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
مرادیں غریبوں کی بر لانے والا
مفاسد کا زیر و زبر کرنے والا
قبائل کو شِیر و شکر کرنے والا
اتر کر حِرا سے سوئے قوم آیا
اور اک نسخہءِ کیمیا ساتھ لایا
مس خام کو جس نے کندن بنایا
کھرا اور کھوٹا الگ کر دکھایا
عرب جس پہ قرنوں سے تھا جہل چھایا
پلٹ دی بس اک آن میں اس کی کایا
رہا ڈر نہ بیڑے کو موجِ بلا کا
اِدھر سے اُدھر پھر گیا رخ ہوا کا
(الطاف حسین حالی)
اپنے سامنے قلم اور کاغذ رکھ لیں پھر نعت کے مذکورہ بالا اشعار کو گنگنا کر یا تحت الفظ میں ردھم کے ساتھ بار بار پڑھیں جب ایک سُر یا ردھم بن جائے تو ایک شعر کا انتخاب کر کے چند منٹ تک اسے دہراتے رہیں پھر دہراتے دہراتے اسی سُر یا ردھم میں اپنے مصرعے لکھنا شروع کر دیں مشق کرتے ہوئے اگر محسوس ہو کہ ردھم ٹوٹ گیا ہے تو دوبارہ نعت کا شعر پڑھنا شروع کر دیں جب دوبارہ ردھم بن جائے تو پھر اپنے مصرعے بنانے شروع کر دیں۔
یہ نعت "فعولن فعولن فعولن فعولن" پر ہے اور آدھا مصرع "فعولن فعولن" ہو گا یعنی
فعولن فعولن فعولن فعولن
وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
اور
فعولن فعولن
وہ نبیوں میں رحمت
لقب پانے والا
جس کسی بحر پر مشق کرنا چاہیں مذکورہ بالا طریقے کے مطابق اس بحر میں کسی اچھے شاعر کے لکھے ہوئے چند اشعار کا انتخاب کر لیں۔ پھر انہیں پڑھتے ہوئے ردھم بنا کر اپنے اشعار کہہ لیں۔
مصرعے لکھ لینے کے بعد پرکھنے کا طریقہ
ایک کاغذ پر بڑا سا "فعولن فعولن" یا اس کی علامتیں "ادد ادد" لکھ لیں پھر اس وزن پر نظر کرتے ہوئے اپنا ایک مصرع اس طرح سے دہرائیں کہ زبان سے مصرع پڑھ رہے ہوں اور نظر سے وزن پڑھ رہے ہوں۔
زبان سے جو ہجا ادا کر رہے ہوں آپ کی نظر وزن پر اس مقام پر ہو جس کے مقابل وہ ہجا آ رہا ہے۔
مثال کے طور پر اگر اسی نعت کا پہلا مصرع وزن پر پرکھیں تو یوں ہو گا کہ جب منہ سے لفظ "وہ" ادا ہو رہا ہو تو فعولن کی "ف" پر نظر ہو اور دماغ اس چیز کو پرکھ رہا ہو کہ کیا لفظ "وہ" ف (یعنی ہجائے کوتاہ) کے مقابل آ سکتا ہے؟
اسی طرح "نَب" پڑھتے ہوئے "عو" پر نظر ہو اور "یوں" پڑھتے ہوئے "لُن" پر نظر ہو اس کے بعد مصرعے کے "میں" پر پہنچ کر نیا فعولن شروع ہو چکا ہو گا۔ "میں" پڑھتے ہوئے ف کو دیکھیں گے اور "رَح" پڑھتے ہوئے "عو" کو اور "مت" پڑھتے ہوئے یے "لُن" کو۔ اور ذہن سے یہ پرکھتے جائیں گے کہ وزن میں جہاں ہجائے بلند ہے مصرعے میں اس کے مقابل ہجائے کوتاہ تو نہیں آرہا؟
اس پیرے میں ہم نے بغیر لکھے زبان آنکھوں اور دماغ کے تال میل سے آدھے مصرعے کی تقطیع کی۔
وہ۔نب۔یوں۔میں۔رح۔مت
ف۔عو۔لن۔ ۔ ۔ ۔ ف۔عو۔لن
ا۔ ۔ ۔د۔ ۔ د ۔ ۔ ۔ ۔ ا ۔ ۔د ۔ د
اسی طرح سے سارے مصرعے پرکھ لیں۔
شہزاد احمد کھرل
سبق سے متعلق ویڈیو لیکچر
https://youtu.be/jAFHHtWTYCs
۔ ۔ ۔ ۔ ۔
مشق
(الف)ان اوزان پر دس دس جملے بنائیں
فعولن فعولن
فعولن فعولن فعولن فعولن
آپ پڑھ چکے ہیں کہ کچھ الفاظ ہجائے کوتاہ کے مقابل بھی لائے جا سکتے ہیں اور ہجائے بلند کے مقابل بھی اور حروف علت کو گرانے سے متعلق بھی پڑھ چکے ہیں تو شاعر کو ملنے والی رعائیتوں کو استعمال کرتے ہوئے جملے بنا لیں اپنے روز مرہ معمول پر بھی بنا سکتے ہیں جیسے
فعولن فعولن
اٹھا صُبْح جب میں
تو یہ میں نے دیکھا
نمازی مساجد
کو جاتے تھے اکثر
۔ ۔ ۔
(ب)لغت دیکھ کر ان الفاظ کے معانی لکھیں اور تقطیع کریں۔ دس الفاظ اپنی طرف سے بھی شامل کر لیں۔
اخفائے الف، حاصلِ کلام، نسخہء کیمیا، وسعتِ قلبی، شاملِ حال، دودِ چراغِ محفل، صبح نو، گل و بلبل، وہم و گماں، دیدہء نمناک
تقطیع اس طور پر کریں کہ جس ہجے سے متعلق آپ سمجھتے ہیں کہ شاعر کو اختیار ہے اس کے مقابل و لکھیں۔
(ج)
ان الفاظ کی تقطیع اخفائے الف کا قانون لاگو کر کے کریں۔
درداتنا، روز ان کو، گھر آپ کا
#ادبی_ذوق
#تیسرا_سبق
#شاعری_کے_اوزان_سیکھیں
#شہزاد_احمد_کھرل
#تیسرا_ساکن
#ہجائے_کوتاہ
#آسان_عروض
#واؤ_معدولہ
#یائے_مخلوطہ
#واؤ_لین
#واؤ_معروف
#واؤ_مجہول
#adbizaoq
#poetry
#learning_poetry
#urdu_poetry
#shayri_k_aozan
#hijay_boland
#hijay_kotah
فارسی زبان میں ترکیبِ اضافی، توصیفی اور عطفی بناتے ہوئے وزن پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟
نوٹ: فی الحال ہمیں صرف فارسی ترکیبوں سے مطلب ہے انہی کی بات کریں گے۔
ترکیب اضافی
دو چیزوں کے درمیان تعلق یا ملکیت ظاہر کرنے کے لیے ترکیب اضافی بنائی جاتی ہے۔ جیسے غمِ دنیا، چراغِ محفل، راحتِ جاں،
ترکیب توصیفی
کسی کا اچھا یا برا وصف بیان کرنے کے لیے بنائی جاتی ہے۔ جیسے گنبدِ خضرا، دلِ بے رحم، لبِ شیریں،
ترکیبِ عطفی
کچھ چیزوں کو ایک حکم یا ایک خبر میں شامل کرنے کے لیے واؤ کے ذریعے جوڑا جاتا ہے۔ جیسے دل و جگر ، وہم و گمان، شب و روز
دل کے ل وہم کے م اور شب کی ب پر پیش پڑھیں گے۔
اہم قاعدہ
جب کوئی لفظ ایک ہجائے بلند پر مشتمل ہو (جیسے دل، غم، لب وغیرہ) یا کسی لفظ کا آخری ہجا، ہجائے بلند ہو (جیسے دھڑکن دلبر، شجر، وطن وغیرہ) تو ترکیب توصیفی یا اضافی بناتے ہوئے جب آخری حرف کے نیچے زیر آئےگی یا ترکیب عطفی بناتے ہوئے آخری حرف پر پیش آئے گی تو یہ ہجائے بلند دو حصوں میں تقسیم ہو جائے گا پہلا حرف ہجائے کوتاہ بن جائے گا اور دوسرا حرف(جس کے نیچے زیر یا اوپر پیش آئی ہے) کے بارے میں شاعر کو اختیار ہے کہ اسے ہجائے کوتاہ باندھے یا ہجائے بلند۔
اور جس ہجے کے بارے ميں شاعر کو کوتاہ اور بلند باندھنے میں اختیار ہو اسے ہم "و" سے ظاہر کریں گے۔
جیسے
غمِ دنیا = غَ ۔ مِ۔ دن۔ یا = ا و د د
دلِ بے رحم = دِ ۔ لِ ۔ بے۔ رح ۔ م = ا و د د ا
دل و جگر = دِ ۔ لُ ۔ ج ۔ گر = ا و ا د
۔ ۔ ۔ ۔
جب کسی لفظ کے آخر میں گول "ہ" ہو۔
اگر تو لفظ کے آخر میں آنے والی گول ہ کسی ہجائے بلند کا حصہ ہو تو ترکیبِ اضافی، توصیفی یا عطفی بناتے ہوئے وہ ہمزہ میں بدل جائے گی۔ اور اس صورت میں ہ لکھنے میں آئے گی لیکن شمار نہیں ہو گی اور وزن میں ویسی ہی تبدیلی رونما ہو گی جیسی اوپر ذکر کی گئی یعنی ہ سے پہلا حرف ہجائے کوتاہ میں بدل جائے گا اور ہ کی جگہ آنے والے ء کو کھینچ کر ہجائے بلند بھی کیا جا سکتا ہے اور مختصر پڑھ کر ہجائے کوتاہ بھی لایا جا سکتا ہے۔
جیسے
وعدہءِ فردا = وع۔ د ۔ ءِ ۔ فر۔ دا = د ا و د و
دیدہءِ تر = دی۔دَ ۔ءِ۔ تر = داود
دیدہ و دل = دی۔ د ۔ءُ ۔ دل = داود
اگر لفظ کے آخر میں آنے والی گول ہ کسی ہجے بلند کا حصہ نہ ہو تو وہ اپنی حالت میں موجود رہے گی البتہ اس کے ہجائے بلند یا ہجائے کوتاہ باندھنے میں شاعر کو اختیار حاصل ہو جائے گا۔
نگاہِ یار = ن۔گا۔ہِ۔یا۔ر= ادودا
سپاہِ پرجوش = س۔پا۔ ہِ۔ پر۔ جو۔ ش= ادوددا
اندوہ و غم = ان۔دو۔ہُ ۔ غم = ددود
اگر کسی لفظ کے آخر میں الف یا واؤ ہو تو اس کی ترکیب اضافی اور توصیفی بناتے وقت اس لفظ کے آخر میں "ئے" آئے گا لفظ کے آخر میں آنے والے الف کا وزن شمار ہو گا۔ البتہ واؤ ہونے کی صورت میں واو کو وزن میں شمار کرنے یا نہ کرنے میں شاعر کو اختیار ہو گا اور اسی طرح "ئے" کے بارے میں شاعر کو اختیار ہو گا کہ اسے ہجائے کوتاہ لائے یا ہجائے بلند۔
وفائے یار =و۔فا۔ئے۔یا۔ر = ادودا
ادائے دلکَش = ا۔دا۔ئے۔دل۔کش = ادودد
سوئے قوم = سو ۔ ئے ۔قو۔ م= وودا
روئے روشن = رو۔ ئے۔ رو۔ شن = وودد
مزکورہ بالا مثالوں کی تقطیع میں جہاں "و" لکھی گئی ہے اسے شاعر ضرورت کے وقت ہجائے بلند کے مقابل بھی لا سکتا ہے اور ہجائے کوتاہ کے مقابل بھی۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اخفاۓ الف
کسی مصرعے میں ایک لفظ کا آخری حرف، حرفِ صحیح ساکن ہو اور اس سے اگلے لفظ کا پہلا حرف الف متحرک ہو تو شعری ضرورت کے تحت الف متحرک کا اخفا کر کے اس کی حرکت اس سے پہلے والے حرف ساکن کو دے دی جاتی ہے اسے اخفائے الف کہتے ہیں۔ اس عمل سے الف کی آواز ساکت ہو جاتی ہے۔ جیسے "یار اپنا" یار کی ر حرفِ صحیح ساکن ہے اور اپنا کا پہلا الف متحرک ہے اس الف کی حرکت ر کو مل جائے گی۔
یار اپنا = یا۔ ر ۔اپ۔ نا = د ا د د
اخفائے الف کے بعد
یار اپنا = یا۔ رَپ۔ نا = د د د
آوازیں تین رہ گئیں 👆
اور
ظلم ایسا = ظل۔م۔اے۔سا = دادو
ایفائے الف کے بعد
ظلم ایسا = ظل ۔ مے ۔ سا = ددو
اخفائے الف کے ذریعے جو الف گرایا جاتا ہے وہ الف مصرعے میں لکھا ہوا موجود رہے گا لیکن آواز کھو دے گا۔
اخفاۓ غیر الف
اخفاۓ الف کے طریقے سے ع، ح، یا ہ کا اخفا کرنا عیب سمجھا جاتا ہے۔
جیسے "مفاعلن فعِلاتن مفاعلن فِعْلن" میں لکھے گئے درج ذیل شعر کے پہلے مصرعے میں اخفاۓ عین کیا گیا ہے۔
ہم عکس عکس بکھرتے رہے اسی دُھن میں
کہ زندگی میں کبھی لازوال تھے ہم بھی
پروین شاکر
۔ ۔ ۔
مشق کرنے کا طریقہ
وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
مرادیں غریبوں کی بر لانے والا
مفاسد کا زیر و زبر کرنے والا
قبائل کو شِیر و شکر کرنے والا
اتر کر حِرا سے سوئے قوم آیا
اور اک نسخہءِ کیمیا ساتھ لایا
مس خام کو جس نے کندن بنایا
کھرا اور کھوٹا الگ کر دکھایا
عرب جس پہ قرنوں سے تھا جہل چھایا
پلٹ دی بس اک آن میں اس کی کایا
رہا ڈر نہ بیڑے کو موجِ بلا کا
اِدھر سے اُدھر پھر گیا رخ ہوا کا
(الطاف حسین حالی)
اپنے سامنے قلم اور کاغذ رکھ لیں پھر نعت کے مذکورہ بالا اشعار کو گنگنا کر یا تحت الفظ میں ردھم کے ساتھ بار بار پڑھیں جب ایک سُر یا ردھم بن جائے تو ایک شعر کا انتخاب کر کے چند منٹ تک اسے دہراتے رہیں پھر دہراتے دہراتے اسی سُر یا ردھم میں اپنے مصرعے لکھنا شروع کر دیں مشق کرتے ہوئے اگر محسوس ہو کہ ردھم ٹوٹ گیا ہے تو دوبارہ نعت کا شعر پڑھنا شروع کر دیں جب دوبارہ ردھم بن جائے تو پھر اپنے مصرعے بنانے شروع کر دیں۔
یہ نعت "فعولن فعولن فعولن فعولن" پر ہے اور آدھا مصرع "فعولن فعولن" ہو گا یعنی
فعولن فعولن فعولن فعولن
وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
اور
فعولن فعولن
وہ نبیوں میں رحمت
لقب پانے والا
جس کسی بحر پر مشق کرنا چاہیں مذکورہ بالا طریقے کے مطابق اس بحر میں کسی اچھے شاعر کے لکھے ہوئے چند اشعار کا انتخاب کر لیں۔ پھر انہیں پڑھتے ہوئے ردھم بنا کر اپنے اشعار کہہ لیں۔
مصرعے لکھ لینے کے بعد پرکھنے کا طریقہ
ایک کاغذ پر بڑا سا "فعولن فعولن" یا اس کی علامتیں "ادد ادد" لکھ لیں پھر اس وزن پر نظر کرتے ہوئے اپنا ایک مصرع اس طرح سے دہرائیں کہ زبان سے مصرع پڑھ رہے ہوں اور نظر سے وزن پڑھ رہے ہوں۔
زبان سے جو ہجا ادا کر رہے ہوں آپ کی نظر وزن پر اس مقام پر ہو جس کے مقابل وہ ہجا آ رہا ہے۔
مثال کے طور پر اگر اسی نعت کا پہلا مصرع وزن پر پرکھیں تو یوں ہو گا کہ جب منہ سے لفظ "وہ" ادا ہو رہا ہو تو فعولن کی "ف" پر نظر ہو اور دماغ اس چیز کو پرکھ رہا ہو کہ کیا لفظ "وہ" ف (یعنی ہجائے کوتاہ) کے مقابل آ سکتا ہے؟
اسی طرح "نَب" پڑھتے ہوئے "عو" پر نظر ہو اور "یوں" پڑھتے ہوئے "لُن" پر نظر ہو اس کے بعد مصرعے کے "میں" پر پہنچ کر نیا فعولن شروع ہو چکا ہو گا۔ "میں" پڑھتے ہوئے ف کو دیکھیں گے اور "رَح" پڑھتے ہوئے "عو" کو اور "مت" پڑھتے ہوئے یے "لُن" کو۔ اور ذہن سے یہ پرکھتے جائیں گے کہ وزن میں جہاں ہجائے بلند ہے مصرعے میں اس کے مقابل ہجائے کوتاہ تو نہیں آرہا؟
اس پیرے میں ہم نے بغیر لکھے زبان آنکھوں اور دماغ کے تال میل سے آدھے مصرعے کی تقطیع کی۔
وہ۔نب۔یوں۔میں۔رح۔مت
ف۔عو۔لن۔ ۔ ۔ ۔ ف۔عو۔لن
ا۔ ۔ ۔د۔ ۔ د ۔ ۔ ۔ ۔ ا ۔ ۔د ۔ د
اسی طرح سے سارے مصرعے پرکھ لیں۔
شہزاد احمد کھرل
سبق سے متعلق ویڈیو لیکچر
https://youtu.be/jAFHHtWTYCs
۔ ۔ ۔ ۔ ۔
مشق
(الف)ان اوزان پر دس دس جملے بنائیں
فعولن فعولن
فعولن فعولن فعولن فعولن
آپ پڑھ چکے ہیں کہ کچھ الفاظ ہجائے کوتاہ کے مقابل بھی لائے جا سکتے ہیں اور ہجائے بلند کے مقابل بھی اور حروف علت کو گرانے سے متعلق بھی پڑھ چکے ہیں تو شاعر کو ملنے والی رعائیتوں کو استعمال کرتے ہوئے جملے بنا لیں اپنے روز مرہ معمول پر بھی بنا سکتے ہیں جیسے
فعولن فعولن
اٹھا صُبْح جب میں
تو یہ میں نے دیکھا
نمازی مساجد
کو جاتے تھے اکثر
۔ ۔ ۔
(ب)لغت دیکھ کر ان الفاظ کے معانی لکھیں اور تقطیع کریں۔ دس الفاظ اپنی طرف سے بھی شامل کر لیں۔
اخفائے الف، حاصلِ کلام، نسخہء کیمیا، وسعتِ قلبی، شاملِ حال، دودِ چراغِ محفل، صبح نو، گل و بلبل، وہم و گماں، دیدہء نمناک
تقطیع اس طور پر کریں کہ جس ہجے سے متعلق آپ سمجھتے ہیں کہ شاعر کو اختیار ہے اس کے مقابل و لکھیں۔
(ج)
ان الفاظ کی تقطیع اخفائے الف کا قانون لاگو کر کے کریں۔
درداتنا، روز ان کو، گھر آپ کا
#ادبی_ذوق
#تیسرا_سبق
#شاعری_کے_اوزان_سیکھیں
#شہزاد_احمد_کھرل
#تیسرا_ساکن
#ہجائے_کوتاہ
#آسان_عروض
#واؤ_معدولہ
#یائے_مخلوطہ
#واؤ_لین
#واؤ_معروف
#واؤ_مجہول
#adbizaoq
#poetry
#learning_poetry
#urdu_poetry
#shayri_k_aozan
#hijay_boland
#hijay_kotah
No comments:
Post a Comment