Saturday, June 13, 2020

شاعری کے اوزان سیکھیں | آٹھواں سبق

آٹھواں سبق
نئی ترتیب کے مطابق

تقطیع کرنے کا طریقہ
الفاظ کی تقطیع کرنے کا طریقہ ہم پڑھ چکے ہیں۔ اب اشعار کی تقطیع کر کے اشعار کی بحر معلوم کرنے کا طریقہ جانتے ہیں۔
جس بحر پر ہم اچھی خاصی مشق کر چکے ہوں اس بحر پر لکھے گئے کلام کو پڑھتے ہوئے یا سنتے ہوئے اس کے ردھم سے پہچان سکتے ہیں کہ یہ کلام فلاں بحر پر ہے۔ لیکن ابتدا میں چونکہ تمام بحروں کے ارکان ازبر نہیں ہوتے اس لیے ہمیں کسی کلام کی بحر معلوم کرنے کے لیے باقاعدہ تقطیع کرنی پڑتی ہے۔
عام طور پر کسی کلام کی بحر محض ایک مصرعے سے نہیں پہچانی جا سکتی۔ جب کسی کلام کی بحر معلوم کرنی ہو تو کم از کم دو اشعار مدنظر رکھ کر اس کی بحر تک پہنچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ جیسا کہ گزشتہ اسباق میں بھی اسی بات پر زور دیا جاتا رہا ہے کہ لفظوں کی آوازوں پر غور کریں اور آوازوں سے ہجوں کو پہچاننے کی کوشش کریں۔ اسی طرح اشعار کی تقطیع کرتے ہوئے بھی اپنے اشعار میں آوازوں کے ذریعے ہجو کی پہچان کرنی ہے۔ اشعار دیکھیں۔

عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں
باعثِ ترک ملاقات بتاتے بھی نہیں

منتظر ہیں دمِ رخصت کہ یہ مرجائے تو جائیں
پھر یہ احسان کہ ہم چھوڑ کے جاتے بھی نہیں
داغ دہلوی

جو دو اشعار آپ نے تقطیع کے لیے منتخب کیے ہیں انہیں ردھم میں پڑھنے کی کوشش کریں۔ اگر آپ دونوں اشعار کے چاروں مصرعوں کو ایک ردھم میں پڑھنے میں کامیاب ہو گئے تو تقطیع بہت آسان ہو جائے گی۔
مصرع ردھم میں پڑھا گیا تو سمجھیں مصرعے میں موجود تمام ایک حرفی اور دو حرفی آوازوں کی تعداد اور ترتیب معلوم ہو گئی۔
سب سے پہلی چار آوازوں پر غور کریں اور ان چار آوازوں میں ایک حرفی آواز کی نشاندہی کے لیے "ا" اور دو حرفی آوازوں کی نشاندہی کے لیے "د" ترتیب سے لکھ لیں۔
پھر اگلی چار چار آوازوں پر غور کر کے انھیں علامتوں میں لکھتے جائیں اس طرح پورے مصرعے کی علامتی شکل آپ کے سامنے ہو گی۔
(نوٹ: جن ہجوں کے کوتاہ اور بلند باندھنے میں شاعر کو اختیار حاصل ہے ان کے کوتاہ یا بلند ہونے کا فیصلہ، ان کی آواز کے دورانیے سے کیا جائے گا اگر اس ہجے کو کھینچ کر لمبا پڑھا جا رہا ہے تو بلند ہے اسے "د" سے ظاہر کریں گے اور اگر مختصر پڑھا جا رہا ہے تو کوتاہ ہے اسے "ا" سے ظاہر کریں گے)
اب چاروں مصرعوں کو باری باری ردھم میں پڑھتے ہوئے اس بات کی تصدیق کر لیں کہ علامتی شکل درست لکھی گئی ہے اس کے بعد علامتی شکل کو افاعیل میں بدل لیں اگر افاعیل میں بدلنے میں دشواری پیش آئے تو بحروں کی فہرست کو سامنے رکھیں اور پہلی چار علامتوں کی بنیاد پر مطلوبہ بحر تلاش کر لیں۔

اور اگر آپ ان مصرعوں کو ایک ردھم میں پڑھنے میں کامیاب نہیں ہوئے تو پہلے مصرعے کی تقطیع اس طور پر کریں کہ ہجائے کوتاہ کی نشاندہی کے لیے "ا" لکھیں اور ہجائے بلند کی نشاندہی کے لئے "د" لکھیں اور جس ہجے کے بارے میں آپ یہ خیال کرتے ہیں کہ اس میں شاعر کو کوتاہ اور بلند باندھنے میں اختیار ہے اس کی نشاندہی "و" سے کریں۔ مصرعے کی ایک علامتی شکل حاصل ہو جائے گی اس علامتی مصرعے میں جہاں جہاں "و" ہے دوسرے تیسرے اور چوتھے مصرعے کی تقطیع کرتے ہوئے اسے "ا" یا "د" سے بدلیں۔ یعنی باقی مصرعوں کی تقطیع کرتے ہوئے کسی "و" کے مقابلے میں "ا" آ جائے تو اس "و" کو "ا" سے بدل لیں اور "د" آ جائے تو "د" سے۔ اس طرح ایک حتمی شکل سامنے آ جائے گی۔ جیسے

عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں
باعثِ ترک ملاقات بتاتے بھی نہیں

منتظر ہیں دمِ رخصت کہ یہ مرجائے تو جائیں
پھر یہ احسان کہ ہم چھوڑ کے جاتے بھی نہیں

پہلے مصرعے کی علامتی شکل اس طرح سے سامنے آئے گی۔
عذ۔ر۔آ۔نے۔میں۔بھی۔ہے۔او۔ر۔ب۔لا۔تے۔بھی ۔ن۔ہی
د ۔ ۔ا۔د۔و ۔و ۔ ۔و ۔ ۔و ۔  د ۔ا۔ ا۔۔د۔ و۔ ۔و ۔ ۔  ا۔ ۔د

اب ہمیں "و" کے بارے میں حتمی فیصلہ کرنا ہے کہ جہاں جہاں "و" آئی ہے شاعر نے اس ہجے کو بلند باندھا ہے یا کوتاہ؟
پہلی "و" جو کہ مصرعے کا چوتھا ہجا ہے(گن لیں کیا واقعی علامتی مصرعے میں چوتھے نمبر پر "و" ہے؟) دوسرے مصرعے میں آنے والا چوتھا ہجا "تر" یہ فیصلہ کر دے گا کہ اس "و" کی جگہ "د" آنا چاہیے کیونکہ "تر" کو ہجائے بلند ہی باندھا جا سکتا ہے۔ اگر شاعر پہلے مصرعے میں چوتھے نمبر پر آنے والے ہجے "نے" کے مقابلے میں دوسرے مصرعے میں "تر" لایا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ پہلے مصرعے میں "نے" کو بھی شاعر نے ہجائے بلند باندھا ہے۔ (نہیں سمجھے تو دوبارا پڑھیں)
اسی طرح  مصرعے کی علامتی شکل میں دوسری "و" جو کہ مصرعے کا پانچواں ہجا ہے اس کا فیصلہ چوتھے مصرعے کا پانچواں ہجا "ن" کر دے گا کہ اس "و" کی جگہ "ا" ہونا چاہیے کیونکہ اس مقابل آنے والا "ن" حتمی طور پر ہجائے کوتاہ ہے(مصرعوں میں دیکھ کر تصدیق کر لیں کس ن کی اور کس و کی بات ہو رہی ہے) اسی طرح علامتی شکل میں موجود تمام "و" کو "ا" یا "د" سے بدل لیں اس طرح ایک حتمی شکل سامنے آ جائے گی تو پھر اسے افاعیل میں بدل دیں گے تو بحر حاصل ہو جائے گی۔
حتمی شکل یہ حاصل ہو گی۔
د ۔ ا۔ د ۔ د۔ ا۔ ا ۔ د ۔ د ۔ ا۔ ا۔ د ۔ د ۔ ا ۔ا ۔ د
فاعلاتن فعِلاتن فعِلاتن فعِلن
چاروں مصرعے پڑھ کر تصدیق کر لیں۔

عیب تنافر
 اگر مصرعے میں ایک لفظ جس حرف پر ختم ہو رہا ہے اس سے اگلا لفظ اسی حرف سے شروع ہو رہا ہو اور اس مقام پر پڑھتے ہوئے زبان اٹکے تو اسے عیب تنافر کہتے ہیں۔ جیسے
آپ بن میرا رہنا ممکن نہیں
اس مصرعے میں تین جگہ پر عیبِ تنافر ہے اور یہ عیب تنافر کی مختلف صورتیں ہیں۔
پہلی صورت جب جمع ہونے والے دونوں حرف متحرک ہوں جیسے اس مصرعے میں "میرا رہنا" وزن پورا کرنے کے لیے میرا کا الف گرایا گیا ہے اور یہاں "رَ" متحرک بچ گئی ہے۔ اور اس سے اگلا لفظ "رہنا" بھی "ر" متحرک سے شروع ہو رہا ہے۔ ایسی صورت میں جب جمع ہونے والے دونوں حروف متحرک ہوں تو عام طور پر پڑھنے میں دشواری نہیں ہوتی اس لیے عیب تنافر کا امکان کم ہوتا ہے۔
دوسری صورت یہ ہے کہ پہلا حرف ساکن ہو اور کسی ہجائے بلند کا حصہ ہو جیسے مزکورہ مصرعے میں "ممکن نہیں" میں "ممکن" کا ن ساکن ہے اور ہجائے بلند کا حصہ ہے جبکہ "نہیں" کا "ن" متحرک ہے اس صورت میں عیب تنافر کا احتمال ہو سکتا ہے۔ پڑھتے ہوئے اس مقام پر غور کریں اگر پڑھتے ہوئے یہ مقام زبان پر گراں گزرے یا سنتے ہوئے دونوں لفظوں کو الگ الگ پہچاننا مشکل ہو رہا ہو تو عیبِ تنافر ہے ورنہ نہیں ہے۔
تیسری صورت جب پہلا حرف ساکن ہو اور کسی ہجائے بلند کا حصہ نہ ہو۔ اس صورت میں عیب تنافر موجود ہوتا ہے۔ جیسے مزکورہ مصرعے میں "آپ بن" یہاں پ اور ب قریب المخرج ہیں یعنی منہ کے تقریباً ایک ہی مقام سے ادا ہوتی ہیں یہ دونوں مصرعے میں ایک جگہ پر جمع ہو گئی ہیں۔ اور پہلا حرف "پ" ساکن ہونے کے ساتھ ساتھ کسی ہجائے بلند کا حصہ بھی نہیں ہے ایسی صورت میں اگر "پ" کو پورا ادا کریں تو ہلکا سا سکتہ اختیار کرنا پڑتا ہے اور اگر روانی سے پڑھیں تو "پ" اگلے حرف "ب" میں مدغم ہو جاتی ہے اگر ایسے مقام پر "سکتہ" کی ضرورت موجود ہو تو کاما لگا کر اس عیب سے بچا جا سکتا ہے۔
ایک اور مثال
عشق کی میں داد دیتا ہوں
مصرعے میں دو مقامات پر عیبِ تنافر ہے۔

شتر گربہ
شتر اونٹ کو کہتے ہیں اور گربہ بلی کو۔
شتر گربہ کا مطلب یہ ہے کہ ایک ہی شعر میں کسی ایک کردار کے لیے محترم اور غیر محترم ہونے یا واحد اور جمع ہونے کے لحاظ سے مختلف الفاظ لائے گئے ہوں۔
 یعنی ایک شعر میں آپ اپنے لئے ایک دفعہ "میں" اور دوسری دفعہ ہم کا لفظ استعمال کریں۔
یا کسی شخص کے لئے ایک دفعہ "آپ" اور دوسری دفعہ تم یا تو کا لفظ استعمال کریں۔
یا کسی واحد کے لیے ہیں، تھے وغیرہ کا لفظ لے آتے ہیں جو کہ جمع کے لیے ہونا چاہیے یا جمع کے لئے ہے، تھا وغیرہ لے آتے ہیں جو کہ واحد کے لیے آنا چاہئے ایسا عمل شتر گربہ کہلائے گا۔ جیسے
آپ آئے تو جی اٹھا ہوں میں
اب ہمیں چھوڑ کر نہ جانا تم
پہلے مصرعے میں آپ دوسرے میں تم
پہلے مصرعے میں "میں" دوسرے میں "ہمیں"

رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
فاعلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن
اس بحر کے پہلے ہجائے بلند کو ہجائے کوتاہ بھی باندھا جا سکتا ہے یعنی "فاعلاتن" کو "فَعِلاتن" بھی کیا جا سکتا ہے اور آخری رکن فعْلن کو "فَعِلن" بھی کیا جا سکتا ہے اس طرح کل چار صورتیں حاصل ہوتی ہے۔

فاعلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن
فَعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن
فاعلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فَعِلن
فَعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فَعِلن
اور یہ چاروں صورتیں کسی ایک کلام میں جمع کی جا سکتی ہیں۔ یعنی ایک کلام کا کوئی بھی مصرع ان چاروں میں سے کسی وزن پر بھی باندھا جا سکتا ہے۔
اس کے علاوہ بتایا گیا ہے کہ کسی بھی مصرعے کے آخر میں ایک حرف ساکن کا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
۔    ۔ ۔ ۔

Wednesday, May 27, 2020

ساتواں سبق شاعری کے اوزان سیکھیں

ساتواں سبق

ایک سہولت
کسی بھی بحر پر مشق کرتے ہوئے ایک کلام کے کسی بھی مصرعے کے آخر میں ایک حرف ساکن(یا ہجائے کوتاہ) کا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
جیسے
حزر اے دل کہ اس جہاں کا فریب
بحر: فاعلاتن مفاعلن فعِلن
تقطیع کر کے دیکھیں۔
حز۔ ر ۔اے۔ دل۔ کِ۔ اس ۔جَ۔ ہاں۔ کَ۔ ف۔ رے۔ب
فا۔ ع ِ۔ لا ۔ تن ۔ م ۔ فا ۔ ع ۔ لن ۔ فَ۔ عِ ۔ لن۔
اگر آپ تقطیع پر غور کریں تو حرف "ب" بحر سے باہر ہے بحر لفظ فریب کے "فرے" تک پوری ہوگئی ایسا ایک حرف ساکن کا اضافہ بلا تردد جائز ہے۔

دوسری صورت یہ ہے کہ آخر میں ایک ایسا ہجائے کوتاہ زائد ہو جسے حرف علت کو گرا کر ہجائے کوتاہ بنایا گیا ہو جیسے
اپنے بسمل کو روز ڈھونڈنا تیرا
تقطیع کریں
اپ۔نِ۔ بس۔مل۔کُ۔رو۔ ز۔ ڈھو۔ ڈ ۔ نَ ۔تے۔را
فا۔ ع ۔ لا ۔ تن ۔ م ۔ فا ۔عِ ۔ لن ۔ فَ۔ عِ ۔لن

تقطیع پر غور کریں تو تیرا کی "را" بحر سے زائد ہے اور اس کے آخر سے الف گرا کر اسے ہجائے کوتاہ بنایا جا سکتا ہے یعنی تےرَ، ایسی صورت میں جو اضافہ کیا گیا ہے وہ حرف ساکن نہیں لیکن ہجائے کوتاہ ہے۔
اس طرح متحرک حرف بحر پر زاید لانا درست نہیں۔ البتہ ہمزہ متحرک بحر پر زاید لانے کی کچھ مثالیں ملتی ہیں۔ ہمزہ متحرک زاید لانے کی مثال دیکھیں۔

سر کھجاتا ہے جہاں زخمِ سر اچھا ہو جائے
لذّتِ سنگ بہ اندازۂ تقریر نہیں
غالب

تیسری صورت
مست نظروں سے مجھ کو دیکھنا ان کا
تقطیع کریں
مس۔ت۔نظ۔رو۔سِ۔ مج۔کُ۔دے۔ک۔نَ۔ان۔کا
فا ۔ عِ ۔ لا ۔ تن ۔م ۔ فا ۔عِ ۔ لن ۔فَ۔عِ۔لن
اس صورت میں لفظ "کا" بحر پر زائد ہے۔ اس کی الف گرا کر اسے ہجائے کوتاہ بنایا جا سکتا ہے لیکن پہلی دو صورتوں کے برعکس لفظ "کا" کسی ایسے لفظ کا جُز نہیں ہے جس کا اکثر حصہ بحر میں سما گیا ہو اور صرف ایک حرف زائد بچا ہو بلکہ "کا" ایک مستقل لفظ ہے ایسا اضافہ درست نہیں۔

شعر جتنا نثر کے قریب ہو بہتر ہے۔
جملوں میں الفاظ کی درست ترتیب وہی ہوتی ہے جو نحوی اعتبار سے درست ہو۔ جس ترتیب کا لحاظ معیاری نثر میں رکھا جاتا ہے۔ لیکن اشعار میں چونکہ وزن کا لحاظ رکھنا پڑتا ہے اور ہجائے کوتاہ اور ہجائے بلند کو ایک خاص ترتیب سے لانا ضروری ہوتا ہے اس وجہ سے شعر میں نثری ترتیب کی پابندی کرنا ایک مشکل امر ہوتا ہے۔ اس لیے نثر کے مقابلے میں شعر کے مصرعوں میں نحوی قواعد کی پابندی ایسی ضروری نہیں ہوتی۔ بلکہ شعری ضرورت کے تحت الفاظ کو نثری ترتیب سے ہٹانے کی اجازت ہوتی ہے۔ البتہ جہاں تک ممکن ہو شعر میں الفاظ کی ترتیب نثری ترتیب کے قریب تر ہو اور ضرورت کے وقت ترتیب میں جو ردوبدل کریں وہ ردوبدل ایسی نہ ہو کہ اس سے شعر کا مفہوم سمجھنا مشکل ہو جائے۔ ورنہ شعر معیوب ہو جائے گا۔
ایک بات یہ بھی یاد رکھنی چاہیے کہ اگر مصرع نثری ترتیب کے عین مطابق ہوتے ہوئے وزن میں ہو تو اسے شعر کا مصرع باور کرانے کے لئے نرسری ترتیب سے ہٹا کر لکھنا ضروری نہیں ہے۔ بلکہ اس کا وزن میں ہونا ہی شعر کا مصرع ہونے کی دلیل ہے۔ مصرعوں کا نثری ترتیب کے قریب تر ہونا شعر کی ایک اضافی خوبی ہے بشرطیکہ اس کوشش میں کسی دوسری خوبی سے ہاتھ دھونے نہ پڑے ہوں۔

تعقید لفظی
مصرعوں میں الفاظ کی نشست نثری ترتیب سے ایسی ہٹی ہوئی ہو کہ شعر کا مفہوم سمجھنا مشکل ہو جائے اسے تعقید لفظی کہتے ہیں
جیسے "نینوں پر گھٹا چھائی ہے برسات ابھی باقی ہے" کو شعری ضرورت کے تحت ہم نے یوں کر لیا
"گھٹا چھائی ہے نینوں پر، ابھی برسات باقی ہے" یہاں مفہوم بھی سمجھ آ رہا ہے اور مصرع بھی وزن میں ہو گیا ہے لیکن اگر ہم اسے نثری ترتیب سے زیادہ دور لے جائیں اور یوں کہیں
"ابھی برسات نینوں پر گھٹا چھائی ہے باقی ہے"
مصرع اب بھی وزن میں ہے لیکن اس کا مفہوم سمجھنا مشکل ہو گیا ہے یہ پتا نہیں چل رہا کہ نینوں پر برسات ہو رہی ہے یا گھٹا چھائی ہے اور "باقی ہے" کا تعلق برسات کے ساتھ ہے یا گھٹا چھانے کے ساتھ ہے الفاظ کی ایسی ردوبدل تعقید لفظی کہلاتی ہے۔ الفاظ کی ترتیب کو بہتر کر کے اس تعقید کو دور کیا جا سکتا ہے۔

تعقید معنوی
تعقید معنوی کی صورت میں بھی شعر کے مفہوم کو سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے لیکن یہاں الفاظ کی ترتیب بدل کر بھی معنے تک نہیں پہنچا جا سکتا کیوں کہ یہاں شاعر نے الفاظ کی ترتیب سے نہیں بلکہ الفاظ کا چناؤ کرتے ہوئے شعر کو مشکل اور ناموافق الفاظ کے ساتھ ایسا پیچیدہ کر دیا ہوتا ہے کہ اس کے مفہوم تک پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے۔

رموزِ اوقاف
رموزِ اوقاف کے استعمال کرنے کا رواج ہمارے نئے نثر نگاروں میں بھی نہیں ہے اور شاعر احباب تو بالکل بھی رموزِ اوقاف استعمال کرنے کا تکلف نہیں کرتے۔ رموز اوقاف کا استعمال ابلاغ میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اس لیے اس کی عادت اپنانی چاہیے۔
شاعری میں عام طور پر جو رموزِ اوقاف استعمال ہوتے ہیں۔

خطابیہ (!)
جب آپ کسی کو مخاطب کرتے ہیں تو مخاطب کے لئے جو لفظ استعمال ہوتا ہے اس کے بعد خطابیہ کا نشان لگانا چاہیے۔ جیسے
کل کی اُتری نہیں ہے کم ظرفو!
کہہ رہے تھے "حضور! تھوڑی ہے"

سوالیہ نشان (؟)
جب شعر میں کسی چیز سے متعلق استفسار کیا جا رہا ہو تو سوالیہ نشان کا استعمال کرنا چاہیے اگر مصرعے میں حروف استفہام (کیا، کیوں، کب، کون وغیرہ) میں سے کوئی شامل ہو تو سمجھنا آسان ہوتا ہے لیکن بعض صورتوں میں ایسا نہیں ہوتا۔ جیسے

جو ترے ہجر سے نہیں گزرا
اس کو غم کا شعور تھوڑی ہے؟

خطابیہ کی مثال میں پیش کیے گئے شعر میں "تھوڑی ہے" کم ہے، کے معنی میں ہے جبکہ اس شعر میں "تھوڑی ہے" بطور استفہامِ انکاری لایا گیا ہے سوالیہ نشان اس بات کی طرف واضح اشارہ کر رہا ہے۔ اور اس نشان کا استعمال قاری کے سمجھنے میں معاون ہو گا۔

واوین (" ")
شعر میں کسی دوسری زبان کا ایسا لفظ جو اردو میں عام مستعمل نہ ہو، لانا ہو تو اسے واوین میں لکھنا چاہیے۔
جب کسی کے مصرعے پر گرہ لگائی جاتی ہے تو پرایا مصرع واوین میں لکھا جاتا ہے۔
یا کچھ ایسے الفاظ جن کے حوالے سے شاعر چاہتا ہو کہ پڑھنے والا ان پر خاص طور پر غور کرے جیسے
ایک بے مہر کسی طور ہمارا نہ ہوا
اور ہم "اپنا بنانے کا ہنر" بھول گئے

کاما یا سکتہ (،)

کاما یا سکتہ لگا کر بتایا جاتا ہے کہ پڑھنے والے کو یہاں پر زرا سا ٹھہر کر آگے پڑھنا چاہیے بعض اوقات کاما یہ بتانے کے لیے بھی لگایا جاتا ہے کہ کامے سے پہلے مذکور الفاظ کا تعلق، مصرعے کے پہلے حصے کے ساتھ ہے دوسرے کے ساتھ نہیں جیسے
گھٹا چھائی ہے نینوں پر، ابھی برسات باقی ہے
اس مصرعے کو اگر کوئی اس طرح پڑھے
گھٹا چھائی ہے۔
نینوں پر ابھی برسات باقی ہے۔
تو شاعر کا مقصود حاصل نہیں ہوتا مصرعے میں لگایا گیا کاما بتا رہا ہے کہ "نینوں پر" کا تعلق مصرعے کے پہلے حصے سے ہے۔

تخلص کی علامت، بُت( ؔ )
شاعر یہ نشان اپنے تخلص پر لگاتا ہے۔ بعض اوقات شاعر کا تخلص مصرعے میں حقیقی معنی کے ساتھ بھی درست بیٹھ رہا ہوتا ہے جو کہ شاعر کی مہارت ظاہر کرتا ہے۔ لیکن بعض اوقات تخلص محض بطور تخلص شامل کیا گیا ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں اگر اس پر بت کا نشان لگا ہو تو قاری کے لیے شعر سمجھنا آسان ہوتا ہے۔

بحر: رمل مثمن محذوف
فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
بحر کا نام رمل ہے اور لفظ "مثمن" ہر اس بحر کے نام میں لکھا جاتا ہے جو چار ارکان پر مشتمل ہو کیوں کہ ایک شعر کے دونوں مصرعوں میں کُل آٹھ رکن دہرائے جاتے ہیں اور مثمن کا معنی ہے "آٹھ والا/والی"
بحر کے نام میں "محذوف" اس لئے لکھا ہے کہ اس کا آخری رکن سالم نہیں ہے بلکہ اس سے ایک ہجائے بلند حذف کیا گیا ہے۔
شہزاد احمد کھرل

مشق

(الف)
شعر کے دو عیوب چھٹے سبق میں بتائے گئے تھے اور دو اس سبق میں بتائے گئے ہیں ان چار عیوب کو آپ اچھی طرح سے سمجھ گئے یا نہیں؟ ان چاروں کے نام اور صرف دو دو جملوں میں تعریف لکھیں۔
۔ ۔

(ب)
اس بحر پر پانچ اشعار لکھیں اشعار کسی بھی موضوع پر ہو سکتے ہیں۔
فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن

(ج)
درج ذیل اشعار میں سے ان مصرعوں کی نشاندہی کریں جن میں ایک حرف ساکن بحر پر زائد لایا گیا ہو۔
مقطعے میں رموزِ اوقاف لگائیں۔

گفتگو اچھی لگی ذوقِ نظر اچھا لگا
مدتوں کے بعد کوئی ہمسفر اچھا لگا

دل کا دکھ جانا تو دل کا مسئلہ ہے پر ہمیں
اُس کا ہنس دینا ہمارے حال پر اچھا لگا

ہر طرح کی بے سر و سامانیوں کے باوجود
آج وہ آیا تو مجھ کو اپنا گھر اچھا لگا

باغباں گلچیں کو چاہے جو کہے ہم کو تو پھول
شاخ سے بڑھ کر کفِ دلدار پر اچھا لگا

کون مقتل میں نہ پہنچا کون ظالم تھا جسے
تیغِ قاتل سے زیادہ اپنا سر اچھا لگا

ہم بھی قائل ہیں وفا میں استواری کے مگر
کوئی پوچھے کون کس کو عمر بھر اچھا لگا

اپنی اپنی چاہتیں ہیں لوگ اب جو بھی کہیں
اک پری پیکر کو اک آشفتہ سر اچھا لگا

میر کے مانند اکثر زیست کرتا تھا فراز
تھا تو وہ دیوانہ سا شاعر مگر اچھا لگا
احمد فراز
۔     ۔   ۔ ۔ ۔

Wednesday, May 6, 2020

میرا تعارف، میری کہانی

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

میری شاعری پڑھنے والے اور دیگر پوسٹوں میں دلچسپی رکھنے والے دوست، گاہے بگاہے ان باکس میں تعارف کے لیے تشریف لاتے رہتے ہیں خاص طور پر جب سے شاعری کا کورس کرا رہا ہوں تو ان سیکھنے والے دوستوں سے استاد شاگرد کا ایک پر خلوص تعلق بھی ہوتا ہے تو یہ سلسلہ بڑھ گیا ہے۔
اگرچہ ایک حادثے کے بعد مجھے اپنے بارے میں بتانے اور نئے دوست بنانے میں ہمیشہ ایک ججھک سی رہی ہے لیکن اب میں نے کوشش کرکے اپنے تعارف پر ایک ویڈیو بنا دی ہے جو دوست کسی بھی تعلق کی وجہ سے میرے بارے میں جاننا چاہتے ہیں یوٹیوب یا گوگل پر اردو میں یا انگریزی میں "شہزاد احمد کھرل" لکھ کر سرچ کریں
جس وڈیو پر یہ تصویر لگی ہو گی وہ دیکھ لیں۔


Tuesday, May 5, 2020

شاید، سو لفظی کہانی

سو لفظی کہانی 2

شاید

 "ماسی جیراں! یہ چاول چھت پر ڈال دو !
سوشل میڈیا پر کسی نے کیا خوب لکھا ہے کہ "جس موسم میں فصلیں کچی ہوتی ہیں پرندوں کو کھیتوں سے پیٹ بھر کر خوراک نہیں ملتی چھت پر کچھ ڈال دینا چاہئے آخر پرندوں کے بھی حقوق ہوتے ہیں "
.
"بیگم صاحبہ تھوڑے چاول میں بھی لے جاؤں؟ بچے بہت دنوں سے فرمائش کر رہے ہیں"
.
"تمہیں تو اپنی پڑی رہتی ہے اس مہینے تنخواہ ملے گی تو چاول خرید لینا"
.

"تو پھر باقی خرچے کیسے پورے ہوں گے؟" (ماسی جیراں بڑبڑائی)
"شاید ! ملازموں کے حقوق پر بھی کوئی لکھے اور شاید بیگم صاحبہ بھی پڑھ لیں"

شہزاد احمد کھرل
13مارچ 2018
#سو_لفظی_کہانی
#شاید
#کہانی_سو_لفظوں_کی

Sunday, May 3, 2020

چھٹا سبق، شاعری کے اوزان سیکھیں

چھٹا سبق

نظم کا ایک موضوع ہوتا ہے۔ جبکہ غزل کا کوئی موضوع نہیں ہوتا۔
غزل کے ہر شعر میں الگ اور مکمل مضمون ہوتا ہے۔
لہذا غزل کے شعر کے لئے جس مضمون کا انتخاب کیا جائے اس مضمون کو دو حصوں میں تقسیم کرنا چاہیے۔ (1)تمہید اور (2)متاثر کن، چونکا دینے والا حصہ
مضمون کا ایک حصہ(تمہید) پہلے  مصرعے میں اس طرح لایا جائے کہ اسے پڑھنے یا سننے والا ایک ابہام اور تشنگی محسوس کرے اور اس میں دوسرے مصرعے کا اشتیاق پیدا ہو۔
اور پھر مضمون کا اہم اور چونکا دینے والا حصہ دوسرے مصرعے میں پیش کیا جائے۔ جس سے پڑھنے والے یا سننے والے کی تشنگی ایک خوشگوار احساس کے ساتھ ختم ہو۔
یہ خوشگوار احساس شعر میں مذکور کسی چیز سے متعلق نیا علم حاصل ہونے یا معلوم شده علم کے، ایک نئی جہت سے معلوم ہونے کا ہو گا۔ اگر آپ شعر میں ایک نیا مضمون لائے ہیں یا استعمال شدہ مضمون کا منفرد طریقے سے اظہار کیا ہے تو قاری کو یہ خوشگوار احساس ضرور ہو گا۔ اور اگر پرانے مضمون کو عامیانہ طریقے سے ہی بیان کیا ہے تو شعر قاری کو متاثر نہیں کر سکے گا۔

دو لخت
اگر شعر کے ایک مصرعے میں الگ مضمون ہو اور دوسرے مصرعے میں الگ مضمون ہو تو یہ عیب گردانا جائے گا۔ اور اس عیب کو "شعر کا دو لخت ہونا" یا "مصرعوں میں ربط کا نہ ہونا" کہا جاتا ہے۔
اس لیے دونوں مصرعوں کا باہم اس طرح مربوط ہونا ضروری ہے کے ایک مصرعے کا سمجھنا دوسرے پر موقوف ہو۔
نوٹ: غزل کے سوا حمد، نعت، منقبت یا نظم وغیرہ کے اشعار میں ایسا ربط ضروری نہیں ہوتا۔

اظہار یا ابلاغ کی کمزوری
اور اگر شاعر کسی شعر میں مضمون کو پوری طرح واضح نہ کر پائے تو اسے اظہار کی کمزوری کہتے ہیں۔ مشق کے دوران خیال کو موزوں کرتے ہوئے بہت سے الفاظ مصرعے میں شامل کیے اور نکالے جاتے ہیں۔
حتمی شکل دینے کے بعد جو الفاظ شعر میں رہ جاتے ہیں ان پر غور و فکر کرنے کے بعد اس بات کی تصدیق کرنی چاہیے کہ اب مطلوبہ مفہوم اس شعر سے برآمد ہو رہا ہے یا نہیں۔ بعض اوقات ہم مشق کے دوران میں کچھ اہم الفاظ کو (وزن درست کرنے کی غرض سے) دیگر الفاظ سے تبدیل کر دیتے ہیں۔ لیکن چونکہ مضمون ہمارے ذہن میں موجود ہوتا ہے اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ باقی رہ جانے والے الفاظ سے مضمون کا درست اظہار ہو رہا ہے۔ جب کہ حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا ایسی صورت حال کو "مضمون کا کچھ حصہ شاعر کے ذہن میں رہ جانا" کہتے ہیں۔
اگر کوئی مضمون زیادہ طویل ہو اور ایک شعر میں نہ سما سکتا ہو تو اسے دو یا دو سے زیادہ اشعار کا قطع بنا کر پیش کرنا چاہیے۔

غزل کا پہلا شعر جس کے دونوں مصرعوں میں قافیہ اور ردیف لائے گئے ہوں غزل کا مطلع کہلاتا ہے مطلع غزل کی بحر قافیہ اور ردیف کا اعلان ہوتا ہے یعنی مطلعے میں شاعر بتاتا ہے کہ اس کلام میں سارے اشعار اس بحر میں کہے گئے ہیں اور اس قافیے اور ردیف کی پابندی کی گئی ہے۔
ضروری نہیں کہ سب سے پہلے مطلع کہا جائے۔
بہرحال شاعر کو مطلعے پر سب سے زیادہ محنت کرنی چاہیے۔ ایک تو اس لئے کہ مطلعے کے دونوں مصرعوں میں قافیہ اور ردیف ہوتے ہیں اور اگر قافیہ مشکل ہو یا ردیف ذرا پیچیدہ ہو تو ایک جاندار مطلع کہنا مشکل امر ہوتا ہے۔ (مضمون "منفرد ردیف کو نبھانے کے تقاضے" کا مطالعہ کر لیں۔)
دوسرا اس لیے کہ غزل پڑھنے والا مطلعے ہی سے غزل کے بارے میں ایک تاثر قائم کرتا ہے اس لیے مطلعے کو تمام اشعار سے بہتر ہونا چاہیے۔
اگر ایک غزل میں ایک سے زیادہ ایسے اشعار ہو جائیں جن کے دونوں مصرعوں میں قافیہ و ردیف ہوں تو ایسے اشعار کو مطعے کے فورا بعد لانا چاہیے غزل کے بیچ بیچ میں لانا مناسب نہیں ایسے شعر کو حسن مطلع کہتے ہیں۔
غزل کا آخری شعر جس میں شاعر اپنا تخلص شامل کرتا ہے اسے مقطع کہتے ہیں۔
غزل میں کم سے کم پانچ اشعار ہونے چاہیں، زیادہ سے زیادہ کوئی حد مقرر نہیں۔

اگرچہ غزل کا ہر شعر مضمون کے لحاظ سے مستقل ہوتا ہے۔ یعنی ہر شعر میں الگ مضمون بیان کیا جاتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود غزل کی مجموعی فضا ایک ہونی چاہیے۔ یعنی سنجیدہ شاعری کرتے ہوئے درمیان میں مزاحیہ اشعار نہیں لانے چاہیں۔ کیونکہ جب سنجیدہ اشعار پڑھتے ہوئے انسان پر سنجیدگی طاری ہوتی ہے تو مزاحیہ شعر اپنی داد وصول نہیں کر پاتا بلکہ بعض اوقات پہلا مزہ بھی خراب ہو جاتا ہے۔
اسی طرح عشقیہ غزل میں حمد، نعت اور منقبت وغیرہ کے اشعار شامل کرنا مناسب نہیں کیونکہ عشقیہ اشعار پڑھتے ہوئے قاری مختلف کیفیت میں ہوتا ہے اور حمدیہ، نعتیہ یا منقبت کا شعر آنے سے قاری کو اچانک احترام و عقیدت والی کیفیت میں منتقل ہونا پڑتا ہے۔
اگر غزل لکھتے ہوئے حمد یا نعت کا شعر ہو جائے تو اسے الگ لکھ لیں اور چند ایک مزید اشعار ملا کر حمد یا نعت مکمل کر لیں۔
اسی طرح لفظوں کا انتخاب کرتے ہوئے غزل کی لسانی فضا کا بھی لحاظ رکھنا چاہیے۔ جہاں تک ممکن ہو غیر زبان کا لفظ استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ غیر مانوس الفاظ اور تراکیب کے استعمال سے بچنا چاہیے۔ ایسے مشکل اور کم استعمال کیے جانے والے الفاظ کا استعمال بھی مناسب نہیں، جن کا معنی سمجھنے کے لیے ادبی ذوق رکھنے والے دوستوں کو بھی لغت کا سہارا لینا پڑے۔

میری پہلی مشق
میں نے اپنی پہلی مشق مفاعیلن پر کی تھی۔
 کہا میں نے
سنا اس نے
رکو ٹھہرو
اسی طرح کے مصرعے بناتے بناتے سب سے پہلے یہ دو شعر کہے

کہا میں نے رکو ٹھہرو ابھی کچھ رات باقی ہے
گھٹا چھائی ہے نینوں پر ابھی برسات باقی ہے

لہو آلود خنجر کو وہ لہراتے ہوئے بولے
تھکے ہم وار کر کر کے ابھی کم ذات باقی ہے

 ان اشعار میں مفاعیلن کو چار بار برتا گیا ہے یعنی ایک مصرعے کا وزن "مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن" ہے  ہر مصرع ہجائے کوتاہ سے شروع ہو گا اور اس کے بعد تین ہجائے بلند ہوں گے اس کے بعد پھر ایک ہجائے کوتاہ اور تین ہجائے بلند، ایک مصرعے میں یہ عمل کُل چار دفعہ دہرایا جائے گا۔
علامتی شکل
اددداددداددداددد
اس بحر کا نام "ہزج مثمن سالم" ہے۔ ابتدائی طور پر غزل کے افاعیل کا علم ہو جائے تو کافی ہے نام یاد رکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
یہ ایک آسان بحر ہے۔ کوئی بھی مضمون آسانی سے اس میں سما سکتا ہے۔ نئے شاعر کو اپنی مشق کا آغاز اسی بحر سے کرنا چاہیے۔
شہزاد احمد کھرل

سبق سے متعلق ویڈیو لیکچر
https://youtu.be/eG2SrDtS08k
مشق

(الف)
اس وزن پر پانچ اشعار لکھ کر پیش کریں۔ قافیہ اور ردیف کا انتخاب خود کر لیں۔
"مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن"

(ب)
غالب کے ان اشعار میں اخفا الف کا قانون کن مقامات پر لاگو کیا گیا ہے نشاندہی کریں اور مقطعے کی تقطیع کریں۔


ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

ہوئی اِس دور میں منسوب مجھ سے بادہ آشامی
پھر آیا وہ زمانہ جو جہاں میں جامِ جم نکلے

محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا
اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے

کہاں مے خانے کا دروازہ غالبؔ! اور کہاں واعظ
پر اتنا جانتے ہیں، کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے
مرزا اسد اللہ خان غالب

(ج)
 اقبال کا یہ کلام کس بحر میں ہے؟
ان اشعار میں سے دس مشکل الفاظ کا انتخاب کریں اور لغت دیکھ کر ان کا معنی اور تقطیع لکھیں۔

متاعِ بے بہا ہے درد و سوزِ آرزو مندی​
مقامِ بندگی دے کر نہ لوں شانِ خداوندی​

​ترے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا ، نہ وہ دنیا​
یہاں مرنے کی پابندی ، وہاں جینے کی پابندی​ ​

حجاب اکسیر ہے آوارۂ کوئے محبت کو​
مری آتش کو بھڑکاتی ہے تیری دیر پیوندی​ ​

گزر اوقات کر لیتا ہے یہ کوہ و بیاباں میں​
کہ شاہیں کے لیے ذلت ہے کارِ آشیاں بندی​ ​

یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی​
سکھائے کس نے اسمعیل کو آدابِ فرزندی​ ​

زیارت گاہِ اہلِ عزم و ہمت ہے لحد میری​
کہ خاکِ راہ کو میں نے بتایا راز الوندی​ ​

مری مشاطگی کی کیا ضرورت حسنِ معنی کو​
کہ فطرت خود بخود کرتی ہے لالے کی حنا بندی​
علامہ محمد اقبال
۔ ۔ ۔ ۔ ۔
#ادبی_ذوق
#چھٹا_سبق

#شاعری_کے_اوزان_سیکھیں

#شہزاد_احمد_کھرل

#تیسرا_ساکن

#ہجائے_کوتاہ

#آسان_عروض

#دولخت
#اظہار_کی_کمزوری
#مشق_کرنے_کا_طریقہ


#adbizaoq

#poetry

#learning_poetry

#urdu_poetry

#shayri_k_aozan

#hijay_boland

#hijay_kotah

#do_lakht
#izhar_ki_kamzoori
#mashq_krny_ka_treeqa

Thursday, April 30, 2020

پانچواں سبق، شاعری کے اوزان سیکھیں

پانچواں سبق


گزشتہ اسباق ایک بار دہرا لیں اس سبق کے بعد آپ  ایک نظم لکھنے والے ہیں۔

بحر
بحر اس فرضی پیمانے کو کہتے ہیں جس پر ہم اپنی ایک کاوش کے تمام مصرعے لکھتے ہیں اور انہیں جانچتے ہیں۔ یہ فرضی پیمانہ مقرر کرتے ہوئے سُر اور ردھم کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ جن بحروں میں سر اور آہنگ نہیں ہوتا وہ متروک ہو جاتی ہیں۔ کیونکہ وزن کا مقصد مصرعے میں آہنگ پیدا کرنا ہوتا ہے۔ اگر مصرع سر، ردھم یا ترنم میں نہ پڑھا جا سکے تو وہ شعر ہونے کے باوجود نثر جیسا ہوتا ہے۔ متروک بحروں کو غیر مستعمل بحریں کہتے ہیں۔

 بنیادی ارکان یا افاعیل کی تعداد آٹھ ہے۔ تمام بحریں انہی بنیادی افاعیل سے بنائی گئی ہیں۔ افاعیل یہ ہیں۔
فَاعِلاتُن، فاعِلُن، مَفاعِیلُن، مُستَفعِلُن، فَعُولُن، مُتَفاعِلُن، مَفاعِلَتُن، مَفعُولات
نوٹ: بحروں کی بناوٹ اور زحافات سے متعلق بحث سے شاعر کا کوئی تعلق نہیں۔ یہ عروضیوں کا کام ہے۔ شاعر کو بس اتنا علم ہونا چاہیے کہ کسی بحر میں اسے شعر کہنے کے لیے کون سی سہولتیں دستیاب ہیں۔
پانچ مشہور بحریں؛
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
فعولن فعولن فعولن فعولن
فاعلاتن فعِلاتن فعِلاتن فعلن
فاعلاتن مفاعلن فعلن

قافیه
کسی غزل وغیرہ کے ہر شعر کے دوسرے مصرعے میں تقریبا آخر میں آنے والے ہم آواز الفاظ کو قافیے کہتے ہیں۔
قافیوں میں آنے والا ایسا حرف جو خود تو ہر قافیے میں بار بار آ رہا ہو لیکن اس سے پہلا حرف مختلف قافیوں میں مختلف آ رہا ہو ایسے حرف کو "حرفِ روی" کہتے ہیں جیسے یار کار دار بار کے آخر میں "ر" بار بار آ رہی ہے لیکن اس سے پہلا حرف الف بھی تو ہر ایک میں آ رہا ہے۔ اس لیے "ر" حرف روی نہیں بلکہ الف جو کہ خود تو ہر قافیے میں بار بار آ رہا ہے لیکن اس سے پہلا حرف مختلف قافیوں میں مختلف آ رہا ہے۔ اس لیے الف کو حرف روی یا "حرف قافیہ" کہیں گے۔

قافیے کے قوانین:
اگر حرفِ روی ساکن ہو تو اس سے پہلے حرف کی حرکت ہر قافیے میں ایک سی ہونی چاہئے یعنی اگر ہم نے ایسا قافیہ اختیار کیا ہے جس میں حرفِ روی ساکن ہے اور اس سے پہلے حرف پر زبر ہے تو ہم اس کے ساتھ ایسے الفاظ کو قافیہ نہیں لا سکتے جن میں حرف روی ساکن ہو اور اس سے پہلے والے حرف پر پیش یا زیر ہو۔
یعنی جَبْر صبر اور قَبْر کے ساتھ کِبر وغیرہ قافیے نہیں لائے جا سکتے اسی طرح ہیر کھیر چیر وغیرہ کے ساتھ سیر، خیر وغیرہ قافیے نہیں آ سکتے۔
یوں بھی سمجھ لیں کہ اگر حرف روی واؤ معروف یا یائے معروف ہو تو اس کے ساتھ واؤ اور یائے مجہول یا واؤ اور یائے لین رکھنے والے الفاظ قافیے نہیں آ سکتے جیسے چِیل نِیل اور کِیل کے ساتھ بیل ذیل ریل پھیل وغیرہ قافیے نہیں آ سکتے۔
نوٹ: روایتی علمِ عروض میں قافیہ ایک پیچیدہ اور تفصیل طلب موضوع ہے۔ حرفِ روی کو پہچاننے کے لیے بہت سی اصطلاحات کا جاننا ضروری قرار دیا جاتا ہے۔ بہرحال میں نے نئے دوستوں کے لیے حرفِ روی کی پہچان اور قافیے کے قواعد کو بہت آسان کر کے پیش کیا ہے البتہ کوئی اس سے اختلاف کرنا چاہے تو اس کا حق بنتا ہے۔

ردیف
وہ الفاظ جو قافیہ کے بعد اشعار میں بار بار دہرائے جاتے ہیں ردیف کہلاتے ہیں۔
ردیف کے الفاظ میں پائے جانے والے واؤ اور یائے معروف کو واؤ اور یائے مجہول یا لین کے ساتھ نہیں بدلا جا سکتا۔ جیسے

تم جس کو کل میں ڈھونڈتے تھے وہ آج "میں" تھا
تم جس کے پاؤں کی جوتی تھے اس کا تاج "میں" تھا

شعر صرف مثال کے لیے گھڑا ہے۔
پہلے مصرعے کی ردیف میں "میں" ظرفیہ ہے اور اس میں یاۓ مجہول ہے جبکہ دوسرے مصرعے کی ردیف میں "مَیں" برائے متکلم ہے جس میں ی یائے لین ہے۔ اس لئے اس شعر میں ردیف کی غلطی ہے۔

نظم کی اقسام

پابند نظم
ایسی نظم جو پوری نظم ایک بحر میں کہی گئی ہو اور اس میں قافیے اور ردیف کی پابندی بھی کی گئی ہو۔
چند مشہور نظمیں
علامہ محمد اقبال کی مکڑی اور مکھی، پرندہ اور جگنو، ماں کا خواب،لا الہ الا اللہ
الطاف حسین حالی کی مٹی کا دیا، مناجات بیوہ
نظیر اکبرآبادی کی آدمی نامہ، روٹیاں

نظم مُعَرّٰی
ایسی نظم جس میں بحر کی پابندی کی گئی ہو یعنی تمام مصرعے ایک ہی بحر میں ہوں لیکن قافیہ و ردیف کی پابندی نہ کی گئی ہو۔ البتہ کسی کسی شعر میں قافیہ ردیف لائے بھی جا سکتے ہیں۔
نظم معری کی مثال:

رات اک لڑکھڑاتے جھونکے سے

ناگہاں سنگ سرخ کی سل پر

آئینہ گر کے پاش پاش ہوا

اور ننھی نکیلی کرچوں کی

ایک بوجھاڑ دل کو چیر گئی
شکیب جلالی

وزن : فاعلاتن مفاعلن فعلن
اس بحر میں پہلے ہجائے بلند کے مقابل ہجائے کوتاہ کو بھی لایا جا سکتا ہے اور آخری "فِعْلن" کو فَعِلُن بھی باندھا جا سکتا ہے( تفصیلات آئندہ)

آزاد نظم
ایسی نظم جس میں بحر کی پابندی نہ ہو۔ البتہ رکن کی پابندی کی گئی ہو۔ یعنی رکن کی پابندی ہو لیکن تمام مصرعوں میں ارکان کی تعداد ایک جتنی نہ ہو بلکہ جس رکن کا انتخاب کیا گیا ہے وہ کسی مصرعے میں ایک بار کسی میں دو بار کسی میں تین بار اور کسی میں اس سے بھی زیادہ بار لایا گیا ہو۔ مصرعے میں ارکان کی تعداد کی حد مقرر نہیں۔ اس میں قافیہ اور ردیف کی پابندی نہیں ہوتی لیکن لایا بھی جا سکتا ہے۔

موم کی طرح جلتے رہے ہم شہیدوں کے تن
رات بھر جھلملاتی رہی شمع صبح وطن
رات بھر یوں چمکتا رہا چاند تاروں کا بن
تشنگی میں بھی سرشار تھے
پیاسی آنکھوں کے خالی کٹورے لئے
منتظر مرد و زن
(مخدوم محی الدین )
مزکورہ بالا آزاد نظم میں "فاعلن" کی پابندی کی گئی ہے اور پہلے تین مصرعوں میں پانچ بار اور چوتھے مصرعے میں تین بار اور پانچویں مصرعے میں چار بار اور  آخری مصرعے میں دوبار "فاعلن" لایا گیا ہے۔
۔ ۔ ۔

نثری نظم

ایسی نظم جس میں وزن کی یا رکن کی بالکل پابندی نہ کی جائے اسے "نثری نظم" کہتے ہیں۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ اسے نثری نظم نہیں بلکہ نظمی نثر کہنا چاہیے کیونکہ یہ حقیقت میں نثر ہے نظم نہیں۔ بہرحال مثال دیکھیں۔

کبوتر بھی
آسمان میں منڈلاتے ہوئے
گہرے سرخ بادلوں کو دیکھ کر
اپنے پر باندھ لیتے ہیں
اور کابک میں بیٹھے ہوئے
غٹرغوں ، غٹرغوں …
خیر جانے دو
تم بھی عجیب پرندے ہو
کسی بھی موسم میں
پانی پر
اپنے پر مارنے سے باز نہیں آتے
(پروفیسر غیاث متین)

نوٹ: نظم چاہے مذکورہ بالا اقسام میں سے کسی بھی قسم سے تعلق رکھتی ہو نظم میں موضوع یعنی مرکزی خیال ایک ہونا چاہیے اور بہتر ہے کہ یہ مرکزی نکتہ آخری سطور میں ذکر کیا جائے۔ موضوع کوئی بھی ہو سکتا ہے چاند، تارے، یار، سورج، پھول، شبنم، ہوا، خدا، پیغمبر، انسان، دیو، گھر، روٹی، نیند وغیرہ
شہزاد احمد کھرل
۔ ۔ ۔ ۔
سبق سے متعلق ویڈیو لیکچر
https://youtu.be/b0i_uz-QZkg

مشق

(الف)
فاعلن کی پابندی کرتے ہوئے ایک معری یا آزاد نظم لکھیں۔
سب سے پہلے مذکورہ بالا موضوعات میں سے یا اپنے پاس سے عمدہ موضوع کا انتخاب کریں۔ آپ اس موضوع سے متعلق کیا کہنا چاہتے ہیں یہ اچھی طرح سے ذہن میں پکا کر لیں۔ اس کے بعد آزاد نظم کی مثال میں جو نظم دی گئی ہے اسے پڑھتے رہیں اور جب ردھم بن جائے تو اپنی نظم لکھنا شروع کریں۔ نظم چند منٹوں میں ہو جاتی ہے لیکن اس کے موضوع اور مواد کا انتخاب کرنے میں کئی گھنٹے یا دن بھی لگ سکتے ہیں۔
اگر آپ فاعلن پر نظم نہیں لکھ پا رہے تو ان تین اوزان میں سے کسی پر لکھ لیں۔
فعولن
مفاعیلن
مفاعلاتن

(ب)
ان الفاظ کے دس دس یا جتنے آسانی سے ممکن ہوں قافیے لکھیں۔ دو دو قافیے میں نے لکھ دیے ہیں تاکہ آپ آسانی سے پہچان پائیں۔
آنگن، روشن،
دُور ، نور
جان، زبان
گول، ڈھول
الفت، محبت
غور، اَور

(ج)
اس نظم میں سے دس مشکل الفاظ کا انتخاب کر کے ان کے معنی لکھیں اور تقطیع کریں۔

چشمِ نم، جانِ شوریدہ کافی نہیں
تہمتِ عشق پوشیدہ کافی نہیں
آج بازار میں پا بہ جولاں چلو
دست اَفشاں چلو، مست و رقصاں چلو
خاک برسر چلو، خوں بہ داماں چلو
راہ تَکتا ہے سب شہرِ جاناں چلو
حاکمِ شہر بھی، مجمعِ عام بھی
تیرِ الزام بھی، سنگِ دشنام بھی
صبحِ ناشاد بھی، روزِ ناکام بھی
ان کا دم ساز اپنے سوا کون ہے؟
شہرِ جاناں میں اب باصفا کون ہے؟
دستِ قاتل کے شایاں رہا کون ہے؟
رختِ دل باندھ لو دل فگارو چلو
پھر ہمیں قتل ہو آئیں یارو چلو
فیض احمد فیض
بحر
متدارک مثمن سالم
فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن


#ادبی_ذوق
#پانچواں_سبق
#شاعری_کے_اوزان_سیکھیں
#شہزاد_احمد_کھرل
#تیسرا_ساکن
#ہجائے_کوتاہ
#آسان_عروض
#واؤ_معدولہ
#آزاد_نظم
#نظم_معری
#پابند_نظم
#نثری_نظم

#adbizaoq
#poetry
#learning_poetry
#urdu_poetry
#shayri_k_aozan
#hijay_boland
#hijay_kotah
#azad_nazm
#nazm e morra

Sunday, April 26, 2020

چوتھا سبق، شاعری کے اوزان سیکھیں

چوتھا سبق

فارسی زبان میں ترکیبِ اضافی، توصیفی اور عطفی بناتے ہوئے وزن پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟
نوٹ: فی الحال ہمیں صرف فارسی ترکیبوں سے مطلب ہے انہی کی بات کریں گے۔

ترکیب اضافی
دو چیزوں کے درمیان تعلق یا ملکیت ظاہر کرنے کے لیے ترکیب اضافی بنائی جاتی ہے۔ جیسے غمِ دنیا، چراغِ محفل، راحتِ جاں،

ترکیب توصیفی
کسی کا اچھا یا برا وصف بیان کرنے کے لیے بنائی جاتی ہے۔ جیسے  گنبدِ خضرا، دلِ بے رحم، لبِ شیریں،

ترکیبِ عطفی
کچھ چیزوں کو ایک حکم یا ایک خبر میں شامل کرنے کے لیے واؤ کے ذریعے جوڑا جاتا ہے۔ جیسے دل و جگر ، وہم و گمان، شب و روز
دل کے ل وہم کے م اور شب کی ب پر پیش پڑھیں گے۔

اہم قاعدہ
جب کوئی لفظ ایک ہجائے بلند پر مشتمل ہو (جیسے دل، غم، لب وغیرہ) یا کسی لفظ کا آخری ہجا، ہجائے بلند ہو (جیسے دھڑکن دلبر، شجر، وطن وغیرہ) تو ترکیب توصیفی یا اضافی بناتے ہوئے جب آخری حرف کے نیچے زیر آئےگی یا ترکیب عطفی بناتے ہوئے آخری حرف پر پیش آئے گی تو یہ ہجائے بلند دو حصوں میں تقسیم ہو جائے گا پہلا حرف ہجائے کوتاہ بن جائے گا اور دوسرا حرف(جس کے نیچے زیر یا اوپر پیش آئی ہے) کے بارے میں شاعر کو اختیار ہے کہ اسے ہجائے کوتاہ باندھے یا ہجائے بلند۔
اور جس ہجے کے بارے ميں شاعر کو کوتاہ اور بلند باندھنے میں اختیار ہو اسے ہم "و" سے ظاہر کریں گے۔
جیسے
غمِ دنیا = غَ ۔ مِ۔ دن۔ یا = ا و د د
دلِ بے رحم = دِ ۔ لِ ۔ بے۔ رح ۔ م = ا و د د ا
دل و جگر = دِ ۔ لُ ۔ ج ۔ گر = ا و ا د
۔ ۔ ۔ ۔

جب کسی لفظ کے آخر میں گول "ہ" ہو۔

اگر تو لفظ کے آخر میں آنے والی گول ہ کسی ہجائے بلند کا حصہ ہو تو ترکیبِ اضافی، توصیفی یا عطفی بناتے ہوئے وہ ہمزہ میں بدل جائے گی۔ اور اس صورت میں ہ لکھنے میں آئے گی لیکن شمار نہیں ہو گی اور وزن میں ویسی ہی تبدیلی رونما ہو گی جیسی اوپر ذکر کی گئی یعنی ہ سے پہلا حرف ہجائے کوتاہ میں بدل جائے گا اور ہ کی جگہ آنے والے ء کو کھینچ کر ہجائے بلند بھی کیا جا سکتا ہے اور مختصر پڑھ کر ہجائے کوتاہ بھی لایا جا سکتا ہے۔
جیسے
وعدہءِ فردا = وع۔ د ۔ ءِ ۔ فر۔ دا = د ا و د و
دیدہءِ تر = دی۔دَ ۔ءِ۔ تر = داود
دیدہ و دل = دی۔ د ۔ءُ ۔ دل = داود

اگر لفظ کے آخر میں آنے والی گول ہ کسی ہجے بلند کا حصہ نہ ہو تو وہ اپنی حالت میں موجود رہے گی البتہ اس کے ہجائے بلند یا ہجائے کوتاہ باندھنے میں شاعر کو اختیار حاصل ہو جائے گا۔
نگاہِ یار = ن۔گا۔ہِ۔یا۔ر= ادودا
سپاہِ پرجوش = س۔پا۔ ہِ۔ پر۔ جو۔ ش= ادوددا
اندوہ و غم = ان۔دو۔ہُ ۔ غم = ددود

اگر کسی لفظ کے آخر میں الف یا واؤ ہو تو اس کی ترکیب اضافی اور توصیفی بناتے وقت اس لفظ کے آخر میں "ئے" آئے گا لفظ کے آخر میں آنے والے الف کا وزن شمار ہو گا۔ البتہ واؤ ہونے کی صورت میں واو کو وزن میں شمار کرنے یا نہ کرنے میں شاعر کو اختیار ہو گا اور اسی طرح "ئے" کے بارے میں شاعر کو اختیار ہو گا کہ اسے ہجائے کوتاہ لائے یا ہجائے بلند۔
وفائے یار =و۔فا۔ئے۔یا۔ر = ادودا
ادائے دلکَش = ا۔دا۔ئے۔دل۔کش = ادودد
سوئے قوم = سو ۔ ئے ۔قو۔ م= وودا
روئے روشن = رو۔ ئے۔ رو۔ شن = وودد
مزکورہ بالا مثالوں کی تقطیع میں جہاں "و" لکھی گئی ہے اسے شاعر ضرورت کے وقت ہجائے بلند کے مقابل بھی لا سکتا ہے اور ہجائے کوتاہ کے مقابل بھی۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اخفاۓ الف

کسی مصرعے میں ایک لفظ کا آخری حرف، حرفِ صحیح ساکن ہو اور اس سے اگلے لفظ کا پہلا حرف الف متحرک ہو تو شعری ضرورت کے تحت الف متحرک کا اخفا کر کے اس کی حرکت اس سے پہلے والے حرف ساکن کو دے دی جاتی ہے اسے اخفائے الف کہتے ہیں۔ اس عمل سے الف کی آواز ساکت ہو جاتی ہے۔ جیسے "یار اپنا" یار کی ر حرفِ صحیح ساکن ہے اور اپنا کا پہلا الف متحرک ہے اس الف کی حرکت ر کو مل جائے گی۔
یار اپنا = یا۔ ر ۔اپ۔ نا = د ا د د
اخفائے الف کے بعد
یار اپنا = یا۔ رَپ۔ نا = د د د
آوازیں تین رہ گئیں 👆
اور
ظلم ایسا = ظل۔م۔اے۔سا = دادو
ایفائے الف کے بعد
ظلم ایسا = ظل ۔ مے ۔ سا = ددو

اخفائے الف کے ذریعے جو الف گرایا جاتا ہے وہ الف مصرعے میں لکھا ہوا موجود رہے گا لیکن آواز کھو دے گا۔

اخفاۓ غیر الف
اخفاۓ الف کے طریقے سے ع، ح، یا ہ کا اخفا کرنا عیب سمجھا جاتا ہے۔
جیسے "مفاعلن فعِلاتن مفاعلن فِعْلن" میں لکھے گئے درج ذیل شعر کے پہلے مصرعے میں اخفاۓ عین کیا گیا ہے۔

ہم عکس عکس بکھرتے رہے اسی دُھن میں
کہ زندگی میں کبھی لازوال تھے ہم بھی
پروین شاکر
۔ ۔ ۔

مشق کرنے کا طریقہ

وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
مرادیں غریبوں کی بر لانے والا

مفاسد کا زیر و زبر کرنے والا
قبائل کو شِیر و شکر کرنے والا

اتر کر حِرا سے سوئے قوم آیا
اور اک نسخہءِ کیمیا ساتھ لایا

مس خام کو جس نے کندن بنایا
کھرا اور کھوٹا الگ کر دکھایا

عرب جس پہ قرنوں سے تھا جہل چھایا
پلٹ دی بس اک آن میں اس کی کایا

رہا ڈر نہ بیڑے کو موجِ بلا کا
اِدھر سے اُدھر پھر گیا رخ ہوا کا
(الطاف حسین حالی)

اپنے سامنے قلم اور کاغذ رکھ لیں پھر نعت کے مذکورہ بالا اشعار کو گنگنا کر یا تحت الفظ میں ردھم کے ساتھ بار بار پڑھیں جب ایک سُر یا ردھم  بن جائے تو ایک شعر کا انتخاب کر کے چند منٹ تک اسے دہراتے رہیں پھر دہراتے دہراتے اسی سُر یا ردھم میں اپنے مصرعے لکھنا شروع کر دیں مشق کرتے ہوئے اگر محسوس ہو کہ ردھم ٹوٹ گیا ہے تو دوبارہ نعت کا شعر پڑھنا شروع کر دیں جب دوبارہ ردھم بن جائے تو پھر اپنے مصرعے بنانے شروع کر دیں۔
یہ نعت "فعولن فعولن فعولن فعولن" پر ہے اور آدھا مصرع "فعولن فعولن" ہو گا یعنی
فعولن فعولن فعولن فعولن
وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
 اور
 فعولن فعولن
وہ نبیوں میں رحمت
لقب پانے والا
جس کسی بحر پر مشق کرنا چاہیں مذکورہ بالا طریقے کے مطابق اس بحر میں کسی اچھے شاعر کے لکھے ہوئے چند اشعار کا انتخاب کر لیں۔ پھر انہیں پڑھتے ہوئے ردھم بنا کر اپنے اشعار کہہ لیں۔

مصرعے لکھ لینے کے بعد پرکھنے کا طریقہ

ایک کاغذ پر بڑا سا "فعولن فعولن" یا اس کی علامتیں "ادد ادد" لکھ لیں پھر اس وزن پر نظر کرتے ہوئے اپنا ایک مصرع اس طرح سے دہرائیں کہ زبان سے مصرع پڑھ رہے ہوں اور نظر سے وزن پڑھ رہے ہوں۔
 زبان سے جو ہجا ادا کر رہے ہوں آپ کی نظر وزن پر اس مقام پر ہو جس کے مقابل وہ ہجا آ رہا ہے۔

 مثال کے طور پر اگر اسی نعت کا پہلا مصرع وزن پر پرکھیں تو یوں ہو گا کہ جب منہ سے لفظ "وہ" ادا ہو رہا ہو تو فعولن کی "ف" پر نظر ہو اور دماغ اس چیز کو پرکھ رہا ہو کہ کیا لفظ "وہ" ف (یعنی ہجائے کوتاہ) کے مقابل آ سکتا ہے؟
اسی طرح "نَب" پڑھتے ہوئے "عو" پر نظر ہو اور "یوں" پڑھتے ہوئے "لُن" پر نظر ہو اس کے بعد مصرعے کے "میں" پر پہنچ کر نیا فعولن شروع ہو چکا ہو گا۔ "میں" پڑھتے ہوئے ف کو دیکھیں گے اور "رَح" پڑھتے ہوئے "عو" کو اور "مت" پڑھتے ہوئے یے "لُن" کو۔ اور ذہن سے یہ پرکھتے جائیں گے کہ وزن میں جہاں ہجائے بلند ہے مصرعے میں اس کے مقابل ہجائے کوتاہ تو نہیں آرہا؟
اس پیرے میں ہم نے بغیر لکھے زبان آنکھوں اور دماغ  کے تال میل سے آدھے مصرعے کی تقطیع کی۔
وہ۔نب۔یوں۔میں۔رح۔مت
ف۔عو۔لن۔ ۔ ۔ ۔ ف۔عو۔لن
ا۔ ۔ ۔د۔ ۔ د ۔ ۔  ۔  ۔ ا ۔ ۔د ۔  د
اسی طرح سے سارے مصرعے پرکھ لیں۔
شہزاد احمد کھرل

سبق سے متعلق ویڈیو لیکچر
https://youtu.be/jAFHHtWTYCs
۔ ۔ ۔ ۔ ۔

مشق

(الف)ان اوزان پر دس دس  جملے بنائیں

فعولن فعولن
فعولن فعولن فعولن فعولن
آپ پڑھ چکے ہیں کہ کچھ الفاظ ہجائے کوتاہ کے مقابل بھی لائے جا سکتے ہیں اور ہجائے بلند کے مقابل بھی اور حروف علت کو گرانے سے متعلق بھی پڑھ چکے ہیں تو شاعر کو ملنے والی رعائیتوں کو استعمال کرتے ہوئے جملے بنا لیں اپنے روز مرہ معمول پر بھی بنا سکتے ہیں جیسے
فعولن فعولن
اٹھا صُبْح جب میں
تو یہ میں نے دیکھا
نمازی مساجد
کو جاتے تھے اکثر
۔ ۔ ۔

(ب)لغت دیکھ کر ان الفاظ کے معانی لکھیں اور تقطیع کریں۔ دس الفاظ اپنی طرف سے بھی شامل کر لیں۔

اخفائے الف، حاصلِ کلام، نسخہء کیمیا، وسعتِ قلبی، شاملِ حال، دودِ چراغِ محفل، صبح نو، گل و بلبل، وہم و گماں، دیدہء نمناک

تقطیع اس طور پر کریں کہ جس ہجے سے متعلق آپ سمجھتے ہیں کہ شاعر کو اختیار ہے اس کے مقابل و لکھیں۔

(ج)
 ان الفاظ کی تقطیع اخفائے الف کا قانون لاگو کر کے کریں۔
درداتنا، روز ان کو، گھر آپ کا


#ادبی_ذوق
#تیسرا_سبق
#شاعری_کے_اوزان_سیکھیں
#شہزاد_احمد_کھرل
#تیسرا_ساکن
#ہجائے_کوتاہ
#آسان_عروض
#واؤ_معدولہ
#یائے_مخلوطہ
#واؤ_لین
#واؤ_معروف
#واؤ_مجہول
#adbizaoq
#poetry
#learning_poetry
#urdu_poetry
#shayri_k_aozan
#hijay_boland
#hijay_kotah

شاعری کے اوزان سیکھیں | آٹھواں سبق

آٹھواں سبق نئی ترتیب کے مطابق تقطیع کرنے کا طریقہ الفاظ کی تقطیع کرنے کا طریقہ ہم پڑھ چکے ہیں۔ اب اشعار کی تقطیع کر کے اشعار کی بحر معل...