Wednesday, May 27, 2020

ساتواں سبق شاعری کے اوزان سیکھیں

ساتواں سبق

ایک سہولت
کسی بھی بحر پر مشق کرتے ہوئے ایک کلام کے کسی بھی مصرعے کے آخر میں ایک حرف ساکن(یا ہجائے کوتاہ) کا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
جیسے
حزر اے دل کہ اس جہاں کا فریب
بحر: فاعلاتن مفاعلن فعِلن
تقطیع کر کے دیکھیں۔
حز۔ ر ۔اے۔ دل۔ کِ۔ اس ۔جَ۔ ہاں۔ کَ۔ ف۔ رے۔ب
فا۔ ع ِ۔ لا ۔ تن ۔ م ۔ فا ۔ ع ۔ لن ۔ فَ۔ عِ ۔ لن۔
اگر آپ تقطیع پر غور کریں تو حرف "ب" بحر سے باہر ہے بحر لفظ فریب کے "فرے" تک پوری ہوگئی ایسا ایک حرف ساکن کا اضافہ بلا تردد جائز ہے۔

دوسری صورت یہ ہے کہ آخر میں ایک ایسا ہجائے کوتاہ زائد ہو جسے حرف علت کو گرا کر ہجائے کوتاہ بنایا گیا ہو جیسے
اپنے بسمل کو روز ڈھونڈنا تیرا
تقطیع کریں
اپ۔نِ۔ بس۔مل۔کُ۔رو۔ ز۔ ڈھو۔ ڈ ۔ نَ ۔تے۔را
فا۔ ع ۔ لا ۔ تن ۔ م ۔ فا ۔عِ ۔ لن ۔ فَ۔ عِ ۔لن

تقطیع پر غور کریں تو تیرا کی "را" بحر سے زائد ہے اور اس کے آخر سے الف گرا کر اسے ہجائے کوتاہ بنایا جا سکتا ہے یعنی تےرَ، ایسی صورت میں جو اضافہ کیا گیا ہے وہ حرف ساکن نہیں لیکن ہجائے کوتاہ ہے۔
اس طرح متحرک حرف بحر پر زاید لانا درست نہیں۔ البتہ ہمزہ متحرک بحر پر زاید لانے کی کچھ مثالیں ملتی ہیں۔ ہمزہ متحرک زاید لانے کی مثال دیکھیں۔

سر کھجاتا ہے جہاں زخمِ سر اچھا ہو جائے
لذّتِ سنگ بہ اندازۂ تقریر نہیں
غالب

تیسری صورت
مست نظروں سے مجھ کو دیکھنا ان کا
تقطیع کریں
مس۔ت۔نظ۔رو۔سِ۔ مج۔کُ۔دے۔ک۔نَ۔ان۔کا
فا ۔ عِ ۔ لا ۔ تن ۔م ۔ فا ۔عِ ۔ لن ۔فَ۔عِ۔لن
اس صورت میں لفظ "کا" بحر پر زائد ہے۔ اس کی الف گرا کر اسے ہجائے کوتاہ بنایا جا سکتا ہے لیکن پہلی دو صورتوں کے برعکس لفظ "کا" کسی ایسے لفظ کا جُز نہیں ہے جس کا اکثر حصہ بحر میں سما گیا ہو اور صرف ایک حرف زائد بچا ہو بلکہ "کا" ایک مستقل لفظ ہے ایسا اضافہ درست نہیں۔

شعر جتنا نثر کے قریب ہو بہتر ہے۔
جملوں میں الفاظ کی درست ترتیب وہی ہوتی ہے جو نحوی اعتبار سے درست ہو۔ جس ترتیب کا لحاظ معیاری نثر میں رکھا جاتا ہے۔ لیکن اشعار میں چونکہ وزن کا لحاظ رکھنا پڑتا ہے اور ہجائے کوتاہ اور ہجائے بلند کو ایک خاص ترتیب سے لانا ضروری ہوتا ہے اس وجہ سے شعر میں نثری ترتیب کی پابندی کرنا ایک مشکل امر ہوتا ہے۔ اس لیے نثر کے مقابلے میں شعر کے مصرعوں میں نحوی قواعد کی پابندی ایسی ضروری نہیں ہوتی۔ بلکہ شعری ضرورت کے تحت الفاظ کو نثری ترتیب سے ہٹانے کی اجازت ہوتی ہے۔ البتہ جہاں تک ممکن ہو شعر میں الفاظ کی ترتیب نثری ترتیب کے قریب تر ہو اور ضرورت کے وقت ترتیب میں جو ردوبدل کریں وہ ردوبدل ایسی نہ ہو کہ اس سے شعر کا مفہوم سمجھنا مشکل ہو جائے۔ ورنہ شعر معیوب ہو جائے گا۔
ایک بات یہ بھی یاد رکھنی چاہیے کہ اگر مصرع نثری ترتیب کے عین مطابق ہوتے ہوئے وزن میں ہو تو اسے شعر کا مصرع باور کرانے کے لئے نرسری ترتیب سے ہٹا کر لکھنا ضروری نہیں ہے۔ بلکہ اس کا وزن میں ہونا ہی شعر کا مصرع ہونے کی دلیل ہے۔ مصرعوں کا نثری ترتیب کے قریب تر ہونا شعر کی ایک اضافی خوبی ہے بشرطیکہ اس کوشش میں کسی دوسری خوبی سے ہاتھ دھونے نہ پڑے ہوں۔

تعقید لفظی
مصرعوں میں الفاظ کی نشست نثری ترتیب سے ایسی ہٹی ہوئی ہو کہ شعر کا مفہوم سمجھنا مشکل ہو جائے اسے تعقید لفظی کہتے ہیں
جیسے "نینوں پر گھٹا چھائی ہے برسات ابھی باقی ہے" کو شعری ضرورت کے تحت ہم نے یوں کر لیا
"گھٹا چھائی ہے نینوں پر، ابھی برسات باقی ہے" یہاں مفہوم بھی سمجھ آ رہا ہے اور مصرع بھی وزن میں ہو گیا ہے لیکن اگر ہم اسے نثری ترتیب سے زیادہ دور لے جائیں اور یوں کہیں
"ابھی برسات نینوں پر گھٹا چھائی ہے باقی ہے"
مصرع اب بھی وزن میں ہے لیکن اس کا مفہوم سمجھنا مشکل ہو گیا ہے یہ پتا نہیں چل رہا کہ نینوں پر برسات ہو رہی ہے یا گھٹا چھائی ہے اور "باقی ہے" کا تعلق برسات کے ساتھ ہے یا گھٹا چھانے کے ساتھ ہے الفاظ کی ایسی ردوبدل تعقید لفظی کہلاتی ہے۔ الفاظ کی ترتیب کو بہتر کر کے اس تعقید کو دور کیا جا سکتا ہے۔

تعقید معنوی
تعقید معنوی کی صورت میں بھی شعر کے مفہوم کو سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے لیکن یہاں الفاظ کی ترتیب بدل کر بھی معنے تک نہیں پہنچا جا سکتا کیوں کہ یہاں شاعر نے الفاظ کی ترتیب سے نہیں بلکہ الفاظ کا چناؤ کرتے ہوئے شعر کو مشکل اور ناموافق الفاظ کے ساتھ ایسا پیچیدہ کر دیا ہوتا ہے کہ اس کے مفہوم تک پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے۔

رموزِ اوقاف
رموزِ اوقاف کے استعمال کرنے کا رواج ہمارے نئے نثر نگاروں میں بھی نہیں ہے اور شاعر احباب تو بالکل بھی رموزِ اوقاف استعمال کرنے کا تکلف نہیں کرتے۔ رموز اوقاف کا استعمال ابلاغ میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اس لیے اس کی عادت اپنانی چاہیے۔
شاعری میں عام طور پر جو رموزِ اوقاف استعمال ہوتے ہیں۔

خطابیہ (!)
جب آپ کسی کو مخاطب کرتے ہیں تو مخاطب کے لئے جو لفظ استعمال ہوتا ہے اس کے بعد خطابیہ کا نشان لگانا چاہیے۔ جیسے
کل کی اُتری نہیں ہے کم ظرفو!
کہہ رہے تھے "حضور! تھوڑی ہے"

سوالیہ نشان (؟)
جب شعر میں کسی چیز سے متعلق استفسار کیا جا رہا ہو تو سوالیہ نشان کا استعمال کرنا چاہیے اگر مصرعے میں حروف استفہام (کیا، کیوں، کب، کون وغیرہ) میں سے کوئی شامل ہو تو سمجھنا آسان ہوتا ہے لیکن بعض صورتوں میں ایسا نہیں ہوتا۔ جیسے

جو ترے ہجر سے نہیں گزرا
اس کو غم کا شعور تھوڑی ہے؟

خطابیہ کی مثال میں پیش کیے گئے شعر میں "تھوڑی ہے" کم ہے، کے معنی میں ہے جبکہ اس شعر میں "تھوڑی ہے" بطور استفہامِ انکاری لایا گیا ہے سوالیہ نشان اس بات کی طرف واضح اشارہ کر رہا ہے۔ اور اس نشان کا استعمال قاری کے سمجھنے میں معاون ہو گا۔

واوین (" ")
شعر میں کسی دوسری زبان کا ایسا لفظ جو اردو میں عام مستعمل نہ ہو، لانا ہو تو اسے واوین میں لکھنا چاہیے۔
جب کسی کے مصرعے پر گرہ لگائی جاتی ہے تو پرایا مصرع واوین میں لکھا جاتا ہے۔
یا کچھ ایسے الفاظ جن کے حوالے سے شاعر چاہتا ہو کہ پڑھنے والا ان پر خاص طور پر غور کرے جیسے
ایک بے مہر کسی طور ہمارا نہ ہوا
اور ہم "اپنا بنانے کا ہنر" بھول گئے

کاما یا سکتہ (،)

کاما یا سکتہ لگا کر بتایا جاتا ہے کہ پڑھنے والے کو یہاں پر زرا سا ٹھہر کر آگے پڑھنا چاہیے بعض اوقات کاما یہ بتانے کے لیے بھی لگایا جاتا ہے کہ کامے سے پہلے مذکور الفاظ کا تعلق، مصرعے کے پہلے حصے کے ساتھ ہے دوسرے کے ساتھ نہیں جیسے
گھٹا چھائی ہے نینوں پر، ابھی برسات باقی ہے
اس مصرعے کو اگر کوئی اس طرح پڑھے
گھٹا چھائی ہے۔
نینوں پر ابھی برسات باقی ہے۔
تو شاعر کا مقصود حاصل نہیں ہوتا مصرعے میں لگایا گیا کاما بتا رہا ہے کہ "نینوں پر" کا تعلق مصرعے کے پہلے حصے سے ہے۔

تخلص کی علامت، بُت( ؔ )
شاعر یہ نشان اپنے تخلص پر لگاتا ہے۔ بعض اوقات شاعر کا تخلص مصرعے میں حقیقی معنی کے ساتھ بھی درست بیٹھ رہا ہوتا ہے جو کہ شاعر کی مہارت ظاہر کرتا ہے۔ لیکن بعض اوقات تخلص محض بطور تخلص شامل کیا گیا ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں اگر اس پر بت کا نشان لگا ہو تو قاری کے لیے شعر سمجھنا آسان ہوتا ہے۔

بحر: رمل مثمن محذوف
فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
بحر کا نام رمل ہے اور لفظ "مثمن" ہر اس بحر کے نام میں لکھا جاتا ہے جو چار ارکان پر مشتمل ہو کیوں کہ ایک شعر کے دونوں مصرعوں میں کُل آٹھ رکن دہرائے جاتے ہیں اور مثمن کا معنی ہے "آٹھ والا/والی"
بحر کے نام میں "محذوف" اس لئے لکھا ہے کہ اس کا آخری رکن سالم نہیں ہے بلکہ اس سے ایک ہجائے بلند حذف کیا گیا ہے۔
شہزاد احمد کھرل

مشق

(الف)
شعر کے دو عیوب چھٹے سبق میں بتائے گئے تھے اور دو اس سبق میں بتائے گئے ہیں ان چار عیوب کو آپ اچھی طرح سے سمجھ گئے یا نہیں؟ ان چاروں کے نام اور صرف دو دو جملوں میں تعریف لکھیں۔
۔ ۔

(ب)
اس بحر پر پانچ اشعار لکھیں اشعار کسی بھی موضوع پر ہو سکتے ہیں۔
فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن

(ج)
درج ذیل اشعار میں سے ان مصرعوں کی نشاندہی کریں جن میں ایک حرف ساکن بحر پر زائد لایا گیا ہو۔
مقطعے میں رموزِ اوقاف لگائیں۔

گفتگو اچھی لگی ذوقِ نظر اچھا لگا
مدتوں کے بعد کوئی ہمسفر اچھا لگا

دل کا دکھ جانا تو دل کا مسئلہ ہے پر ہمیں
اُس کا ہنس دینا ہمارے حال پر اچھا لگا

ہر طرح کی بے سر و سامانیوں کے باوجود
آج وہ آیا تو مجھ کو اپنا گھر اچھا لگا

باغباں گلچیں کو چاہے جو کہے ہم کو تو پھول
شاخ سے بڑھ کر کفِ دلدار پر اچھا لگا

کون مقتل میں نہ پہنچا کون ظالم تھا جسے
تیغِ قاتل سے زیادہ اپنا سر اچھا لگا

ہم بھی قائل ہیں وفا میں استواری کے مگر
کوئی پوچھے کون کس کو عمر بھر اچھا لگا

اپنی اپنی چاہتیں ہیں لوگ اب جو بھی کہیں
اک پری پیکر کو اک آشفتہ سر اچھا لگا

میر کے مانند اکثر زیست کرتا تھا فراز
تھا تو وہ دیوانہ سا شاعر مگر اچھا لگا
احمد فراز
۔     ۔   ۔ ۔ ۔

No comments:

Post a Comment

شاعری کے اوزان سیکھیں | آٹھواں سبق

آٹھواں سبق نئی ترتیب کے مطابق تقطیع کرنے کا طریقہ الفاظ کی تقطیع کرنے کا طریقہ ہم پڑھ چکے ہیں۔ اب اشعار کی تقطیع کر کے اشعار کی بحر معل...