چھٹا سبق
نظم کا ایک موضوع ہوتا ہے۔ جبکہ غزل کا کوئی موضوع نہیں ہوتا۔
غزل کے ہر شعر میں الگ اور مکمل مضمون ہوتا ہے۔
لہذا غزل کے شعر کے لئے جس مضمون کا انتخاب کیا جائے اس مضمون کو دو حصوں میں تقسیم کرنا چاہیے۔ (1)تمہید اور (2)متاثر کن، چونکا دینے والا حصہ
مضمون کا ایک حصہ(تمہید) پہلے مصرعے میں اس طرح لایا جائے کہ اسے پڑھنے یا سننے والا ایک ابہام اور تشنگی محسوس کرے اور اس میں دوسرے مصرعے کا اشتیاق پیدا ہو۔
اور پھر مضمون کا اہم اور چونکا دینے والا حصہ دوسرے مصرعے میں پیش کیا جائے۔ جس سے پڑھنے والے یا سننے والے کی تشنگی ایک خوشگوار احساس کے ساتھ ختم ہو۔
یہ خوشگوار احساس شعر میں مذکور کسی چیز سے متعلق نیا علم حاصل ہونے یا معلوم شده علم کے، ایک نئی جہت سے معلوم ہونے کا ہو گا۔ اگر آپ شعر میں ایک نیا مضمون لائے ہیں یا استعمال شدہ مضمون کا منفرد طریقے سے اظہار کیا ہے تو قاری کو یہ خوشگوار احساس ضرور ہو گا۔ اور اگر پرانے مضمون کو عامیانہ طریقے سے ہی بیان کیا ہے تو شعر قاری کو متاثر نہیں کر سکے گا۔
دو لخت
اگر شعر کے ایک مصرعے میں الگ مضمون ہو اور دوسرے مصرعے میں الگ مضمون ہو تو یہ عیب گردانا جائے گا۔ اور اس عیب کو "شعر کا دو لخت ہونا" یا "مصرعوں میں ربط کا نہ ہونا" کہا جاتا ہے۔
اس لیے دونوں مصرعوں کا باہم اس طرح مربوط ہونا ضروری ہے کے ایک مصرعے کا سمجھنا دوسرے پر موقوف ہو۔
نوٹ: غزل کے سوا حمد، نعت، منقبت یا نظم وغیرہ کے اشعار میں ایسا ربط ضروری نہیں ہوتا۔
اظہار یا ابلاغ کی کمزوری
اور اگر شاعر کسی شعر میں مضمون کو پوری طرح واضح نہ کر پائے تو اسے اظہار کی کمزوری کہتے ہیں۔ مشق کے دوران خیال کو موزوں کرتے ہوئے بہت سے الفاظ مصرعے میں شامل کیے اور نکالے جاتے ہیں۔
حتمی شکل دینے کے بعد جو الفاظ شعر میں رہ جاتے ہیں ان پر غور و فکر کرنے کے بعد اس بات کی تصدیق کرنی چاہیے کہ اب مطلوبہ مفہوم اس شعر سے برآمد ہو رہا ہے یا نہیں۔ بعض اوقات ہم مشق کے دوران میں کچھ اہم الفاظ کو (وزن درست کرنے کی غرض سے) دیگر الفاظ سے تبدیل کر دیتے ہیں۔ لیکن چونکہ مضمون ہمارے ذہن میں موجود ہوتا ہے اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ باقی رہ جانے والے الفاظ سے مضمون کا درست اظہار ہو رہا ہے۔ جب کہ حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا ایسی صورت حال کو "مضمون کا کچھ حصہ شاعر کے ذہن میں رہ جانا" کہتے ہیں۔
اگر کوئی مضمون زیادہ طویل ہو اور ایک شعر میں نہ سما سکتا ہو تو اسے دو یا دو سے زیادہ اشعار کا قطع بنا کر پیش کرنا چاہیے۔
غزل کا پہلا شعر جس کے دونوں مصرعوں میں قافیہ اور ردیف لائے گئے ہوں غزل کا مطلع کہلاتا ہے مطلع غزل کی بحر قافیہ اور ردیف کا اعلان ہوتا ہے یعنی مطلعے میں شاعر بتاتا ہے کہ اس کلام میں سارے اشعار اس بحر میں کہے گئے ہیں اور اس قافیے اور ردیف کی پابندی کی گئی ہے۔
ضروری نہیں کہ سب سے پہلے مطلع کہا جائے۔
بہرحال شاعر کو مطلعے پر سب سے زیادہ محنت کرنی چاہیے۔ ایک تو اس لئے کہ مطلعے کے دونوں مصرعوں میں قافیہ اور ردیف ہوتے ہیں اور اگر قافیہ مشکل ہو یا ردیف ذرا پیچیدہ ہو تو ایک جاندار مطلع کہنا مشکل امر ہوتا ہے۔ (مضمون "منفرد ردیف کو نبھانے کے تقاضے" کا مطالعہ کر لیں۔)
دوسرا اس لیے کہ غزل پڑھنے والا مطلعے ہی سے غزل کے بارے میں ایک تاثر قائم کرتا ہے اس لیے مطلعے کو تمام اشعار سے بہتر ہونا چاہیے۔
اگر ایک غزل میں ایک سے زیادہ ایسے اشعار ہو جائیں جن کے دونوں مصرعوں میں قافیہ و ردیف ہوں تو ایسے اشعار کو مطعے کے فورا بعد لانا چاہیے غزل کے بیچ بیچ میں لانا مناسب نہیں ایسے شعر کو حسن مطلع کہتے ہیں۔
غزل کا آخری شعر جس میں شاعر اپنا تخلص شامل کرتا ہے اسے مقطع کہتے ہیں۔
غزل میں کم سے کم پانچ اشعار ہونے چاہیں، زیادہ سے زیادہ کوئی حد مقرر نہیں۔
اگرچہ غزل کا ہر شعر مضمون کے لحاظ سے مستقل ہوتا ہے۔ یعنی ہر شعر میں الگ مضمون بیان کیا جاتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود غزل کی مجموعی فضا ایک ہونی چاہیے۔ یعنی سنجیدہ شاعری کرتے ہوئے درمیان میں مزاحیہ اشعار نہیں لانے چاہیں۔ کیونکہ جب سنجیدہ اشعار پڑھتے ہوئے انسان پر سنجیدگی طاری ہوتی ہے تو مزاحیہ شعر اپنی داد وصول نہیں کر پاتا بلکہ بعض اوقات پہلا مزہ بھی خراب ہو جاتا ہے۔
اسی طرح عشقیہ غزل میں حمد، نعت اور منقبت وغیرہ کے اشعار شامل کرنا مناسب نہیں کیونکہ عشقیہ اشعار پڑھتے ہوئے قاری مختلف کیفیت میں ہوتا ہے اور حمدیہ، نعتیہ یا منقبت کا شعر آنے سے قاری کو اچانک احترام و عقیدت والی کیفیت میں منتقل ہونا پڑتا ہے۔
اگر غزل لکھتے ہوئے حمد یا نعت کا شعر ہو جائے تو اسے الگ لکھ لیں اور چند ایک مزید اشعار ملا کر حمد یا نعت مکمل کر لیں۔
اسی طرح لفظوں کا انتخاب کرتے ہوئے غزل کی لسانی فضا کا بھی لحاظ رکھنا چاہیے۔ جہاں تک ممکن ہو غیر زبان کا لفظ استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ غیر مانوس الفاظ اور تراکیب کے استعمال سے بچنا چاہیے۔ ایسے مشکل اور کم استعمال کیے جانے والے الفاظ کا استعمال بھی مناسب نہیں، جن کا معنی سمجھنے کے لیے ادبی ذوق رکھنے والے دوستوں کو بھی لغت کا سہارا لینا پڑے۔
میری پہلی مشق
میں نے اپنی پہلی مشق مفاعیلن پر کی تھی۔
کہا میں نے
سنا اس نے
رکو ٹھہرو
اسی طرح کے مصرعے بناتے بناتے سب سے پہلے یہ دو شعر کہے
کہا میں نے رکو ٹھہرو ابھی کچھ رات باقی ہے
گھٹا چھائی ہے نینوں پر ابھی برسات باقی ہے
لہو آلود خنجر کو وہ لہراتے ہوئے بولے
تھکے ہم وار کر کر کے ابھی کم ذات باقی ہے
ان اشعار میں مفاعیلن کو چار بار برتا گیا ہے یعنی ایک مصرعے کا وزن "مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن" ہے ہر مصرع ہجائے کوتاہ سے شروع ہو گا اور اس کے بعد تین ہجائے بلند ہوں گے اس کے بعد پھر ایک ہجائے کوتاہ اور تین ہجائے بلند، ایک مصرعے میں یہ عمل کُل چار دفعہ دہرایا جائے گا۔
علامتی شکل
اددداددداددداددد
اس بحر کا نام "ہزج مثمن سالم" ہے۔ ابتدائی طور پر غزل کے افاعیل کا علم ہو جائے تو کافی ہے نام یاد رکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
یہ ایک آسان بحر ہے۔ کوئی بھی مضمون آسانی سے اس میں سما سکتا ہے۔ نئے شاعر کو اپنی مشق کا آغاز اسی بحر سے کرنا چاہیے۔
شہزاد احمد کھرل
سبق سے متعلق ویڈیو لیکچر
https://youtu.be/eG2SrDtS08k
مشق
(الف)
اس وزن پر پانچ اشعار لکھ کر پیش کریں۔ قافیہ اور ردیف کا انتخاب خود کر لیں۔
"مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن"
(ب)
غالب کے ان اشعار میں اخفا الف کا قانون کن مقامات پر لاگو کیا گیا ہے نشاندہی کریں اور مقطعے کی تقطیع کریں۔
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
ہوئی اِس دور میں منسوب مجھ سے بادہ آشامی
پھر آیا وہ زمانہ جو جہاں میں جامِ جم نکلے
محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا
اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے
کہاں مے خانے کا دروازہ غالبؔ! اور کہاں واعظ
پر اتنا جانتے ہیں، کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے
مرزا اسد اللہ خان غالب
(ج)
اقبال کا یہ کلام کس بحر میں ہے؟
ان اشعار میں سے دس مشکل الفاظ کا انتخاب کریں اور لغت دیکھ کر ان کا معنی اور تقطیع لکھیں۔
متاعِ بے بہا ہے درد و سوزِ آرزو مندی
مقامِ بندگی دے کر نہ لوں شانِ خداوندی
ترے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا ، نہ وہ دنیا
یہاں مرنے کی پابندی ، وہاں جینے کی پابندی
حجاب اکسیر ہے آوارۂ کوئے محبت کو
مری آتش کو بھڑکاتی ہے تیری دیر پیوندی
گزر اوقات کر لیتا ہے یہ کوہ و بیاباں میں
کہ شاہیں کے لیے ذلت ہے کارِ آشیاں بندی
یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسمعیل کو آدابِ فرزندی
زیارت گاہِ اہلِ عزم و ہمت ہے لحد میری
کہ خاکِ راہ کو میں نے بتایا راز الوندی
مری مشاطگی کی کیا ضرورت حسنِ معنی کو
کہ فطرت خود بخود کرتی ہے لالے کی حنا بندی
علامہ محمد اقبال
۔ ۔ ۔ ۔ ۔
#ادبی_ذوق
#چھٹا_سبق
#شاعری_کے_اوزان_سیکھیں
#شہزاد_احمد_کھرل
#تیسرا_ساکن
#ہجائے_کوتاہ
#آسان_عروض
#دولخت
#اظہار_کی_کمزوری
#مشق_کرنے_کا_طریقہ
#adbizaoq
#poetry
#learning_poetry
#urdu_poetry
#shayri_k_aozan
#hijay_boland
#hijay_kotah
#do_lakht
#izhar_ki_kamzoori
#mashq_krny_ka_treeqa
نظم کا ایک موضوع ہوتا ہے۔ جبکہ غزل کا کوئی موضوع نہیں ہوتا۔
غزل کے ہر شعر میں الگ اور مکمل مضمون ہوتا ہے۔
لہذا غزل کے شعر کے لئے جس مضمون کا انتخاب کیا جائے اس مضمون کو دو حصوں میں تقسیم کرنا چاہیے۔ (1)تمہید اور (2)متاثر کن، چونکا دینے والا حصہ
مضمون کا ایک حصہ(تمہید) پہلے مصرعے میں اس طرح لایا جائے کہ اسے پڑھنے یا سننے والا ایک ابہام اور تشنگی محسوس کرے اور اس میں دوسرے مصرعے کا اشتیاق پیدا ہو۔
اور پھر مضمون کا اہم اور چونکا دینے والا حصہ دوسرے مصرعے میں پیش کیا جائے۔ جس سے پڑھنے والے یا سننے والے کی تشنگی ایک خوشگوار احساس کے ساتھ ختم ہو۔
یہ خوشگوار احساس شعر میں مذکور کسی چیز سے متعلق نیا علم حاصل ہونے یا معلوم شده علم کے، ایک نئی جہت سے معلوم ہونے کا ہو گا۔ اگر آپ شعر میں ایک نیا مضمون لائے ہیں یا استعمال شدہ مضمون کا منفرد طریقے سے اظہار کیا ہے تو قاری کو یہ خوشگوار احساس ضرور ہو گا۔ اور اگر پرانے مضمون کو عامیانہ طریقے سے ہی بیان کیا ہے تو شعر قاری کو متاثر نہیں کر سکے گا۔
دو لخت
اگر شعر کے ایک مصرعے میں الگ مضمون ہو اور دوسرے مصرعے میں الگ مضمون ہو تو یہ عیب گردانا جائے گا۔ اور اس عیب کو "شعر کا دو لخت ہونا" یا "مصرعوں میں ربط کا نہ ہونا" کہا جاتا ہے۔
اس لیے دونوں مصرعوں کا باہم اس طرح مربوط ہونا ضروری ہے کے ایک مصرعے کا سمجھنا دوسرے پر موقوف ہو۔
نوٹ: غزل کے سوا حمد، نعت، منقبت یا نظم وغیرہ کے اشعار میں ایسا ربط ضروری نہیں ہوتا۔
اظہار یا ابلاغ کی کمزوری
اور اگر شاعر کسی شعر میں مضمون کو پوری طرح واضح نہ کر پائے تو اسے اظہار کی کمزوری کہتے ہیں۔ مشق کے دوران خیال کو موزوں کرتے ہوئے بہت سے الفاظ مصرعے میں شامل کیے اور نکالے جاتے ہیں۔
حتمی شکل دینے کے بعد جو الفاظ شعر میں رہ جاتے ہیں ان پر غور و فکر کرنے کے بعد اس بات کی تصدیق کرنی چاہیے کہ اب مطلوبہ مفہوم اس شعر سے برآمد ہو رہا ہے یا نہیں۔ بعض اوقات ہم مشق کے دوران میں کچھ اہم الفاظ کو (وزن درست کرنے کی غرض سے) دیگر الفاظ سے تبدیل کر دیتے ہیں۔ لیکن چونکہ مضمون ہمارے ذہن میں موجود ہوتا ہے اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ باقی رہ جانے والے الفاظ سے مضمون کا درست اظہار ہو رہا ہے۔ جب کہ حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا ایسی صورت حال کو "مضمون کا کچھ حصہ شاعر کے ذہن میں رہ جانا" کہتے ہیں۔
اگر کوئی مضمون زیادہ طویل ہو اور ایک شعر میں نہ سما سکتا ہو تو اسے دو یا دو سے زیادہ اشعار کا قطع بنا کر پیش کرنا چاہیے۔
غزل کا پہلا شعر جس کے دونوں مصرعوں میں قافیہ اور ردیف لائے گئے ہوں غزل کا مطلع کہلاتا ہے مطلع غزل کی بحر قافیہ اور ردیف کا اعلان ہوتا ہے یعنی مطلعے میں شاعر بتاتا ہے کہ اس کلام میں سارے اشعار اس بحر میں کہے گئے ہیں اور اس قافیے اور ردیف کی پابندی کی گئی ہے۔
ضروری نہیں کہ سب سے پہلے مطلع کہا جائے۔
بہرحال شاعر کو مطلعے پر سب سے زیادہ محنت کرنی چاہیے۔ ایک تو اس لئے کہ مطلعے کے دونوں مصرعوں میں قافیہ اور ردیف ہوتے ہیں اور اگر قافیہ مشکل ہو یا ردیف ذرا پیچیدہ ہو تو ایک جاندار مطلع کہنا مشکل امر ہوتا ہے۔ (مضمون "منفرد ردیف کو نبھانے کے تقاضے" کا مطالعہ کر لیں۔)
دوسرا اس لیے کہ غزل پڑھنے والا مطلعے ہی سے غزل کے بارے میں ایک تاثر قائم کرتا ہے اس لیے مطلعے کو تمام اشعار سے بہتر ہونا چاہیے۔
اگر ایک غزل میں ایک سے زیادہ ایسے اشعار ہو جائیں جن کے دونوں مصرعوں میں قافیہ و ردیف ہوں تو ایسے اشعار کو مطعے کے فورا بعد لانا چاہیے غزل کے بیچ بیچ میں لانا مناسب نہیں ایسے شعر کو حسن مطلع کہتے ہیں۔
غزل کا آخری شعر جس میں شاعر اپنا تخلص شامل کرتا ہے اسے مقطع کہتے ہیں۔
غزل میں کم سے کم پانچ اشعار ہونے چاہیں، زیادہ سے زیادہ کوئی حد مقرر نہیں۔
اگرچہ غزل کا ہر شعر مضمون کے لحاظ سے مستقل ہوتا ہے۔ یعنی ہر شعر میں الگ مضمون بیان کیا جاتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود غزل کی مجموعی فضا ایک ہونی چاہیے۔ یعنی سنجیدہ شاعری کرتے ہوئے درمیان میں مزاحیہ اشعار نہیں لانے چاہیں۔ کیونکہ جب سنجیدہ اشعار پڑھتے ہوئے انسان پر سنجیدگی طاری ہوتی ہے تو مزاحیہ شعر اپنی داد وصول نہیں کر پاتا بلکہ بعض اوقات پہلا مزہ بھی خراب ہو جاتا ہے۔
اسی طرح عشقیہ غزل میں حمد، نعت اور منقبت وغیرہ کے اشعار شامل کرنا مناسب نہیں کیونکہ عشقیہ اشعار پڑھتے ہوئے قاری مختلف کیفیت میں ہوتا ہے اور حمدیہ، نعتیہ یا منقبت کا شعر آنے سے قاری کو اچانک احترام و عقیدت والی کیفیت میں منتقل ہونا پڑتا ہے۔
اگر غزل لکھتے ہوئے حمد یا نعت کا شعر ہو جائے تو اسے الگ لکھ لیں اور چند ایک مزید اشعار ملا کر حمد یا نعت مکمل کر لیں۔
اسی طرح لفظوں کا انتخاب کرتے ہوئے غزل کی لسانی فضا کا بھی لحاظ رکھنا چاہیے۔ جہاں تک ممکن ہو غیر زبان کا لفظ استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ غیر مانوس الفاظ اور تراکیب کے استعمال سے بچنا چاہیے۔ ایسے مشکل اور کم استعمال کیے جانے والے الفاظ کا استعمال بھی مناسب نہیں، جن کا معنی سمجھنے کے لیے ادبی ذوق رکھنے والے دوستوں کو بھی لغت کا سہارا لینا پڑے۔
میری پہلی مشق
میں نے اپنی پہلی مشق مفاعیلن پر کی تھی۔
کہا میں نے
سنا اس نے
رکو ٹھہرو
اسی طرح کے مصرعے بناتے بناتے سب سے پہلے یہ دو شعر کہے
کہا میں نے رکو ٹھہرو ابھی کچھ رات باقی ہے
گھٹا چھائی ہے نینوں پر ابھی برسات باقی ہے
لہو آلود خنجر کو وہ لہراتے ہوئے بولے
تھکے ہم وار کر کر کے ابھی کم ذات باقی ہے
ان اشعار میں مفاعیلن کو چار بار برتا گیا ہے یعنی ایک مصرعے کا وزن "مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن" ہے ہر مصرع ہجائے کوتاہ سے شروع ہو گا اور اس کے بعد تین ہجائے بلند ہوں گے اس کے بعد پھر ایک ہجائے کوتاہ اور تین ہجائے بلند، ایک مصرعے میں یہ عمل کُل چار دفعہ دہرایا جائے گا۔
علامتی شکل
اددداددداددداددد
اس بحر کا نام "ہزج مثمن سالم" ہے۔ ابتدائی طور پر غزل کے افاعیل کا علم ہو جائے تو کافی ہے نام یاد رکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
یہ ایک آسان بحر ہے۔ کوئی بھی مضمون آسانی سے اس میں سما سکتا ہے۔ نئے شاعر کو اپنی مشق کا آغاز اسی بحر سے کرنا چاہیے۔
شہزاد احمد کھرل
سبق سے متعلق ویڈیو لیکچر
https://youtu.be/eG2SrDtS08k
مشق
(الف)
اس وزن پر پانچ اشعار لکھ کر پیش کریں۔ قافیہ اور ردیف کا انتخاب خود کر لیں۔
"مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن"
(ب)
غالب کے ان اشعار میں اخفا الف کا قانون کن مقامات پر لاگو کیا گیا ہے نشاندہی کریں اور مقطعے کی تقطیع کریں۔
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
ہوئی اِس دور میں منسوب مجھ سے بادہ آشامی
پھر آیا وہ زمانہ جو جہاں میں جامِ جم نکلے
محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا
اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے
کہاں مے خانے کا دروازہ غالبؔ! اور کہاں واعظ
پر اتنا جانتے ہیں، کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے
مرزا اسد اللہ خان غالب
(ج)
اقبال کا یہ کلام کس بحر میں ہے؟
ان اشعار میں سے دس مشکل الفاظ کا انتخاب کریں اور لغت دیکھ کر ان کا معنی اور تقطیع لکھیں۔
متاعِ بے بہا ہے درد و سوزِ آرزو مندی
مقامِ بندگی دے کر نہ لوں شانِ خداوندی
ترے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا ، نہ وہ دنیا
یہاں مرنے کی پابندی ، وہاں جینے کی پابندی
حجاب اکسیر ہے آوارۂ کوئے محبت کو
مری آتش کو بھڑکاتی ہے تیری دیر پیوندی
گزر اوقات کر لیتا ہے یہ کوہ و بیاباں میں
کہ شاہیں کے لیے ذلت ہے کارِ آشیاں بندی
یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسمعیل کو آدابِ فرزندی
زیارت گاہِ اہلِ عزم و ہمت ہے لحد میری
کہ خاکِ راہ کو میں نے بتایا راز الوندی
مری مشاطگی کی کیا ضرورت حسنِ معنی کو
کہ فطرت خود بخود کرتی ہے لالے کی حنا بندی
علامہ محمد اقبال
۔ ۔ ۔ ۔ ۔
#ادبی_ذوق
#چھٹا_سبق
#شاعری_کے_اوزان_سیکھیں
#شہزاد_احمد_کھرل
#تیسرا_ساکن
#ہجائے_کوتاہ
#آسان_عروض
#دولخت
#اظہار_کی_کمزوری
#مشق_کرنے_کا_طریقہ
#adbizaoq
#poetry
#learning_poetry
#urdu_poetry
#shayri_k_aozan
#hijay_boland
#hijay_kotah
#do_lakht
#izhar_ki_kamzoori
#mashq_krny_ka_treeqa
No comments:
Post a Comment