آٹھواں سبق
نئی ترتیب کے مطابق
تقطیع کرنے کا طریقہ
الفاظ کی تقطیع کرنے کا طریقہ ہم پڑھ چکے ہیں۔ اب اشعار کی تقطیع کر کے اشعار کی بحر معلوم کرنے کا طریقہ جانتے ہیں۔
جس بحر پر ہم اچھی خاصی مشق کر چکے ہوں اس بحر پر لکھے گئے کلام کو پڑھتے ہوئے یا سنتے ہوئے اس کے ردھم سے پہچان سکتے ہیں کہ یہ کلام فلاں بحر پر ہے۔ لیکن ابتدا میں چونکہ تمام بحروں کے ارکان ازبر نہیں ہوتے اس لیے ہمیں کسی کلام کی بحر معلوم کرنے کے لیے باقاعدہ تقطیع کرنی پڑتی ہے۔
عام طور پر کسی کلام کی بحر محض ایک مصرعے سے نہیں پہچانی جا سکتی۔ جب کسی کلام کی بحر معلوم کرنی ہو تو کم از کم دو اشعار مدنظر رکھ کر اس کی بحر تک پہنچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ جیسا کہ گزشتہ اسباق میں بھی اسی بات پر زور دیا جاتا رہا ہے کہ لفظوں کی آوازوں پر غور کریں اور آوازوں سے ہجوں کو پہچاننے کی کوشش کریں۔ اسی طرح اشعار کی تقطیع کرتے ہوئے بھی اپنے اشعار میں آوازوں کے ذریعے ہجو کی پہچان کرنی ہے۔ اشعار دیکھیں۔
عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں
باعثِ ترک ملاقات بتاتے بھی نہیں
منتظر ہیں دمِ رخصت کہ یہ مرجائے تو جائیں
پھر یہ احسان کہ ہم چھوڑ کے جاتے بھی نہیں
داغ دہلوی
جو دو اشعار آپ نے تقطیع کے لیے منتخب کیے ہیں انہیں ردھم میں پڑھنے کی کوشش کریں۔ اگر آپ دونوں اشعار کے چاروں مصرعوں کو ایک ردھم میں پڑھنے میں کامیاب ہو گئے تو تقطیع بہت آسان ہو جائے گی۔
مصرع ردھم میں پڑھا گیا تو سمجھیں مصرعے میں موجود تمام ایک حرفی اور دو حرفی آوازوں کی تعداد اور ترتیب معلوم ہو گئی۔
سب سے پہلی چار آوازوں پر غور کریں اور ان چار آوازوں میں ایک حرفی آواز کی نشاندہی کے لیے "ا" اور دو حرفی آوازوں کی نشاندہی کے لیے "د" ترتیب سے لکھ لیں۔
پھر اگلی چار چار آوازوں پر غور کر کے انھیں علامتوں میں لکھتے جائیں اس طرح پورے مصرعے کی علامتی شکل آپ کے سامنے ہو گی۔
(نوٹ: جن ہجوں کے کوتاہ اور بلند باندھنے میں شاعر کو اختیار حاصل ہے ان کے کوتاہ یا بلند ہونے کا فیصلہ، ان کی آواز کے دورانیے سے کیا جائے گا اگر اس ہجے کو کھینچ کر لمبا پڑھا جا رہا ہے تو بلند ہے اسے "د" سے ظاہر کریں گے اور اگر مختصر پڑھا جا رہا ہے تو کوتاہ ہے اسے "ا" سے ظاہر کریں گے)
اب چاروں مصرعوں کو باری باری ردھم میں پڑھتے ہوئے اس بات کی تصدیق کر لیں کہ علامتی شکل درست لکھی گئی ہے اس کے بعد علامتی شکل کو افاعیل میں بدل لیں اگر افاعیل میں بدلنے میں دشواری پیش آئے تو بحروں کی فہرست کو سامنے رکھیں اور پہلی چار علامتوں کی بنیاد پر مطلوبہ بحر تلاش کر لیں۔
اور اگر آپ ان مصرعوں کو ایک ردھم میں پڑھنے میں کامیاب نہیں ہوئے تو پہلے مصرعے کی تقطیع اس طور پر کریں کہ ہجائے کوتاہ کی نشاندہی کے لیے "ا" لکھیں اور ہجائے بلند کی نشاندہی کے لئے "د" لکھیں اور جس ہجے کے بارے میں آپ یہ خیال کرتے ہیں کہ اس میں شاعر کو کوتاہ اور بلند باندھنے میں اختیار ہے اس کی نشاندہی "و" سے کریں۔ مصرعے کی ایک علامتی شکل حاصل ہو جائے گی اس علامتی مصرعے میں جہاں جہاں "و" ہے دوسرے تیسرے اور چوتھے مصرعے کی تقطیع کرتے ہوئے اسے "ا" یا "د" سے بدلیں۔ یعنی باقی مصرعوں کی تقطیع کرتے ہوئے کسی "و" کے مقابلے میں "ا" آ جائے تو اس "و" کو "ا" سے بدل لیں اور "د" آ جائے تو "د" سے۔ اس طرح ایک حتمی شکل سامنے آ جائے گی۔ جیسے
عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں
باعثِ ترک ملاقات بتاتے بھی نہیں
منتظر ہیں دمِ رخصت کہ یہ مرجائے تو جائیں
پھر یہ احسان کہ ہم چھوڑ کے جاتے بھی نہیں
پہلے مصرعے کی علامتی شکل اس طرح سے سامنے آئے گی۔
عذ۔ر۔آ۔نے۔میں۔بھی۔ہے۔او۔ر۔ب۔لا۔تے۔بھی ۔ن۔ہی
د ۔ ۔ا۔د۔و ۔و ۔ ۔و ۔ ۔و ۔ د ۔ا۔ ا۔۔د۔ و۔ ۔و ۔ ۔ ا۔ ۔د
اب ہمیں "و" کے بارے میں حتمی فیصلہ کرنا ہے کہ جہاں جہاں "و" آئی ہے شاعر نے اس ہجے کو بلند باندھا ہے یا کوتاہ؟
پہلی "و" جو کہ مصرعے کا چوتھا ہجا ہے(گن لیں کیا واقعی علامتی مصرعے میں چوتھے نمبر پر "و" ہے؟) دوسرے مصرعے میں آنے والا چوتھا ہجا "تر" یہ فیصلہ کر دے گا کہ اس "و" کی جگہ "د" آنا چاہیے کیونکہ "تر" کو ہجائے بلند ہی باندھا جا سکتا ہے۔ اگر شاعر پہلے مصرعے میں چوتھے نمبر پر آنے والے ہجے "نے" کے مقابلے میں دوسرے مصرعے میں "تر" لایا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ پہلے مصرعے میں "نے" کو بھی شاعر نے ہجائے بلند باندھا ہے۔ (نہیں سمجھے تو دوبارا پڑھیں)
اسی طرح مصرعے کی علامتی شکل میں دوسری "و" جو کہ مصرعے کا پانچواں ہجا ہے اس کا فیصلہ چوتھے مصرعے کا پانچواں ہجا "ن" کر دے گا کہ اس "و" کی جگہ "ا" ہونا چاہیے کیونکہ اس مقابل آنے والا "ن" حتمی طور پر ہجائے کوتاہ ہے(مصرعوں میں دیکھ کر تصدیق کر لیں کس ن کی اور کس و کی بات ہو رہی ہے) اسی طرح علامتی شکل میں موجود تمام "و" کو "ا" یا "د" سے بدل لیں اس طرح ایک حتمی شکل سامنے آ جائے گی تو پھر اسے افاعیل میں بدل دیں گے تو بحر حاصل ہو جائے گی۔
حتمی شکل یہ حاصل ہو گی۔
د ۔ ا۔ د ۔ د۔ ا۔ ا ۔ د ۔ د ۔ ا۔ ا۔ د ۔ د ۔ ا ۔ا ۔ د
فاعلاتن فعِلاتن فعِلاتن فعِلن
چاروں مصرعے پڑھ کر تصدیق کر لیں۔
عیب تنافر
اگر مصرعے میں ایک لفظ جس حرف پر ختم ہو رہا ہے اس سے اگلا لفظ اسی حرف سے شروع ہو رہا ہو اور اس مقام پر پڑھتے ہوئے زبان اٹکے تو اسے عیب تنافر کہتے ہیں۔ جیسے
آپ بن میرا رہنا ممکن نہیں
اس مصرعے میں تین جگہ پر عیبِ تنافر ہے اور یہ عیب تنافر کی مختلف صورتیں ہیں۔
پہلی صورت جب جمع ہونے والے دونوں حرف متحرک ہوں جیسے اس مصرعے میں "میرا رہنا" وزن پورا کرنے کے لیے میرا کا الف گرایا گیا ہے اور یہاں "رَ" متحرک بچ گئی ہے۔ اور اس سے اگلا لفظ "رہنا" بھی "ر" متحرک سے شروع ہو رہا ہے۔ ایسی صورت میں جب جمع ہونے والے دونوں حروف متحرک ہوں تو عام طور پر پڑھنے میں دشواری نہیں ہوتی اس لیے عیب تنافر کا امکان کم ہوتا ہے۔
دوسری صورت یہ ہے کہ پہلا حرف ساکن ہو اور کسی ہجائے بلند کا حصہ ہو جیسے مزکورہ مصرعے میں "ممکن نہیں" میں "ممکن" کا ن ساکن ہے اور ہجائے بلند کا حصہ ہے جبکہ "نہیں" کا "ن" متحرک ہے اس صورت میں عیب تنافر کا احتمال ہو سکتا ہے۔ پڑھتے ہوئے اس مقام پر غور کریں اگر پڑھتے ہوئے یہ مقام زبان پر گراں گزرے یا سنتے ہوئے دونوں لفظوں کو الگ الگ پہچاننا مشکل ہو رہا ہو تو عیبِ تنافر ہے ورنہ نہیں ہے۔
تیسری صورت جب پہلا حرف ساکن ہو اور کسی ہجائے بلند کا حصہ نہ ہو۔ اس صورت میں عیب تنافر موجود ہوتا ہے۔ جیسے مزکورہ مصرعے میں "آپ بن" یہاں پ اور ب قریب المخرج ہیں یعنی منہ کے تقریباً ایک ہی مقام سے ادا ہوتی ہیں یہ دونوں مصرعے میں ایک جگہ پر جمع ہو گئی ہیں۔ اور پہلا حرف "پ" ساکن ہونے کے ساتھ ساتھ کسی ہجائے بلند کا حصہ بھی نہیں ہے ایسی صورت میں اگر "پ" کو پورا ادا کریں تو ہلکا سا سکتہ اختیار کرنا پڑتا ہے اور اگر روانی سے پڑھیں تو "پ" اگلے حرف "ب" میں مدغم ہو جاتی ہے اگر ایسے مقام پر "سکتہ" کی ضرورت موجود ہو تو کاما لگا کر اس عیب سے بچا جا سکتا ہے۔
ایک اور مثال
عشق کی میں داد دیتا ہوں
مصرعے میں دو مقامات پر عیبِ تنافر ہے۔
شتر گربہ
شتر اونٹ کو کہتے ہیں اور گربہ بلی کو۔
شتر گربہ کا مطلب یہ ہے کہ ایک ہی شعر میں کسی ایک کردار کے لیے محترم اور غیر محترم ہونے یا واحد اور جمع ہونے کے لحاظ سے مختلف الفاظ لائے گئے ہوں۔
یعنی ایک شعر میں آپ اپنے لئے ایک دفعہ "میں" اور دوسری دفعہ ہم کا لفظ استعمال کریں۔
یا کسی شخص کے لئے ایک دفعہ "آپ" اور دوسری دفعہ تم یا تو کا لفظ استعمال کریں۔
یا کسی واحد کے لیے ہیں، تھے وغیرہ کا لفظ لے آتے ہیں جو کہ جمع کے لیے ہونا چاہیے یا جمع کے لئے ہے، تھا وغیرہ لے آتے ہیں جو کہ واحد کے لیے آنا چاہئے ایسا عمل شتر گربہ کہلائے گا۔ جیسے
آپ آئے تو جی اٹھا ہوں میں
اب ہمیں چھوڑ کر نہ جانا تم
پہلے مصرعے میں آپ دوسرے میں تم
پہلے مصرعے میں "میں" دوسرے میں "ہمیں"
رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
فاعلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن
اس بحر کے پہلے ہجائے بلند کو ہجائے کوتاہ بھی باندھا جا سکتا ہے یعنی "فاعلاتن" کو "فَعِلاتن" بھی کیا جا سکتا ہے اور آخری رکن فعْلن کو "فَعِلن" بھی کیا جا سکتا ہے اس طرح کل چار صورتیں حاصل ہوتی ہے۔
فاعلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن
فَعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن
فاعلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فَعِلن
فَعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فَعِلن
اور یہ چاروں صورتیں کسی ایک کلام میں جمع کی جا سکتی ہیں۔ یعنی ایک کلام کا کوئی بھی مصرع ان چاروں میں سے کسی وزن پر بھی باندھا جا سکتا ہے۔
اس کے علاوہ بتایا گیا ہے کہ کسی بھی مصرعے کے آخر میں ایک حرف ساکن کا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
۔ ۔ ۔ ۔
نئی ترتیب کے مطابق
تقطیع کرنے کا طریقہ
الفاظ کی تقطیع کرنے کا طریقہ ہم پڑھ چکے ہیں۔ اب اشعار کی تقطیع کر کے اشعار کی بحر معلوم کرنے کا طریقہ جانتے ہیں۔
جس بحر پر ہم اچھی خاصی مشق کر چکے ہوں اس بحر پر لکھے گئے کلام کو پڑھتے ہوئے یا سنتے ہوئے اس کے ردھم سے پہچان سکتے ہیں کہ یہ کلام فلاں بحر پر ہے۔ لیکن ابتدا میں چونکہ تمام بحروں کے ارکان ازبر نہیں ہوتے اس لیے ہمیں کسی کلام کی بحر معلوم کرنے کے لیے باقاعدہ تقطیع کرنی پڑتی ہے۔
عام طور پر کسی کلام کی بحر محض ایک مصرعے سے نہیں پہچانی جا سکتی۔ جب کسی کلام کی بحر معلوم کرنی ہو تو کم از کم دو اشعار مدنظر رکھ کر اس کی بحر تک پہنچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ جیسا کہ گزشتہ اسباق میں بھی اسی بات پر زور دیا جاتا رہا ہے کہ لفظوں کی آوازوں پر غور کریں اور آوازوں سے ہجوں کو پہچاننے کی کوشش کریں۔ اسی طرح اشعار کی تقطیع کرتے ہوئے بھی اپنے اشعار میں آوازوں کے ذریعے ہجو کی پہچان کرنی ہے۔ اشعار دیکھیں۔
عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں
باعثِ ترک ملاقات بتاتے بھی نہیں
منتظر ہیں دمِ رخصت کہ یہ مرجائے تو جائیں
پھر یہ احسان کہ ہم چھوڑ کے جاتے بھی نہیں
داغ دہلوی
جو دو اشعار آپ نے تقطیع کے لیے منتخب کیے ہیں انہیں ردھم میں پڑھنے کی کوشش کریں۔ اگر آپ دونوں اشعار کے چاروں مصرعوں کو ایک ردھم میں پڑھنے میں کامیاب ہو گئے تو تقطیع بہت آسان ہو جائے گی۔
مصرع ردھم میں پڑھا گیا تو سمجھیں مصرعے میں موجود تمام ایک حرفی اور دو حرفی آوازوں کی تعداد اور ترتیب معلوم ہو گئی۔
سب سے پہلی چار آوازوں پر غور کریں اور ان چار آوازوں میں ایک حرفی آواز کی نشاندہی کے لیے "ا" اور دو حرفی آوازوں کی نشاندہی کے لیے "د" ترتیب سے لکھ لیں۔
پھر اگلی چار چار آوازوں پر غور کر کے انھیں علامتوں میں لکھتے جائیں اس طرح پورے مصرعے کی علامتی شکل آپ کے سامنے ہو گی۔
(نوٹ: جن ہجوں کے کوتاہ اور بلند باندھنے میں شاعر کو اختیار حاصل ہے ان کے کوتاہ یا بلند ہونے کا فیصلہ، ان کی آواز کے دورانیے سے کیا جائے گا اگر اس ہجے کو کھینچ کر لمبا پڑھا جا رہا ہے تو بلند ہے اسے "د" سے ظاہر کریں گے اور اگر مختصر پڑھا جا رہا ہے تو کوتاہ ہے اسے "ا" سے ظاہر کریں گے)
اب چاروں مصرعوں کو باری باری ردھم میں پڑھتے ہوئے اس بات کی تصدیق کر لیں کہ علامتی شکل درست لکھی گئی ہے اس کے بعد علامتی شکل کو افاعیل میں بدل لیں اگر افاعیل میں بدلنے میں دشواری پیش آئے تو بحروں کی فہرست کو سامنے رکھیں اور پہلی چار علامتوں کی بنیاد پر مطلوبہ بحر تلاش کر لیں۔
اور اگر آپ ان مصرعوں کو ایک ردھم میں پڑھنے میں کامیاب نہیں ہوئے تو پہلے مصرعے کی تقطیع اس طور پر کریں کہ ہجائے کوتاہ کی نشاندہی کے لیے "ا" لکھیں اور ہجائے بلند کی نشاندہی کے لئے "د" لکھیں اور جس ہجے کے بارے میں آپ یہ خیال کرتے ہیں کہ اس میں شاعر کو کوتاہ اور بلند باندھنے میں اختیار ہے اس کی نشاندہی "و" سے کریں۔ مصرعے کی ایک علامتی شکل حاصل ہو جائے گی اس علامتی مصرعے میں جہاں جہاں "و" ہے دوسرے تیسرے اور چوتھے مصرعے کی تقطیع کرتے ہوئے اسے "ا" یا "د" سے بدلیں۔ یعنی باقی مصرعوں کی تقطیع کرتے ہوئے کسی "و" کے مقابلے میں "ا" آ جائے تو اس "و" کو "ا" سے بدل لیں اور "د" آ جائے تو "د" سے۔ اس طرح ایک حتمی شکل سامنے آ جائے گی۔ جیسے
عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں
باعثِ ترک ملاقات بتاتے بھی نہیں
منتظر ہیں دمِ رخصت کہ یہ مرجائے تو جائیں
پھر یہ احسان کہ ہم چھوڑ کے جاتے بھی نہیں
پہلے مصرعے کی علامتی شکل اس طرح سے سامنے آئے گی۔
عذ۔ر۔آ۔نے۔میں۔بھی۔ہے۔او۔ر۔ب۔لا۔تے۔بھی ۔ن۔ہی
د ۔ ۔ا۔د۔و ۔و ۔ ۔و ۔ ۔و ۔ د ۔ا۔ ا۔۔د۔ و۔ ۔و ۔ ۔ ا۔ ۔د
اب ہمیں "و" کے بارے میں حتمی فیصلہ کرنا ہے کہ جہاں جہاں "و" آئی ہے شاعر نے اس ہجے کو بلند باندھا ہے یا کوتاہ؟
پہلی "و" جو کہ مصرعے کا چوتھا ہجا ہے(گن لیں کیا واقعی علامتی مصرعے میں چوتھے نمبر پر "و" ہے؟) دوسرے مصرعے میں آنے والا چوتھا ہجا "تر" یہ فیصلہ کر دے گا کہ اس "و" کی جگہ "د" آنا چاہیے کیونکہ "تر" کو ہجائے بلند ہی باندھا جا سکتا ہے۔ اگر شاعر پہلے مصرعے میں چوتھے نمبر پر آنے والے ہجے "نے" کے مقابلے میں دوسرے مصرعے میں "تر" لایا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ پہلے مصرعے میں "نے" کو بھی شاعر نے ہجائے بلند باندھا ہے۔ (نہیں سمجھے تو دوبارا پڑھیں)
اسی طرح مصرعے کی علامتی شکل میں دوسری "و" جو کہ مصرعے کا پانچواں ہجا ہے اس کا فیصلہ چوتھے مصرعے کا پانچواں ہجا "ن" کر دے گا کہ اس "و" کی جگہ "ا" ہونا چاہیے کیونکہ اس مقابل آنے والا "ن" حتمی طور پر ہجائے کوتاہ ہے(مصرعوں میں دیکھ کر تصدیق کر لیں کس ن کی اور کس و کی بات ہو رہی ہے) اسی طرح علامتی شکل میں موجود تمام "و" کو "ا" یا "د" سے بدل لیں اس طرح ایک حتمی شکل سامنے آ جائے گی تو پھر اسے افاعیل میں بدل دیں گے تو بحر حاصل ہو جائے گی۔
حتمی شکل یہ حاصل ہو گی۔
د ۔ ا۔ د ۔ د۔ ا۔ ا ۔ د ۔ د ۔ ا۔ ا۔ د ۔ د ۔ ا ۔ا ۔ د
فاعلاتن فعِلاتن فعِلاتن فعِلن
چاروں مصرعے پڑھ کر تصدیق کر لیں۔
عیب تنافر
اگر مصرعے میں ایک لفظ جس حرف پر ختم ہو رہا ہے اس سے اگلا لفظ اسی حرف سے شروع ہو رہا ہو اور اس مقام پر پڑھتے ہوئے زبان اٹکے تو اسے عیب تنافر کہتے ہیں۔ جیسے
آپ بن میرا رہنا ممکن نہیں
اس مصرعے میں تین جگہ پر عیبِ تنافر ہے اور یہ عیب تنافر کی مختلف صورتیں ہیں۔
پہلی صورت جب جمع ہونے والے دونوں حرف متحرک ہوں جیسے اس مصرعے میں "میرا رہنا" وزن پورا کرنے کے لیے میرا کا الف گرایا گیا ہے اور یہاں "رَ" متحرک بچ گئی ہے۔ اور اس سے اگلا لفظ "رہنا" بھی "ر" متحرک سے شروع ہو رہا ہے۔ ایسی صورت میں جب جمع ہونے والے دونوں حروف متحرک ہوں تو عام طور پر پڑھنے میں دشواری نہیں ہوتی اس لیے عیب تنافر کا امکان کم ہوتا ہے۔
دوسری صورت یہ ہے کہ پہلا حرف ساکن ہو اور کسی ہجائے بلند کا حصہ ہو جیسے مزکورہ مصرعے میں "ممکن نہیں" میں "ممکن" کا ن ساکن ہے اور ہجائے بلند کا حصہ ہے جبکہ "نہیں" کا "ن" متحرک ہے اس صورت میں عیب تنافر کا احتمال ہو سکتا ہے۔ پڑھتے ہوئے اس مقام پر غور کریں اگر پڑھتے ہوئے یہ مقام زبان پر گراں گزرے یا سنتے ہوئے دونوں لفظوں کو الگ الگ پہچاننا مشکل ہو رہا ہو تو عیبِ تنافر ہے ورنہ نہیں ہے۔
تیسری صورت جب پہلا حرف ساکن ہو اور کسی ہجائے بلند کا حصہ نہ ہو۔ اس صورت میں عیب تنافر موجود ہوتا ہے۔ جیسے مزکورہ مصرعے میں "آپ بن" یہاں پ اور ب قریب المخرج ہیں یعنی منہ کے تقریباً ایک ہی مقام سے ادا ہوتی ہیں یہ دونوں مصرعے میں ایک جگہ پر جمع ہو گئی ہیں۔ اور پہلا حرف "پ" ساکن ہونے کے ساتھ ساتھ کسی ہجائے بلند کا حصہ بھی نہیں ہے ایسی صورت میں اگر "پ" کو پورا ادا کریں تو ہلکا سا سکتہ اختیار کرنا پڑتا ہے اور اگر روانی سے پڑھیں تو "پ" اگلے حرف "ب" میں مدغم ہو جاتی ہے اگر ایسے مقام پر "سکتہ" کی ضرورت موجود ہو تو کاما لگا کر اس عیب سے بچا جا سکتا ہے۔
ایک اور مثال
عشق کی میں داد دیتا ہوں
مصرعے میں دو مقامات پر عیبِ تنافر ہے۔
شتر گربہ
شتر اونٹ کو کہتے ہیں اور گربہ بلی کو۔
شتر گربہ کا مطلب یہ ہے کہ ایک ہی شعر میں کسی ایک کردار کے لیے محترم اور غیر محترم ہونے یا واحد اور جمع ہونے کے لحاظ سے مختلف الفاظ لائے گئے ہوں۔
یعنی ایک شعر میں آپ اپنے لئے ایک دفعہ "میں" اور دوسری دفعہ ہم کا لفظ استعمال کریں۔
یا کسی شخص کے لئے ایک دفعہ "آپ" اور دوسری دفعہ تم یا تو کا لفظ استعمال کریں۔
یا کسی واحد کے لیے ہیں، تھے وغیرہ کا لفظ لے آتے ہیں جو کہ جمع کے لیے ہونا چاہیے یا جمع کے لئے ہے، تھا وغیرہ لے آتے ہیں جو کہ واحد کے لیے آنا چاہئے ایسا عمل شتر گربہ کہلائے گا۔ جیسے
آپ آئے تو جی اٹھا ہوں میں
اب ہمیں چھوڑ کر نہ جانا تم
پہلے مصرعے میں آپ دوسرے میں تم
پہلے مصرعے میں "میں" دوسرے میں "ہمیں"
رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
فاعلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن
اس بحر کے پہلے ہجائے بلند کو ہجائے کوتاہ بھی باندھا جا سکتا ہے یعنی "فاعلاتن" کو "فَعِلاتن" بھی کیا جا سکتا ہے اور آخری رکن فعْلن کو "فَعِلن" بھی کیا جا سکتا ہے اس طرح کل چار صورتیں حاصل ہوتی ہے۔
فاعلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن
فَعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن
فاعلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فَعِلن
فَعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فَعِلن
اور یہ چاروں صورتیں کسی ایک کلام میں جمع کی جا سکتی ہیں۔ یعنی ایک کلام کا کوئی بھی مصرع ان چاروں میں سے کسی وزن پر بھی باندھا جا سکتا ہے۔
اس کے علاوہ بتایا گیا ہے کہ کسی بھی مصرعے کے آخر میں ایک حرف ساکن کا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
۔ ۔ ۔ ۔
